دودھ کے سرکاری نرخنامے ہوا میں تحلیل !

سرینگر// وادی میں روزانہ 40لاکھ لیٹر دودھ کی پیداوار ہونے کے باوجود بھی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور گذشتہ 7برسوں کے دوران لفافہ بند دودھ کی قیمتوں میں 16روپے کا اضافہ کر کے غریبوں کی چیخیں نکال دی گئی ہیں ۔فی الوقت کشمیر میں مختلف اقسام کی کمپنیوں کا دودھ مارکیٹ میں دستیاب رہتا ہے ، لیکن اسکے معیار کو جانچنے کا کوئی پیمانہ نہیں ہے۔سال 2014میں جموں وکشمیر میں لفافہ بند دودھ کی قیمت 28روپے فی کلو مقرر کی گئی تھی، لیکن آج لفافہ بند دودھ کی قیمت مارکیٹ میں فی کلو 44روپے ہے ۔ لفافہ بند دودھ کی قیمتوںمیں اضافہ کر کے کمپنیاں صارفین کے حقوق پر شب خون ماررہی ہیں اور حکام بھی عام لوگوں کو رعایت فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ اس وقت مارکیٹ میں دودھ 50سے55روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے ۔مقامی صارفین کا کہنا ہے کہ دودھ ایک ضروری اشیاء ہے اور اس کی ضرورت ہر ایک شہری کو ہے اور سرکار کایہ فرض بنتا ہے کہ وہ مناسب قیمتوں پر صارفین کو دودھ فراہم کرائے ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ سال2014میں مقامی طور پر تیار کئے گئے دودھ کی مارکیٹ قیمت صرف 28روپے فی کلو تھی اورپھر 2016میں 8روپے کا اضافہ کیا گیا۔ سال2018میں کمپنی مالکان نے ازخود 2روپے کا اضافہ کرکیقیمت 36روپے کردی اور اب 44روپے کی گئی ہے ۔معلوم رہے کہ جموں وکشمیر میں ہر روز 70 لاکھ لیٹر دودھ کی پیداروار ہوتی ہے ۔اکیلے وادی میں 40 لاکھ لیٹر کی پیداوار ہوتی ہے جبکہ جموں سے 30 لاکھ لیٹر یومیہ نکلتا ہے۔ جنوبی کشمیر میں دودھ کی پیداوار بہت زیادہ ہے۔ سرکاری طور پر بتایا جاتا ہے کہ جنوبی کشمیر دودھ کی پیداوار میں نہ صرف خود کفیل بن گیا ہے بلکہ روزانہ 2لاکھ لیٹر دودھ باہر بھی بھیجا جارہا ہے۔ 2019 میں ہونے والی 20 ویں لائیو اسٹاک مردم شماری کے مطابق ، جموں و کشمیر میں مویشیوں کی آبادی 82 لاکھ ہے۔ آئی ایس ایس ڈیٹا 2018-19کے مطابق دودھ کی پیداوار 2541 ٹی ایم ٹی ہے۔ دود ھ کے لحاظ سے خود کفیل وادی میں ہی دودھ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں ۔