ذوالفقارعلی بھٹو تختہ ٔ دار پر اورخوا ب بکھر گئے

 قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی 39ویں برسی آج ملک بھر میں عقیدت واحترام سے منائی جارہی ہے۔ پیپلزپارٹی کے زیر اہتمام مختلف تقاریب ہوں گی۔ جس میں بھٹو کی سحر انگیز شخصیت اور جمہوریت کے لیے اُن کی خدمات پر روشنی ڈالی جائے گی۔ راولپنڈی میں پھانسی گھاٹ سمیت مختلف مقامات پر قرآن خوانی کی محافل ہونگی۔ سب سے بڑی تقریب گڑھی خدا بخش میں ہوگی۔ برسی میں شرکت کیلئے ملک بھر سے جیالوں کے قافلے تقریب میں شرکت کریں گے۔تاریخ کے اوراق میں بھٹو کا حوالہ کسی قوم یا قبیلے سے نہیں بلکہ بھارت کے ضلع حصار میں اس نام سے ایک گاؤں تھا جو اب بھی دریائے سرسوتی کے کنارے آباد ہے۔ اس دریا کے خشک ہونے کے باعث جب وہاں قحط پڑا تو برسہا برس سے آباد وہاں کے مکینوں نے نقل مکانی کی اور لاڑکانہ میں آباد ہوئے ۔ تاہم بھٹو گاؤں کی نسبت سے بھٹو خاندان بھٹو کہلایا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پیدائش پانچ جنوری 1928 کو لاڑکانہ میں ہی ہوئی جو سرشاہنواز کے تیسرے بیٹے تھے ۔ جنہیں حکومت برطانیہ نے سرکا خطاب دیاتھا۔ کیونکہ سیاست ہند میں اُنہیں ایک اہم حیثیت اور بڑا مقام حاصل تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو اپنے خاندانی پس منظر ، حسب نسب اپنی اعلیٰ تعلیم و تربیت اور پھر بعد میں عوام کی پسندیدگی ، مقبولیت اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی پر بھی بڑا زغم تھا جو ایک فطری سے بات تھی اور یہی وجہ تھی کہ اُن کے ناقدین اُنہیں قدرے خود سر، انا پرست اور فیصلوں میں عدم مشاورت کرنے والی شخصیت بھی قرار دیتے تھے ۔ اور اُن کی غیر فطری موت کو انہی عوامل کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں ۔ اس حوالے سے یہ واقعہ بھی بر محل ہوگا کہ جو ریکارڈ پر ہے ۔ جنرل ضیاء الحق کے بعض رفقا اُنہیں یہ مشورے دے رہے تھے کہ بھٹو کو پھانسی دینے کی بجائے اُن سے رحم کی اپیل کراکے اُن سے ضمانتیں حاصل کرنے کے بعد بیرون ملک جانے پر آمادہ کرلیا جائے تو یہ زیادہ مناسب فیصلہ ہوگا لیکن جواب میں جنرل ضیاء الحق بھٹو صاحب کی اس گفتگو کا حوالہ دیا کرتے تھے جس میں وہ اپنی نجی محفلوں میں جرنیلوں کو الٹالٹکانے والی باتیں کیا کرتے تھے ۔ بہر حال ایک آخری کوشش کے طور پر ایک اعلیٰ افسر کو جیل میں بھٹو صاحب کے پاس بھیجا گیا۔ اُس وقت بھٹو صاحب کی کیفیات خاصی خراب تھیں ، مذکورہ افسر نے بھٹو صاحب کے سامنے رحم کی اپیل کی دستاویزات رکھیں اور اُنہیں فوجی حکومت کی پیشکش کو ’’اشارتاً‘‘ بیان کرتے ہوئے دستاویزات پر دستخط کرنے کے لیے قائل کیا۔ مذکورہ افسر کے مطابق بھٹو صاحب نے دستاویزات پر نگاہ ڈالے بغیر مجھ سے پوچھا  :تم جانتے ہو میں کس باپ کا بیٹا ہوں ۔ تو میں نے فوراً کہا جی سر ۔ آپ سر شاہنوازکے بیٹے ہیں ۔ پھر انہوں نے کہا کہ ۔ کیا تمہیں ضیاء الحق کے باپ کا نام معلوم ہے ؟ میری خاموشی پر انہوں نے کہا کہ ضیاء الحق اور مجھ میں بہت فرق ہے ۔ تم کیا سمجھتے ہو کہ سر شاہنواز کا بیٹا ایک فوجی جنرل سے رحم کی اپیل کرے گا۔ ہر گز نہیں ، ہر گز نہیں۔۔۔ اور بات ختم ہوگئی۔ تاہم اُس وقت کی تمام صورتحال سے آگہی رکھنے اور معاملات سے متعلق شخصیات کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ اگر ذوالفقار علی بھٹو اپنی زندگی کے لئے معافی مانگ لیتے اپیل کر دیتے تو پھر بھی جنرل ضیاء الحق کسی صورت بھی انہیں معاف نہیں کرتے اور معافی مانگ کر بھٹو صاحب کو تاریخ اور ان کے مخالفین ایک بزدل سیاستدان قرار دیتے۔ در حقیقت جنرل ضیاء الحق نے بھٹو صاحب کو ختم کرنے کا فیصلہ ایک خوف کے عالم میں کیا۔ یہ خوف کیا تھا اس کا اندازہ اس طرح بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جب بھٹو صاحب کو معزولی کے بعد پہلی مرتبہ مری سے راولپنڈی لایا گیا اور پھر وہ لاہور گئے تو ان کے شاندار استقبال کے لئے وہاں جمع ہونے والے لوگوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھی جو انتہائی پر جوش تھے اور عینی شاہد بتاتے ہیں کہ پیپلزپارٹی کے کارکنوں کا جو واقعی جیالے تھے اگر بھٹو صاحب حکم کرتے کہ’’ مجھے ایک آمر سے پناہ دو تو یہ کارکن انہیں حصار میں لے لیتے اور منظر بھی بدل جاتا اور تاریخ بھی‘‘۔ ضیاء الحق نے صورتحال کو بھانپ لیا تھا اور وہ سمجھ گیا تھا کہ اگر میں نے بھٹو کو زندگی بخش دی تو میری زندگی کی کوئی ضمانت نہیں ہوگی اسی خوف کے عالم میں جنرل ضیاء الحق نے ہر صورت میں بھٹو صاحب کو تختہ دار پر چڑھانے کا فیصلہ کیا۔ 
یہ بات بھی ریکارڈ سے ثابت ہوچکی ہے کہ بھٹو صاحب کو تین اور چار اپریل کی درمیانی شب لگ بھگ دو بجے پھانسی دی گئی یہ ایک غیر معمولی بات تھی کیونکہ پھانسی علی الصبح دی جاتی ہے اور یہ عمل انتہائی خاموشی اور رازداری کے انداز میں انجام دیا گیا۔اتنی رازداری سے بھٹو صاحب کو پھانسی دیئے جانے کا علم محض چند لوگوں کو ہی تھا اور ان کے بیرونی رابطے منقطع کر کے باہر جانے کے تمام راستوں پر بھی سخت پہرا تھا احکامات تھے کہ جب تک اجازت نہ دی جائے جیل میں کسی قسم کی بھی نقل و حرکت نہیں ہوگی۔ رات دو بجے پھانسی دینے کا مقصد یہ تھا کہ صبح ہونے سے پہلے یہ عمل مکمل ہوجائے اور ڈیڈ باڈی وہاں سے روانہ کر دی جائے۔ا نتظامیہ کے اعلیٰ حکام اور جیل کے اعلیٰ افسران کو ایک دو کو چھوڑ کر جنکی اس عمل میں موجودگی لازمی تھی بھٹو صاحب کو پھانسی دیئے جانے کے بارے میں تب علم ہوا جب صبح سات بجے ان کا ’’ڈیتھ وارنٹ‘‘ جاری ہوا۔ انتظامیہ اور جیل حکام اس کے باوجود اس خبر پر یقین کرنے کے لئے تیار نہیں تھے ان کا خیال تھا کہ یہ سب ڈرامہ ہے جو بھٹو صاحب کو خوفزدہ کرنے کے لئے رچایا جارہا ہے۔ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کا خیال تھا کہ شاید بھٹو صاحب کو میانوالی جیل منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں وہاں پھانسی دی جائے گی کیونکہ راولپنڈی میں یہ خبر پھیلنے سے ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ فوری طور پر پہنچ جائے گا اور پھر کارکنوں کی طرف سے فوری اور کسی جذباتی رد عمل کا بھی خطرہ تھا۔ پھر اس وقت صرف پاکستان پیپلزپارٹی میں ہی نہیں بلکہ دیگر حلقوں میں بھی ایسی باتیں ہورہی تھیں کہ یاسر عرفات اور قذافی سمیت اسلامی دنیا کے اہم لیڈر جو بھٹو صاحب سے ذاتی تعلقات رکھتے تھے وہ عین موقع پر ان کی رہائی کے لئے کوئی بڑا اقدام کر سکتے ہیں افواہیں گرم تھیں قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں جن میں یہ بھی کہا جارہا تھا کہ رات کی تاریکی میں کسی اسلامی ملک کا طیارہ جیل سے بھٹو صاحب کو لیکر پرواز کر جائے گا۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا اور بھٹو صاحب کو طے شدہ منصوبے کے تحت تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔یہ سوال بار بار ہوتا تھا کہ مختلف مسلم ممالک کے سربراہوں نے جنرل ضیاء الحق سے بار بار بھٹو صاحب کی جاں بخشی کے لئے اپیلیں کیں۔ جنرل ضیاء الحق پر اپنا ذاتی اثرو رسوخ بھی استعمال کیا۔ یہ یقین دھانی بھی کرائی کہ ہم بھٹو کو اپنے پاس پناہ دیتے ہیں وہ آپ کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے لیکن جنرل ضیاء کی طرف سے انکار ناقابل فہم تھا۔ اس حوالے سے بین الاقوامی شہرت یافتہ لکھاری اوربائیں بازو کی تحریکوں کے حوالے سے معروف طارق علی کا ایک انٹرویو کا حوالہ قابل ذکر ہے۔1985 میں انہیں برطانوی نشریاتی ادارے نے بھٹو حکومت ختم کئے جانے اور انہیں پھانسی دیئے جانے کے حوالے سے تین ڈرامے لکھنے کی پیشکش کی گئی تھی، انہوں نے یہ ڈرامے تحریر کیے اور بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ کو بھٹو صاحب کا کردار اور ضیاء محی الدین کو جنرل ضیاء الحق کا کردار کرنے کے لئے منتخب بھی کر لیا گیا کہ غیر متوقع طور پر ڈرامے کے سکرپٹ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے منگا لیے جس کے بعد اس منصوبے پر خاموش ہوگئی۔ طارق علی اپنے انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ میرے استفسار پر مجھے بتایا گیا کہ مارک ٹیلی (معروف برطانوی صحافی) آپ سے ملنے کے لئے آرہے ہیں آپ ان سے بات کریں۔ میری مارک ٹیلی سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے گفتگو کے دوران ایک موقع پر کہا کہ طارق تم نے اپنے سکرپٹ میں ایک جگہ برہنہ لفظوں میں تحریر کیا ہے کہ واشنگٹن کی رضا مندی اور اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی اجازت کے بغیر جنرل ضیاء الحق بھٹو کو پھانسی نہیں دے سکتے تھے۔ 
