دو مرحلے کی پولنگ کے بعد دیدی کی نیند اڑی:مودی

ایٹہ// اترپردیش میں ایس پی۔ بی ایس پی۔ آر ایل ڈی اتحاد کو ہدف تنقید بناتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ذاتی مفاد کے خاطر سماج وادی پارٹی(ایس پی) اور بی ایس پی نے اتحاد کیا ہے لیکن 23 مئی ان کے اتحاد کا آخری دن ہوگا۔مسٹر مودی نے رام لیلا میدان میں منعقد ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہوا کا رخ بتایا ہے کہ انتخابی لڑائی طے ہوچکی ہے ۔ دہلی میں بیٹھے لوگ کہتے ہیں کہ کوئی لہر نظر نہیں آرہی ہے ۔اے سی کمروں میں بیٹھ کر عوام کے مزاج کو نہیں پہچاناجاسکتا ہے ۔ پہلے دو مرحلوں کی ووٹنگ کے بعد جو مودی کو گالی دیتے تھے اب ان کا چہرہ لٹک گیا ہے ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ یہ انتخاب ذاتی مفادات کے تحت ملک کو مذہب اور ذات کی بنیاد پر بانٹنے والے اور ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کرنے والوں کے درمیان ہورہا ہے ۔مودی نے کہا کہ ایس پی۔بی ایس کے جھنڈے الگ ہیں لیکن ان کی نیت ایک جیسی ہے ۔حکومتیں تبدیل ہوئیں لیکن کاروباریوں اور کسانوں کو لوٹنے کا کام ایک جیسا ہوتا تھا۔ بوا۔ببوا کے میعاد کار میں دلتوں پر مظالم کو سب نے دیکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایس پی حکومت کے میعاد کار میں نظم ونسق کا برا حال تھا۔ان کے اقتدا میں بیٹیوں کا اسکول جانا کافی مشکل ہوگیا تھا۔مسٹر مودی نے کہا کہ یو پی کی عوام دشمن کو دوست بنانے والوں کے ساتھ کبھی نہیں جاسکتے بلکہ ملک کے وقار کو بلند کرنے والی حکومت کے حمایت میں کھڑے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ‘‘ آج دنیا میں ہندوستان کا نام روشن ہورہا ہے ۔ ہندوستان کا احترام ساری دنیا کررہی ہے ۔ ملک کی سیکورٹی کو اس حکومت نے ترجیح دی ہے ۔ ملک کو دہشت گردی سے آزادی دلانے اور کے مکمل خاتمے کے لئے کام کیا ایس پی۔بی ایس پی کے بس کی بات نہیں ہے ۔ دونوں ملکر بھی اس کا سامنا نہیں کرسکتے ۔یہ کام صرف مودی اکیلے نہیں بلکہ آپ تمام کا ایک ایک ووٹ کرے گا۔ہم سب چوکیدار مل کر یہ کام کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں سیکورٹی اور اسے بدعنوانوں اور دلالوں سے بچانا ہی ہماری ترجیح ہے ۔ اسی کی چوکیداری ہم سب کو ملکر کرنی ہے ۔ ایس پی۔بی ایس پی خیمے میں پہلے سے ہی کھبلی مچی ہے ۔ 2017 کے انتخابات میں بھی ایک اتحاد ہوا تھا اس کا کیا حشر ہوا۔ اب ذاتی مفادات کی تکمیل کے لئے ایک نیا اتحاد ہوا ہے ۔ اس کے لئے بھی آخری دن 23 مئی ہے ۔ وزیر اعظم نے طنز کستے ہوئے کہا‘‘ ایس پی۔ بی ایس پی نے غریبوں کی سیاست کرنے کا دم بھر کے اپنا بینک بیلنس بڑھایا ہے ۔ یہ سارے مہا ملاوٹی ہیں۔ان کے کام کرنے کا طریقہ ایک ہے ۔ہرغریب کو گھر دینے کے منصوبے کے تحت ہم اس ضمن میں مسلسل کام کرر ہے ہیں۔لیکن یو پی یوگی حکومت آنے سے قبل اپنے آپ کو سماج وادی بتانے والوں نے غریبوں کے گھر بنانے کے بجائے سارا دھیا ن اپنے بنگلے پر مرکوز کیا۔ ہم نے دہلی سے خط لکھ کر م مسلسل ان سے اصل مستحقیق کی فہرست مانگی لیکن وہ انہوں نے اس جانب کوئی دھیان نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ اترپردیش نے پہلے ہمیں ‘‘ ایم پی’’ بنایا اور پھر اس کے بعد ‘‘ پی ایم’’ بنایا۔ یو پی کے اس احسان کی وجہ سے ہماری ترجیحات میں یو پی سرفہرست ہے ہم ہر وقت یو پی کی فکر رہتی ہے ۔ لیکن اترپردیش کی سابقہ حکومت اس ضمن میں کام نہیں کرنے دے رہی تھی ۔