حرف ِ حق
امتیاز خان
آج جب دنیا مادی آسائشوں، ٹیکنالوجی کی سحر انگیزی اور ترقی کی دوڑ میں ہانپ رہی ہے، تو انسانی معاشرے سے وہ زریں اقدار خاموشی سے رخصت ہو رہی ہیں جو کبھی ہماری بقا اور اجتماعی زندگی کی بنیاد ہوا کرتی تھیں۔ انفرادیت پسندی، بے ہنگم مصروفیت اور خود غرضی کے اس پرآشوب دور میں جب کبھی ماضی کے دریچوں سے اپنے گائوں کی یادیں دستک دیتی ہیں تو روح کو ایک عجیب سا سکون میسر آتا ہے۔ تب شدت سے احساس ہوتا ہے کہ کائنات کی سب سے بڑی دولت بلند و بالا عمارتیں یا پرتعیش گاڑیاں نہیں، بلکہ وہ نفوس ہیں جنہوں نے محبت، خلوص، سادگی اور ایثار کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے۔
وادی کشمیر کی خوبصورت اور سرسبز سرزمین پر ایسے کئی گائوں آباد ہیں جنہوں نے اپنی تہذیب، ثقافت، علم، ادب اور روحانی روایات کے ذریعے ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔ ضلع بڈگام کا ایک گائوں ’دہرمنہ‘بھی انہی باوقار اور زرخیز بستیوں میں شمار ہوتا ہے۔ میرا تعلق اسی مٹی سے ہے، جو میرے لئے محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ ایک جیتا جاگتا احساس، ایک تہذیب اور ایک مکمل درسگاہ ہے۔ یہ محض گھروں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسی تہذیبی شناخت ہے جہاں علم کی روشنی، ادب کی لطافت، روحانیت کی خوشبو اور سادہ طرزِ زندگی کی خوبصورتی آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔تقریباً800کنبوں پر مشتمل یہ گائوں ضلع کے نمایاں دیہات میں شمار ہوتاہے۔ بدلتے وقت کے بے رحم تھپیڑوں کے باوجود اس بستی نے اپنے بزرگوں کے احترام، ہمسائیگی کے تقدس، رشتوں کی پاسداری اور باہمی اخوت کے روایتی حسن کو بڑی حد تک برقرار رکھا ہے۔
اس زرخیز مٹی نے ایسے نابغہ روزگار اہلِ علم، مایہ ناز شعراء اور ادبا کو جنم دیا جنہوں نے اپنے افکار، تحریروں اور لافانی کلام کے ذریعے معاشرے کی فکری و نظریاتی رہنمائی کی۔ یہاں کے علما ء نے دینی علوم کی ترویج و اشاعت میں وہ تاریخی کردار ادا کیا جو ہمیشہ سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔مولانا سید علائوالدین ، مولانا سید میرک شاہ ، مولانا سید مبارک شاہ، مولانا سید محمد یاسین اور مولانا شمس الدین عتیق جیسے علماء نے نہ صرف اس گائوں کو بلکہ قرب و جوار کے وسیع علاقے کو اپنی علمی بیداری اور دینی تعلیمات کے نور سے منور کیا۔ ان کی علمی و روحانی خدمات کے نقوش آج بھی دلوں پر ثبت ہیں۔دینی علوم کے ساتھ ساتھ ادبی افق پر بھی گائوں کے شعراء نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ مرحوم سید عتیق اللہ (المعروف عاشق کشمیری)، مرحوم سید محمد یاسین (المعروف پروانہ)اور مرحوم عبدالاحد ملک جیسے شعرا کے کلام میں محبت، انسانیت، اخلاقیات اور بالخصوص دینِ مبین سے گہری اور والہانہ وابستگی نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کا چھوڑا ہوا یہ علمی و ادبی سرمایہ نہ صرف دہرمنہ بلکہ پوری وادی کیلئے سرمایہِ افتخار ہے۔
مقامی انتظام وانصرام میں اگرچہ ’نمبردار‘کا کردار روایتی ہوتا ہے، مگر دہرمنہ کی تاریخ میں مرحوم محمد یوسف ملک کا نام ایک روشن باب کی مانند ہے۔ انہوں نے ماضیِ قریب میں جس خلوصِ نیت، بے لوث دیانت داری اور بے پناہ احساسِ ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دئے، وہ آنے والی نسلوں کیلئے مشعلِ راہ ہیں۔ انہوں نے باہمی تنازعات کا حل، سماجی روابط کی مضبوطی اور گائوں کی روایتی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کیلئے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی۔ اسی طرح اس گائوں نے قوم کو ایسے اساتذہ کی ایک کثیر تعداد دی ہے جنہوں نے نسلوں کی آبیاری کی، ہزاروں تشنگانِ علم کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا اور تاریک راہوں میں شعور کی شمعیں روشن کیں۔ آج بھی مختلف سرکاری و نجی اداروں میں اس بستی کے فرزند اپنی تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں، جو اس مٹی کے علمی مزاج کا بین ثبوت ہے۔
