دُکھی انسانیت اور خدمتِ خلق

یہ سطور ضبط ِ تحریر میں لاتے ہوئے قلم کی زبان گْنگ ہوتی جارہی ہے  اور نوک ِ قلم سے غم کے دھبے سفید کاغذکوسیاہ بنا رہے ہیں۔ چنانچہ ہر طرف موت کی خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔قہر ِ الٰہی کہیے اسکو یا آفت ِ سماوی ،اپنے اعمال کا بدلہ کہیں اسکو یا خدا وند متعال کی ناراضگی غرض جو بھی ہومگرشام ِ غم ہی توہے،ستم ہی توہے،رنج و الم ہی تو ہے،حزن و ملال ہی تو ہے اور ایسا کیوں نہ ہو ،ہر جگہ بے گور و کفن لاشیں ہیں ،تڑپتے مریض ہیں،ویران بازار ہیں اور یہ سب پْرنم آنکھوں سے بزبانِ حال کہہ رہے ہیں لِمن الملک۔ باپ کو بیٹے کے ہاتھ نصیب نہیں ہور ہے ہیں، کفن کی کمی اور دفن کیلئے جگہ نہیں ۔عام لوگوں کے ساتھ ساتھ آئے روزدرجنوں اہل ِ دانش و بینش حضرات دنیائے فانی سے رخصت ہوتے جارہے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی تک تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ پیر ہو یا جواں،مرد ہو یا زن،صغار ہوں یا کبار،شاہ ہو یا گدا سب قیامت ِ صغرا کی اس گھڑی میں بے بس نظر آرہے ہیں۔ سچ مچ آج انسانیت دکھی ہے۔فی الواقع عام و خواص ملول و مضطرب ہیں۔ لیکن اس اضطراب اور انتشار میں مایوسی کی ردا اوڈھ کر ایک دوسرے کو کوسنے کی ضرورت نہیں ہے،دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کا طریقہ اختیار کرنا قطعاً مناسب نہیں بلکہ اس وقت احتیاط کرتے ہوئے ضرورت مند لوگوں کی امداد کرنے کی ذمہ داری کا فریضہ انجام دینے کی ضرورت ہے۔ آج اس قیامت خیز موڈ پر انسان سسک رہے ہیں،معصوم بچے بلک رہے ہیں،نادار اور مفلس بھوک سے مر رہے ہیں،ہزاروں ایسے بھی ہیں جوزرق برق لباس پہنے ہوئے نظر ضرور آتے ہیں لیکن اِنکی حالت پریشان کن ہوگئی ہے۔ قرضوں کے بوجھ تلے، بے روزگاری کے سیلاب میں، مرض کے عتاب میں ہر فرد بشر دم بخود ہوچکا ہے۔
پورے ملک کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کے یمین و یسار میں غم کی حکومت قائم ہے،انتشار کی کیفیت ہر سو طاری ہے،موت کا رقص جاری ہے،گھر سے لے کر سنسان بازار تک خوف کا سایہ ہے،دہشت کا موحول بپا ہے۔ پوری وادی سوگوار ہے ،ہسپتالوں میں مریضوں کی بھیڑ ہیں، متاثرین کا اژدھام ہے۔ہر ایک فردِ بشر ملول و مضطرب ہے۔گزشتہ ایک مہینے کی غیر یقینی صورتِ حال کے نتیجے میںبازار سنسان ہیں،دفتر ویران ہیں اور انسان حیران ہے کہ کب زندگی ایک بار پھر پٹری پر واپس لوٹ آئے۔ ایک طرف سے لوگ گھروں کے اندر محصور ہیں وہیں دوسری طرف غربت کی وجہ سے عام لوگ نانِ شبینہ کے محتاج بن چکے ہیں۔ چنانچہ چہار دانگ عالم میں غم کی آندھیاں چل رہی ہیں۔فرش سے لے کر عرش تک ہر کوئی لرزہ بہ اندام ہے۔ آخر ایسا ہو بھی کیوں نہ؟ خورد بینی وائرس نے انسانی سانسوں پر مضبوطی سے اپنا پہرہ بٹھا دیا ہے جب چاہیے تو جان لے سکتی ہے۔ بہر کیف وادی کشمیر میں گزشتہ کئی سال سے عام لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر دشوار گزار زندگی گزار رہے ہیں لیکن کشمیریت کی مثال برقرار رکھتے ہوئے یہاں کے درد دل رکھنے والے لوگوں نے ضرورت مند لوگوں کی اعانت کی۔موجودہ حالات میں معیشت کی کمر ٹوٹ چکی ہے،معاشرت کا تانا بانا بکھر کے رہ گیاہے،سماجی رابطے کم پڑے ہیں،فاصلے بڑے ہیں اور غریب اور نادار لوگوں کے ساتھ ساتھ متوسط لوگ بھی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پوری انسانیت من حیث القوم دکھی ہے،مغموم ہے،مجبور ہے اور محصور ہے۔ 
