دفعہ370 کی تنسیخ حق تلفی :لال سنگھ

سری نگر//سابق وزیراورڈوگرہ سوابھیمان سنگھٹن پارٹی کے صدر چودھری لال سنگھ نے آئین ہندکی دفعہ370کی منسوخی کوغلط فیصلہ قرار دیتے ہوئے سوال کیاکہ اگر370کوختم کیاگیا تودفعہ 371 کوکیو ں نہیں ؟۔جے کے این ایس کے مطابق ایک انٹرویو کے دوران چودھری لال سنگھ نے کہاکہ دفعہ370کسی بھی صورت میں غلط نہیں تھاکیونکہ اس کی وجہ سے جموں وکشمیر کے عوام کی زمین وجائیداداورنوجوانوں کیلئے مخصوص سرکاری ملازمتوں کوتحفظ حاصل تھا۔انہوںنے کہاکہ یہ کہنا سراسرغلط ہے کہ دفعہ370،الگ آئین یاالگ جھنڈا ہوناغلط تھا۔انہوںنے کہاکہ میں توکہتاہوںکہ تمام ریاستوںکواندرونی خودمختاری ہونی چاہئے ،اورمرکز کوکوئی بھی فیصلہ ریاستوں سے پوچھ کرلینا چاہئے ۔ چودھری لال سنگھ نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ کیاامریکہ کی تمام ریاستوں میں الگ آئین ،الگ قوانین اورالگ الگ جھنڈے نہیں ہیں ،توکیا امریکہ کی یکجہتی کوکوئی نقصان پہنچا ہے ۔لال سنگھ نے دفعہ370کی منسوخی کوجموں وکشمیر کے عوام کیساتھ ناانصافی اوریہاں کے نوجوانوںکی حق تلفی سے تعبیر کرتے ہوئے کہاکہ اگر جموں وکشمیر کی زمین اوریہاں کی سرکاری ملازمتوںکوپورے ملک کیلئے کھول دیاگیا توگجرات اورہماچل پردیش جیسی ریاستوں میں کسی بیرون ریاستی کوزمین خریدنے اورسرکاری ملازمت حاصل کرنے کاحق کیوں نہیں دیاجاتاہے ۔انہوںنے کہاکہ وہاں  دفعہ371کے تحت زمین وجائیداداورسرکاری نوکریوںکوتحفظ فراہم کیاگیاہے ۔