یہ تو اچھا ہوا کہ آپ نے 2017 کے اسمبلی انتخابات میں ایسی حکومت کو تبدیل کرکے ریاست کی باغ ڈور یوگی کی ہاتھوں میں دی ۔جو ریاست کی ترقی کے لئے دن رات کام کررہے ہیں۔ملک کی سیکورٹی پر لوگوں کو جذبات کو ابھارتے ہوئے ایک بار پھر مسٹر مودی نے کہا کہ ملک کی سیکورٹی کے پیش نظر آپ کا ایک ایک ووٹ قیمتی ہے ۔آپ کا ووٹ ہی اس بات کو طے کرے گا کہ ملک کن لوگوں کو ہاتھ میں ہو۔ اپنے خطاب کے آخر میں مودی نے ‘‘ گھر گھر میں ہے چوکیدار، بدعنوانوں ہوشیار، بند ہوگا کالا کاروبار، آتنگ پر ہو آخری وار، داغ دار پر بھاری کام گار۔ جیسے نعرے لگوائے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ ابتدائی دو مرحلے کی پولنگ کے بعد ‘اسپیڈ بریکر دیدی’ (ممتا بنرجی) کی نیند اڑ گئی ہے اور 23 مئی کو لوک سبھا انتخابات کے نتائج آنے کے بعد انہیں پتہ چل جائے گا کہ لوگوں کے پیسے لوٹنے اور ان کی ترقی روکنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے ۔ مسٹر مودی نے 17 ویں لوک سبھا کے لئے تیسرے مرحلہ کی پولنگ سے پہلے یہاں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا‘‘میں یہاں کے لوگوں کے زبردست ردعمل سے متحیر ہوں. ابتدائی دو مرحلے کی پولنگ نے ‘اسپیڈ بریکر دیدی’ کی نیند پر ‘بریک’ لگا دی ہے ’’۔ انہوں نے محترمہ ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی لہر میں بہہ رہا ہے اور ملک کہہ رہا ہے کہ اس ریاست میں کچھ بڑا ہونے والا ہے ۔ یہ صاف کرتے ہوئے کہ بی جے پی کے خلاف پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، مسٹر مودی نے کہا‘‘بنگال میں انتظامیہ مکمل طور ناکام ہو چکا ہے اور یہ سماج دشمن عناصر کا اڈہ بن گیا ہے جس کے لئے تاریخ، مستقبل اور ریاست کے عوام ممتا بنرجی کو کبھی معاف نہیں کریں گے ’’َ۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش اور آسام میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد قانون کے علاوہ حالات میں کافی بہتری آئی ہے ۔ انھوں نے کہا‘‘پھوپھی-بھتیجے (ممتا-ابھیشیک) کی جوڑی نے بنگال کی ثقافت کو بدنام کر دیا ہے اور ترنمول کانگریس ‘جگائی-مدھائی ’ کی پارٹی بن گئی ہے . وزیر اعلی ان لوگوں کو انصاف دلانے میں مکمل طورپر ناکام رہی ہیں، جنہوں نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا تھا’’۔ مسٹر مودی نے کہا کہ بنگال حکومت اپنے ملازمین کو مہنگائی بھتہ دینے اور تنخواہ کمیشن کی سفارشات کو لاگو کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ انہوں نے کہا‘‘مجھے لگتا تھا کہ ممتا بنرجی ایمانداری کی دیوی ہیں لیکن بعد میں مجھے پتہ چلا کہ وہ کرپشن اور بھتہ وصولی کرنے والے لوگوں کے ساتھ ہمیشہ کھڑی ہوتی ہیں’’۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 23 [؟][؟]مئی کے انتخابات کے نتائج میں بنگال میں ‘غنڈا راج’کے خاتمے کا عکس نظر آئے گا۔ انہوں نے کہا‘‘یہ حیرت کی بات ہے کہ دیدی کے پاس غنڈوں کو بانٹنے کے لئے پیسے ہیں لیکن اپنے ملازمین کو مہنگائی بھتہ دینے کے لئے پیسے نہیں ہیں’’۔مسٹر مودی نے ایک بار پھر دو ھرایا کہ دیدی کو ملک کی فوج پر بھروسہ نہیں ہے اور یہ کہ انتخابات جیتنے کے لئے دیدی دہشت گردوں کی مدد لینے سے بھی پیچھے نہیں ھٹیں گی. انھوں نے الزام لگایا کہ اس ترنمول حکومت نے گھس پیٹھیوں(در اندازوں) کے ساتھ کھڑے ہونے کے علاوہ اورکچھ نہیں کیا۔ انہوں نے لوگوں سے مضبوط اور ترقی یافتہ ہندوستان کے لئے مرکز میں بی جے پی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی اپیل کی۔