چنانچہ ان ناگفتہ بہہ حالات میں کون ایسا سنگدل ہوگا جسکے دل پر حالات نے اپنا اثر نہ ڈالا ہو،قلب و ذہن منتشر نہ کیا ہو۔ بہر کیف افرا تفری کے اس ماحول میں خدمت ِ کا فریضہ انجام دینے کے سلسلے میں انسانیت کی مثال زندہ رکھتے ہوئے مقامی سطح سے لے کر بلاک سطح تک،تحصیل سطح سے لے کر ضلع سطح خدمت خلق کا فریضہ انجام دینے کی ضرورت ہے۔ موجودہ وقت میں یہ کام انجام دینا ایک بڑی عبادت ہے۔ فارغ البال لوگوں کوآگے آنے کی ضرورت ہے،ملازمین کو آنے کی ضرورت ہے،علماء اور دانشور کو اس میدان میں کام کرنے کی ضرورت ہے،قلم کاروں اور غیر سرکاری تنظیمیں چلانے والے لوگوں کو اس وقت ترجیحی بنیادوںپر کام کرنے کی ضرورت ہے،دارالعلوموں سے وابستہ لوگوں کو بھی خدمت ِ خلق کی اہمیت و افادیت کو سمجھتے ہوئے یہ فرض نبھانے کی ضرورت ہے۔ دینی تنظیموں کو بھی اس کار خیر میں  اپنا رول ادا کرنا چاہیے۔یہ مصیبت کا ایک پہاڑ ہے جس سے معیشت دم توڈ بیٹھی ہے تو سماج میں رہنے والے ذی حس لوگوں کو متحرک ہونے کی ضرورت ہے وہیں دوسری طرف حالات کو بھانپتے ہوئے ہر کسی کوکفایت شعاری اور قناعت پسندی کا مزاج اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ فلک بوس محلات خالی ہورہے ہیں،بڑی بڑی گاڑیاں زنگ آلودہ ہورہی ہیں۔ان حالات میں دوسروں کی مدد کرنا، دوسروں کے کام آنا،دامے،درمے،سخنے اور قدمے کسی کی اعانت کرنا موجودہ وقت میں سب سے اہم کام ہے۔ یہ کام کسی اور کو نہیں کرنا ہے بلکہ یہ کام ہم سب نے مل کر کرنا ہے۔ مقامی سطح پر اجتماعی طور اسکو کام کو منظم انداز میں کیا جاسکتا ہے۔ لاریب اسمیں بہت ساری مشکلات دریش آئیں گی لیکن عنداللہ یہ ایک عظیم کام ہوگا۔ وادی کشمیر میں کام کرنے والی سبھی غیر سرکاری تنظیموں کو تھوڑی دیر کے لئے غور کرنا چاہیے کہ یہ ایک ایسی وادی ہے جہاں پہلے سے ہی یتیموں کی فوج ہے،بے روزگادی کا سیلاب ہے،غریب اور نادار لوگوں کا اژدھام ہے اور انکا کوئی ذریعہ آمدن نہیں۔ اب جبکہ سیاحت اور فروٹ بزنس بھی ختم ہے توحالات کس قدر خراب ہونگے۔ نجی اداروں میں کام کرنے والے لوگو ں کی حالت کیا ہوگی،قرضوں کے بوجھ تلے لوگوں کا جینا کیسے ممکن ہوگا تو ان چیزوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان بے یارو مدد گار لوگوں کا مسیحا بننے کی ضرورت ہے۔ سماج میں رہنے والے لوگوں کو تہہ کرنا ہوگا کہ اڑوس پڑوس میں رہنے والے لوگوں کی جملہ ضروریات کو کسی بھی حال پورا کیا جائے گیا۔ خدمت خلق کی مختلف صورتیں جنہیں ہم انجام دے سکتے ہیں۔مالی،جنسی اور بدنی طریقوں سے یہ کارِ خیر انجام دیا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں زیارت گاہوں میں موجودہ سجادہ نشین لوگوں کو بھی اپنی خاموشی توڑتے ہوئے دکھی انسانیت کی مدد کے لئے اپنا تعاون دینا چاہیے اور ان زیارت گاہوں اور وقف بورڈ کے زیر نگرانی قائم زیارت گاہوں میں موجود لاکھوں کروڑوں روپئے کی رقومات کا اس سے بہتر استعمال کیا ہوسکتا ہے کہ اگر سسکتی انسانیت کے لئے آکسیجن کنسنٹریٹرسکا انتظام ہوسکے۔ غریب اور نادار لوگوں میں یہ خطیر رقومات تقسیم ہوسکے اور مختلف علاقہ جات میں چھڑکائو کیا جاسکے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وادی میںقائم سینکڑوں زیارتوں جمع شدہ رقومات مخصوص لوگوں کے جیبوں میں چلا جاتا ہے۔ خدمت خلق ایک ایسی عظیم عبادت ہے جس سے فرش پہ رہنے والے کمزور لوگوں کی مشکلات کو کم کیا جاسکتا ہے،بیمار اور مقروض لوگوں کی پریشانیوں کا ازالہ کیا جاسکتا ہے، انسانیت کی مجموعی فلاح و بہبود کے لئے کام کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ حالات میں اگر یہ کارِ عظیم ہم سے از خود نہیں ہوسکتا ہے تو عملی میدان میں کام کرنے والے لوگوں کو کم سے کم تعاون دیا جاسکتا ہے تاکہ وہ ضرورت مند لوگوں کے پاس جاکر اُنکے مشکلات کو کسی حد تک حل کرسکیں۔