دو منٹ میں!

 یونان کے ایک چھوٹے سے قصبے اگزینیاؔ کی آبادی صرف پچیس ہزار افراد پر مشتمل تھی مگر قصبہ قدرتی حسن سے مالا مال اور آب و ہوا کے اعتبار سے بھی معتدل ہونے کے باعث یہاں سیاحوں کا تناتا بندھا رہتا تھا۔ہر سال دور و نزدیک سے ہزاروں کی تعداد میں سیاح اس خوبصورت جگہ پر آتے ، جس سے قصبے کی معیشت پر خاصا خوشگوار اثر پڑتا تھا ۔چونکہ یونانی زبان میں اگزینیاؔ کا مطلب خوش آمدید ہے، اس لئے اس تسمیاتی مناسبت سے بھی یہاں دنیا کے اطراف سے آئے مہمانوں کا استقبال بڑی خوش دِلی اور خوش اخلاقی سے کیا جاتا تھا ۔ظاہر ہے جہاں سیاحوں کا آنا جانا ہو یا بہ الفاظ دیگر جو سیاحتی مقام ہو، وہاں صحیح معنوں میں اخلاقی،ادبی یا کرداری پاکیزگی کماحقہ پس پردہ چلی جاتی ہے ، گرچہ ’’شائستگی ‘‘کے دائرے میں مختلف کام ہوتے ہیں مگر اُسے ٹاٹ میں مخمل کا پیوند کہہ سکتے ہیں ۔چونکہ مغربی برہنہ تہذیب کی چھاپ دنیا میں ہر جگہ پڑچکی ہے ،اس لئے سیاحتی مقامات اُس سے بری الذمہ کیسے رہ سکتے ہیں؟
ایک سیاح کا قیام مختصر ہوتا ہے اور اس مختصر قیام کے دوران وہ بلا شبہ روپیہ خرچ نہیں کرتا بلکہ پانی کی طرح بہا تا ہے اور اُس ذریں بہائو میں وہ اپنی خواہشات سے بھی بڑھ کر بہت کچھ چاہتا ہے ،کھل کر داد عیش دینا چاہتا ہے ۔ جب صورت حال ایسی ہو تو اخلاق کا کسی حد تک جنازہ نکل جاتا ہے اور بے راہ روی بڑھ جاتی ہے بلکہ پھل پھول جاتی ہے ۔چونکہ رب العالمین اہل دنیا کو ایک معینہ مدت تک خرافات اور لٹر مستی میں ڈھیل اس لئے مرحمت فرماتا ہے کہ مبادا فاعل سنبھل جائیں ،راہ راست پر آجائیں ،وہ رحیم ہے ،غفور ہے ،درگذر کے بہانے ڈھونڈتا رہتا ہے مگر انسان ہی نادان ہے جس کو کنسیشن کا یہ کارڈ کیش کرنا نہیں آتا۔پھر جب صورت حال حد سے تجاوز کرجاتی ہے تو قرآنی تنبیہہ کے مطابق :-
حقیقت یہ ہے کہ تیرا پروردگار بدعملی کی سزا دینے میں دیر کرنے والا نہیں ہے ۔(الاعراف ۔آیت  167)
 قدرت جب کسی پر آفت نازل کرتی ہے ،کسی بستی کو تاراج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو پھر اچانک اور آناً فاناً اُسے دبوچ لیتی ہے ۔تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ بہت سی بدبخت قومیں اپنی سرکشی اور بد افعالی کی پاداش میں قدرت کے شدید ترین عذاب سے اچانک دوچار ہوگئیں اور چند ثانیوں میں صفحہ ٔ ہستی سے مٹ کر نیست و نابود ہوگئیں۔
3اپریل 1974ء سے ایک روز قبل اگزینیاؔ کے باشندوں نے ریڈیو پر یہ پیغام سنا کہ موسم غیر معمولی ہے اور پریشان کن ثابت ہوسکتا ہے ۔اس لئے بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے مگر چونکہ وہ لوگ عیش کوشی میں مست تھے ،انہوں نے اُس نشریئے کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا بلکہ یوں کہا جاسکتا ہے کہ کوئی پرواہ نہ کی ، کیونکہ اس سے قبل بھی وہ اس طرح کی اطلاعات سنا کرتے تھے اور اتفاق سے عام طور پر حالات پُر سکون ہی رہا کرتے تھے یا کبھی معمولی سے بگڑ جاتے تھے۔