مارک ٹیلی کا کہنا تھا کہ بھٹو کی پھانسی کےو قت میں بھی پاکستان میں ہی تھا لیکن میں نے ایسی بات نہیں سنی جس پر میں نے اسے کہا کہ کیا تم نے اس حوالے سے امریکی سفارتخانے کے کسی باخبر سے رابطہ کیا تھا۔ میرے انکار پر اس نے بحث ختم کرنے کے لئے مطلب کی بات کی اور مجھ سے پوچھا کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ تم اپنے سکرپٹ میں سے یہ حصہ حذف کر دو کیونکہ امریکنز کا خیال ہے جنرل ضیاء الحق جس طرح ان کی مدد کر رہے ہیں اور بالخصوص افغانستان میں ان کے مقاصد کی تکمیل کر رہے ہیں واشنگٹن انہیں کسی طرح ناراض نہیں کرسکتا۔ تاہم میں نے انکار کرتے ہوئے اس موضوع کو ختم کر دیا۔ اس کے بعد طارق علی نے ان سکرپٹس کو کتابی شکل دی جو The Leapord and the Fox کے نام سے شائع ہوئی اس میں ذوالفقار علی بھٹو کو لیپرڈ کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اپنے ایک انٹرویو میں طارق علی نے جنرل ضیاء الحق پر امریکی آشیرآباد کے حوالے سے یہ بھی کہا تھا کہ جنرل ضیاء الحق کی عسکری تربیت کا بیشتر حصہ امریکہ میں گزرا اور پھر بحیثیت بریگیڈئیر ان کی تعیناتی بطور خاص اردن میں کی گئی جہاں انہوں نے مبینہ طور پر فلسطینیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی جسے وہ آج تک نہیں بھولے۔
یہ 3 اپریل کی شب تھی جب راولپنڈی کے اڈیالہ جیل میں ہر طرف موت کا ایک سکوت طاری تھا ۔ ایک پراسرار سی خاموشی جس میں ایک نئی تاریخ لکھی جانے کی تیاری ہورہی تھی ، ایک عہد جو ایک کربناک ماضی بننے والا تھا ۔ سوائے چند لوگوں کے کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ جب 4 اپریل کی صبح کا سورج نکلے گا تو کتنا بڑا چاند ہمیشہ ہمیشہ کیلئے غروب ہوچکا ہوگا۔اس موقع پر موجود عینی شاہد بہت کچھ دیکھنے والے اور پھر اُسے تحریر کرنے والے لکھتے ہیں ۔ بتاتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ رات کی تاریکی کائنات کی ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لینے لگی تو جیل حکام دوبارہ مسٹر بھٹو کے پاس پہنچے ۔ سپرنٹنڈنٹ جیل نے ان سے کہا "آج رات آپ کو پھانسی دے دی جائے گی۔"مسٹر بھٹو منہ سے کچھ نہ بولے ٗ خاموشی سے ٹکٹکی باندھے سپرنٹنڈنٹ جیل کو گھورتے رہے ۔ ان کے چہرے پر پھیلی ہوئی گھمبیر سنجیدگی دیکھی تو انہیں پہلی بار لمحہ بھر کے لیے محسوس ہوا کہ یہ خبر درست بھی ہوسکتی ہے تاہم اب بھی ان کا ردعمل یہی تھا کہ انہیں خوف زدہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ڈاکٹر نے قاعدہ کے مطابق ان کاطبی معائنہ کیا اور حکام کو بتایا کہ مجرم کی صحت بالکل ٹھیک ہے ٗ اسے پھانسی دی جاسکتی ہے ۔ سپرنٹنڈنٹ جیل اور دوسرے عہدے دار واپس جانے لگے تو مسٹربھٹو نے کہا مجھے شیو کا سامان فراہم کیاجائے ۔ انہوں نے کئی دن سے شیو نہیں کی تھی جس سے داڑھی کافی بڑھی ہوئی تھی ۔ مسٹربھٹو نے بڑھی ہوئی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے انگریز ی میں کہا کہ’’ میں اس داڑھی کے ساتھ نہیں مرنا چاہتا‘‘۔ انہوں نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ انہیں ایک جائے نماز اور تسبیح بھی فراہم کی جائے ۔
(بقیہ منگل کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)