دوشیزہ ٔ ابر ۔۔۔۔ آخری قسط

Caleton University میںPromoting Regional Languages in Literature کے موضوع پر بولنا تھا اور شاعری بھی سنانا تھی۔ شام کوSenate Boardroomمیں استقبالیہ تھا اور اس کے بعد دانش گاہ کےRobert Hall میں عشائیہ تھا، جس میں انگریزی ریسرچ سکالرز سے لے کر پروفیسرز ، ادباء و شعراء شامل ہوئے ۔ بعد دوپہر تک سیروتفریح کے پروگرام کے بعدChallenges of Multilingual Cultureکے موضوع پر بحث و مباحثہ تھا۔ ہمیں، معاصر ہندوستانی ادب (Contemporary Indian Literature)پر پرچہ پڑھنا تھااور پھر استقبالیہ وغیرہ۔دونوں دن دو ذہین خواتین نے بحث کا آغاز کیا۔ڈاکٹر کرسٹین برائیٹ اوروہاں پر مقیم انڈیا کی ڈاکٹر گوپیکا سولنکی۔پُر مغز گفتگو میں سب نے حصہ لیا۔
ہمیں Ottawaمیں 1941سے قایم Lord Elgin میںٹھہرایا گیا تھا،جو ایسا ہی تھا جیسے دنیابھر بشمول ہندوستان میں اعلیٰ ہوٹل ہوا کرتے ہیں۔ اور کوئی خاص بات نہ تھی۔ مستعدعملہ اور خوبرو رِسیپشنسٹس۔ ہاں ، وہاں آپ غسل خانے کے نل کا پانی پی سکتے ہیں جیساکہ یورپی ممالک میں بھی ہے۔ ہم کو اپنی پسند کی چائے خود بنانے کا شوق ہے۔ لہٰذا ہم نے پانی طلب کیا تو نازک سی خاتون نے روم سروس سے آکر ہمیں واش بیسن کے نل سے خود پانی پی کر یقین دلایاکہ یہ پانی پیا بھی جا سکتا ہے۔ 
 خطِ اسطوا سے دور شمال میں واقع ہونے والے ا یسے معاملات تھے کہ صبح کے سات بجے تک آسمان کے کناروں کا رنگ نہیں بدلا تھا۔ اس کے بعد کہیں افق کے قریب مبہم سی قرمزی لکیر نے بتایا تھا کہ سحرہونے والی ہے۔ گوکہ ماہِ اکتوبر تھا مگر اتنی تاخیر سے روشنی ہوتے ہم نے پہلے  پہل وہیں دیکھی تھی۔ دریچوں سے باہر صبح بیدار ہوئی تو ہوٹل کی تقریباً درجن بھر منزلوں کی اوپری منزل سے دیکھنے پرخزاں رنگ درختوں کی چوٹیوں کی بہار پتوں کے سبزی مائل قر مزی فرش کی طرح پھیلی تھی۔ پرندوں کے گھونسلے کھڑکیوں سے بہت نیچے درختوں میں تھے۔ اور دبیز شیشوں کے باہر بھلا اتنی اونچائی پر پرندے کیا کرنے آتے۔شاز و نادر ہی کوئی پرندہ اڑتا نظر آ جاتا۔
اگلے روز ،وینکوور(Vancouver) کے لئے نکلنا تھا،صبح سات بجے۔ جہاز کے دریچوں کے باہر صبح روزانہ سے کچھ زیادہ حسین تھی۔ہوٹل چھوڑتے وقت ہی سے بوندیں برستی رہی تھیں۔بادلوں کی ایک سفید چادر سی بچھی تھی۔چادر کے اوپر گہرے نیلے شفاف آسمان کے کنارے پر سورج کا ایک ٹکڑا سا آویزاں تھا۔
فلائٹ اٹینڈنٹ نے بتایا کے وینکور ، وقت سے تین گھنٹے آگے ہے۔گویا جب تقریبا پانچ گھنٹے کے سفر کے بعد ہم وہاںپہنچیں گے تو وہاں 9 بج رہے ہوں گے۔ اور گھڑی پھر تین گھنٹے پیچھے کرنا پڑے گی۔
وینکوور جنگلوں سے نکل کر سمندروں دریائوں سے ملاقاتیں کرتا ، بے حدحسین شہر، اتنا حسین کہ ایک ایک گوشہ دیکھنے کے لیے وقت تفصیل سے گزارنے کا خیال آتا رہا۔
