دہشت گردانہ حملے میں بچی بنگلہ دیش ٹیم نیوزی لینڈ سے گھر واپس

ڈھاکہ/ نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ فائرنگ میں بال بال بچی بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم ہفتہ دیر رات وطن لوٹ آئی۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹوئٹر کے ٹیم کے محفوظ وطن لوٹنے کی جانکاری دی۔ کرائسٹ چرچ مسجد پر جمعہ کو ہوئے حملے کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے نیوزی لینڈ کے دورے کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ اس حادثے میں مہمان ٹیم کھلاڑی محفوظ بچ گئے ، لیکن حملے میں تقریبا 49 لوگوں کی موت ہوئی ہے اور 48 زخمی ہوئے ۔ ھیگلے اوول کے قریب بنگلہ دیش کی ٹیم مسجد میں داخل ہونے والی تھی تبھی مسجد پر حملہ ہو گیا۔ بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے درمیان کرائسٹ چرچ ٹیسٹ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بي سي بی) اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ساتھ بات چیت کرنے کے بعد منسوخ کر دیا گیا ہے ۔ جس وقت مسجد میں یہ حملہ ہوا، مکمل بنگلہ دیشی ٹیم اپنی بس میں موجود تھی اور اس واقعہ کی عینی گواہ بھی بنی۔ کھلاڑیوں کو پہلے کچھ دیر تک بس میں ہی روک دیا گیا، لیکن پھر تمام بس سے اتر کر بھاگتے ہوئے گراؤنڈ تک پہنچے ۔ تھوڑی دیر بعد کھلاڑیوں کو واپس ان کے ہوٹل لے جایا گیا۔ بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم جمعہ کو جس وقت نماز کے لئے مسجد جا رہی تھی تب ٹیم کا کوچنگ عملہ ہوٹل میں ہی موجود تھا جبکہ ٹیم کے ہیڈ کوچ اسٹیو روڈس گراؤنڈ پر موجود تھے ۔ لٹن داس اور نعیم حسن بھی اس وقت ہوٹل میں موجود تھے جنہیں فون کر ہوٹل میں ہی رکنے کی اطلاع دی گئی۔  نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے پر بنگلہ دیشی کھلاڑیوں نے کہاہے کہ انہوں نے جو دیکھا وہ کسی فلم کا منظر لگتا تھا، 3 منٹ پہلے بھی مسجد پہنچے ہوتے تو بچ نکلنا ناممکن تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے منیجر خالد مسعود نے کہا کہ کرائسٹ چرچ حملے کے وقت وہ اوران کے ساتھی کھلاڑی مسجد سے صرف 50 گز کے فاصلے پر تھے ،اگر 3 منٹ پہلے بھی مسجد پہنچے ہوتے توان کا بچ نکلنا ناممکن تھا۔ معمولی سا فاصلہ ان کی جان بچانے کا باعث بن گیا۔خالد مسعود نے کہا کہ انہوں نے جو دیکھا وہ کسی فلم کا منظر لگتا تھاجبکہ کچھ کھلاڑی وہ منظر دیکھ کر رو پڑے ۔بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے منیجر خالد مسعود نے مزید کہا کہ ٹیم کے 17 افراد 8 سے 10 منٹ تک بس میں اپنا سر نیچے کیے بیٹھے رہے تاکہ کوئی گولی انہیں نہ لگ جائے ۔پھر سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ شوٹر انہیں نشانہ بنا سکتا ہے ، بہتر ہے کہ یہاں سے بھاگ نکلیں۔کرکٹ بورڈ کے سربراہ نظم الحسن نے کہا کہ مسجد جاتے وقت بنگلہ دیشی ٹیم کے ساتھ کوئی سیکیورٹی اہلکار نہیں تھا۔