اُس دن اچانک شام کے ساڑھے چار بجے کے قریب ایک سرسراہٹ سے آغاز ہو جو بعد میں ایک دہشت انگیز آواز اور گرج کی صورت اختیار کرگئی اور ایک گردابی طوفان ِ باد بن کر ہر اُس چیز کو روند نے اور تاراج کرنے لگی جو اُس کی راہ میں آئی۔وہ گرداب بلا خیز ایک سو چالیس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہر طر ف دہاڑ اور چنگاڑرہا تھا اور ہر ایک چیز کو خس و خاشاک کی طرح اپنے ساتھ اُڑا کر لے جارہا تھا ،
آفت کے آتے ہی لوگ اپنی شیطانی قہقہے ،بد فعلیاں اور خر مستیاں بھول کر اندھا دھند اپنی جان بچانے کے لئے محفوظ پناہ گاہوں کی طرف دوڑنے لگے ۔ طوفان کے زور سے مکانات تنکوں کی طرح فضا میں اُڑ گئے اور بعد میں جن کا نام و نشان تک نہ ملا ۔ایک عورت اپنی تہہ خانے سے طوفان کا زور اور حالات کا مشاہدہ کرنے کے لئے نکلی تو اُس نے تہہ خانے کے اوپر سے باقی گھر غائب پایا ۔اُس کی کار ایک درخت پر ٹنگی ہوئی تھی ۔ایک جوڑا ایسا تھا جس کی کل کائنات لاپتہ تھی صرف جوتوں کا ایک جوڑا پتہ نہیں کس طرح بچا تھا ،اُس نے غصے میں آکر وہ بھی طوفان کی نذر کردیا ۔پُر آشوب طوفان گر ج رہا تھا اور اگزینیا ؔ تاراج ہورہا تھا ۔کچھ خواتین بیوٹی پارلر میں بیٹھیں اپنے آپ کو حسین بنا رہی تھیں کہ اچانک اُن کو طوفان نے آدبوچا اور موت کے بد صورت چہرے کے ساتھ ہمکنار کردیا ۔ایک عورت کا قیلولہ ہی اُس کے لئے ہمیشہ کی نیند ثابت ہوا ۔ایک ریلوے سگنل مین اُس وقت ہلاک ہوا جب وہ آرام کی خاظر اپنے گھر کی جانب جارہا تھا ۔
قصبہ کے لوگ دہشت زدہ ہوکر پاگلوں کی طرح چیخ رہے تھے ۔سارا علاقہ ہیرو شیماؔ نظر آرہاتھا ،سڑکوں پر چھ فٹ سے زیادہ اونچا ملبہ جمع ہوچکا تھا ۔مرنے والوں میں سے کچھ لاشیں ناقابل شناخت تھیں ۔امدادی ٹیمیں سرگرم عمل تھیں اور زخمیوں کے علاج و معالجہ کے لئے ہنگامی ہسپتال قائم کئے گئے تھے ،مگر لوگ زخموں سے زیادہ رنج والم کے صدمات سے ہراساں تھے ۔ اگلی صبح نقصان کا اندازہ لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ صرف ایک سو بیس سیکنڈ یعنی صرف دو منٹ کے اندر تیرہ سو عمارتیں تباہ ہوئیں جب کہ دیگر چونتیس سو عمارات کو نقصان پہنچا ۔سکول کی تین بسیں کار پارکنگ سے میلوں دور پائی گئیں اور ایک پولیس مین کا بیج اور ٹوپی پانچ میل دور ایک درخت پر پائی گئی ۔بھاری فرنیچر کے پرخچے اُڑ گئے تھے اور کاریں کھلونوں کی طرح درختوں پر جھول رہی تھیں ۔اگرچہ صرف اٹھائیس افراد ہلاک ہوچکے تھے مگر زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔طوفان سے ایک گھنٹہ قبل سنٹرل جونیئر ہائی سکول سے پندرہ سو بچے رخصت ہوگئے تھے مگر ایک گھنٹے کے بعد سکول کی عمارت ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکی تھی۔آج بھی 3؍اپریل کو ہر سال اگزینیا ؔ اوہو کے لوگ سنہ 1974 ء کے اُس طوفان ِ بلا خیز کو یاد کرکے لرز اُٹھتے ہیں اور ہلاک شدگان کے حق میں دعائیں کرتے ہیں ،گرجوں میں شمعیں جلاتے ہیں اور اپنے گناہوں پر تاسف کرتے ہیں ۔طوفان کے اُن دو منٹوں کو وہ قیامت کی ایک جھلک تصور کرتے ہیں۔
………………….
رابطہ:- پوسٹ باکس :691جی پی او  رینگر-190001،کشمیر
  موبائل نمبر:-9419475995