دہرمنہ کی روحانی اساس بھی نہایت مضبوط اور گہری ہے۔ یہاں کا آستانِ عالیہ، جہاں حضرت سید عبدالکریم خان صاحبؒ اور اُن کے برادر اصغر حضرت سید صالح خان صاحبؒ ابدی نیند سو رہے ہیں، زائرین اور عقیدت مندوں کیلئے ایک عظیم روحانی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر سال 5مئی کویہاں عقیدت و احترام کے ساتھ ان بزرگوں کاعرس منایا جاتا ہے، جس میں زائرین کا ہجوم امڈ آتا ہے۔ اس موقع پر آستانِ عالیہ سے متصل مسجد ’آستان مسجد‘میں عقیدت مند نماز عصر پر ہی جمع ہوجاتے ہیں اور عشا کی نمازتک ختمِ قرآن، درود و اذکار اور ختمات المعظمات کی محفلیں سجاتے ہیں۔ یہ روحانی اجتماعات صرف مذہبی رسوم تک محدود نہیں ہوتے بلکہ یہ دلوں کو جوڑنے، اخوت، محبت اور انسان دوستی کا آفاقی پیغام عام کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ مذہبی اعتبار سے یہ بستی اس لیے بھی خوش بخت ہے کہ یہاں کی مساجد سے گونجنے والی اللہ اکبر کی صدائیں اورجمعۃ المبارک و عیدین کے موقع پر عظیم اجتماعات اہل ایمان کے اتحاد، بھائی چارے اور شعور کی نوید سناتے ہیں۔جہاں دہرمنہ اپنے شاندار ماضی اور روایات پر نازاں ہے، وہیں کچھ محرومیاں بھی توجہ کی طلبگار ہیں۔ گائوں کا وسیع کھیل کا میدان یہاں کی نوجوان نسل کی پہچان ہے، مگر افسوس کہ اتنی بڑی آبادی کا یہ واحد مسکن آج بھی سرکاری عدم توجہی کا شکار ہے۔ اگر اسے جدید سہولیات اور بنیادی انفراسٹرکچر سے آراستہ کیا جائے تو یہ میدان ہمارے نوجوانوں کی مخفی صلاحیتوں کو نکھارنے، کھیلوں کے فروغ اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہاں کے نوجوانوں کے عزائم بلند ہیں، انہیں بس ایک سازگار ماحول اور بنیادی وسائل کی ضرورت ہے۔
دہرمنہ کی سب سے بڑی سحر انگیزی یہاں کے باسیوں کا خلوص اور ان کی سادگی ہے۔ یہاں کے لوگ آج بھی مہمان نوازی، بے لوث محبت اور باہمی ایثار کو ایمان کا حصہ سمجھتے
ہیں۔ زندگی کی دھوپ چھائوں ہو، خوشی کا سماں ہو یا غم کی گھڑی، پورا گائوں ایک وجودِ واحد اور ایک خاندان کی طرح ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑا نظر آتا ہے۔ یہی وہ گم گشتہ اقدار ہیں جو جدید دنیا میں عنقا ہو چکی ہیں، مگر اس گائوں نے انہیں اپنے سینے سے لگا کر محفوظ رکھا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ اس گائوں کی ہمہ جہت ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ کھیل کے میدان کی جدید خطوط پر استواری، تعلیمی اداروں کی مزید مضبوطی، ادبی سرگرمیوں کی سرکاری سرپرستی اور اس کے روحانی و ثقافتی ورثے کے تحفظ کیلئے ایک جامع اور دور رس منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی بستیاں اور تہذیبیں زندہ رہتی ہیں جو اپنی اصل شناخت اور روایات کو امانت سمجھ کر محفوظ رکھتی ہیں۔دہرمنہ صرف میرا گائوں نہیں، یہ میری روح کا حصہ، میری پہچان کا استعارہ اور میری یادوں کا امین ہے۔ اس کی گلیاں، اس کے کھیت، اس کے مینار و محراب، اس کی درسگاہیں، اس کے شعرا و اساتذہ، اس کا آستانِ عالیہ اور اس کے دل آویز لوگ اس حقیقت کا برملا اعلان ہیں کہ حقیقی ترقی کنکریٹ کے جنگلوں اور عمارتوں سے نہیں، بلکہ علم، کردار، روحانیت اور بلند انسانی اقدار سے ناپی جاتی ہے۔ دعا ہے کہ میرا گائوں ہمیشہ علم و ادب کا مینارِ نور، روحانیت کا مرکز، اخوت کا گہوارہ اور آنے والی نسلوں کیلئے ایک درخشاں مثال بن کر چمکتا رہے۔آمین