مقامات کا قدرتی حسین ہونا فطری معاملہ ہے ۔ ہمیں فطرت کی بنائی کسی شے میں آج تک بدصورتی نظر نہیں آئی۔ریگستان یا آتش فشاں پہاڑ بھی سمندر اورہریالی کی طرح اپنا منفرد حسن رکھتے ہیں۔ حضرت انسان ضرور خدا کی اس دنیا کو روندے چلا جارہا ہے۔زمین کی اینٹ سے اینٹ بجا دی نادان نے۔ آسمانوں میں بھی جانے کیا کھوج رہاہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ وہ کبھی مکمل کائنات نہیں دیکھے گا، کہ کائنات مکمل کہاں ہوتی ہے، یہ کوئی کبھی نہیں جان سکے گا۔
مگر اس سے کون کہے کہ کرہ ٔ ارض کا توازن بگڑنا اس کے تاراج ہونے کی دلیل ہو جائے گا،جس میں غالباً زیادہ وقت بھی نہیں ہے۔ زمین کی کوکھ سے معدنیات نوچ کر اور روغنیات نچوڑ کر اسے خالی کر دینا، کیا آنے والے نسلوں کی حق تلفی نہیں ہے۔
وینکوور کی برٹش کولمبیا یونیورسٹی ،درخت ِ افرا ، صنوبر، سفیدہ اور دوسرے حسین اشجار میں چھپی، پھولوں کی جنگلی جھاڑیوں، پھلواریوں اور کیاریوں سے سجی وسیع دالانوں والی اونچی وکٹوریائی عمارتوںمیں سنوری، بادلوں سے بات چیت کیا کرتی ہے۔ اور اس کے دامن میں مسکراتی اٹھکیلیاں کرتی ہوائیںپرندوں کو نغمہ سرا ہونے کی جو فضا مہیا کرتی ہیں، اس سے انسان بھی کہاں بچ سکتا ہے۔ اور ہم کہ ایک کمزور سی  شے، کنکریٹ کے خالی خالی، دھلے دھلے سے سڑک نما راستوں پر چلتے تو گھنٹوں چلتے رہتے۔
برٹش کولمبیا یونیورسٹی کے جس حال میں لٹریچر پربحث ہونا تھی، اس کے فرش سے چھت تک لمبی کھڑکیوں کے شیشوں سے باہر دیوُدار کی مختلف قسموںکے درختوں میں جنگلی پرندے چہکتے نظر آتے ۔بھینی بھینی سی نم نم ہوا ئیں، طویل راستے، اور کم کم لوگ،صحت مند لوگ، خود شناس لوگ، وقت کو ، ہماری طرح کے ممالک سے الگ کوئی دوسری ہی تاریخ لکھوا رہے تھے کہ ایسے ملکوں میں جرائم کی نوعیت ہمارے یہاں جیسی نہیں ہوگی ۔وہاں بنیادی حقوق کیلئے لوگوں کو لڑنا نہیں پڑتا ہوگا۔قانون سے بچ کر نکلنے کے لیے چور دروازے نہیں ہوں گے۔سادگی کا استحصال نہیں ہوتا ہو گااور معصومیت پامال نہیں کی جاتی ہو گی۔زمین زیادہ ہوگی اور آبادی کم تو لینڈ مافیا بھی نہیں ہوگا۔ بس سٹاپ سے لگے ستون کے ساتھ ایک تختہ لگا تھا جس پر ہرے رنگ سے ایک عبارت درج تھی ؛
’’ ا جنبی چہروں کو مسکر ا کر دیکھئے تاکہ انسانیت پر ان کا اعتماد پختہ ہو جائے۔‘‘  ہمیں یہ جملہ آج تک یاد ہے۔ ہم نے دیکھا کہ کوئی خاتون اگر امید سے نظر آجاتی تو لوگ اس کی طرف مسکراہٹ بھری نگاہیں ڈالتے۔ ٹیکس زیادہ ہو تو شہری سرکار کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔ آنے والے ننھے مہمانوں کی فکر بھی بڑی حد تک سرکارکو ہی کرنا ہوتی ہے اوران کے مستقبل کا تحفظ طے ہے۔ جن ملکوںکو غیروں سے آزادی کے بعد اپنوں نے لوٹا ہو، وہاں انسانوں کا مستقبل کیسے محفوظ ہوگا۔  
برقی رابطہ۔[email protected]