دفعہ370کی منسوخی سے سیاحت کو فروغ ملا:انوراگ ٹھاکور

 گاندربل//ملک میں سیاحت کے عالمی دن کے موقع پر مرکزی وزیر کھیل انوراگ سنگھ ٹھاکر نے کہا کہ ہندوستان میں’مذہبی سیاحت‘کا شعبہ انتہائی وسیع ہے اور ملک میں اس کی بہت بڑی صلاحیت اور گنجائش ہے۔ انوراگ ٹھاکر ، جو جموں و کشمیر میں ہیں ، نے جموں و کشمیر کے گاندربل ضلع میں کھیر بھوانی مندر کا دورہ کیا۔مرکزی وزیر نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ یکم ؍ اَکتوبر 2021ء سے شروع ہونے والے ملک بھر کے ’’ کلین اِنڈیا مشن‘‘ میں شامل ہوں جس دوران ملک بھر میں 75 لاکھ کلو کوڑا کرکٹ جمع کیا جائے گا۔وزیر نے مختلف سکیموں کے تحت ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے ضلعی اِنتظامیہ کی مختلف فائدہ مند سکیموں میں کامیابیوں کی تعریف کی اور اَفسران سے کہا کہ وہ تن دہی ، محنت اور لگن کے ساتھ کام کریں ۔دریں اثنا وزیر نے ڈی ڈی سیز ، بی ڈی سیز ، یول ایل بیز اور پی آر ائیز سے ملاقا ت کی جنہوں نے اَپنے اَپنے علاقوں کی ترقی سے متعلقہ مختلف مطالبات وزیرموصوف کو گوش گزار کئے۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان ، ڈی ڈی سی چیئرپرسن گاندربل نزہت اِشفاق، ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل کرتیکا جیوتسنا ، ڈی ڈی سی وائس چیئرپرسن ، ایس پی گاندربل اور ضلع اِنتظامیہ کے دیگر اَفسران بھی موجود تھے۔مرکزی وزیر نے کہا کہ جل جیون مشن کامقصد ہے کہ دیہی ہندوستان کے تمام گھرانوں کو انفرادی گھریلو نل کنکشن کے ذریعے مناسب پینے کا پانی مہیا کیا جائے اوراُنہوں نے متعلقہ اَفراد کو ہدایت دی کہ ضلع کے متاثرہ علاقوں میں پینے کے پانی کی سہولیت فراہم کرنے کو ترجیح دی جائے۔ کانفرنس ہال منی سیکرٹریٹ گاندربل میںمیٹنگ کے دوران ضلع ترقیاتی کمشنر کرتیکا جیوتسنا نے ایک پاور پوائنٹ پرزنٹیشن کے ذریعے ضلع کی ترقیاتی سرگرمیوں اور حصولیابیوں کا مختصر جائزہ پیش کیا۔ اُنہوں نے مرکزی وزیر کو ضلع میں کووِڈ تخفیفی کوششوں اور مختلف سکیموں کی پیش رفت کے بارے میں بھی جانکاری دی۔ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل نے کووِڈ تخفیفی کوششوں اور ٹیکہ کاری مہم کے بارے میں جانکاری دی ۔اُنہوں نے کہا کہ ضلع کی تمام پنچایتوں میں کووِڈ کیئر سینٹر قائم ہیں اور 18برس عمر کی آبادی کے زائد اَز80فیصد کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگائے جاچکے ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق تولہ مولہ گاندربل میں جموں و کشمیر میں سیاحت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ، مرکزی وزیر کھیل انوراگ سنگھ ٹھاکر نے کہا کہ  دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی سے امن بحال ہونے کے بعد سیاحت کے شعبے کو فروغ ملا۔انہوں نے کہاکہ اب  لوگ مذہبی مقامات پر جا رہے ہیں اور یقینی طور پر  یہاں سیاحوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔مرکزی وزیرکاکہناتھاکہ کھیر بھوانی کا مندر مذہبی سیاحت کے لئے بہت اہم ہے۔انہوںنے کہا کہ یہ تاریخی مندر نہ صرف کشمیری پنڈتوں کیلئے عقید ت کا مرکز ہے بلکہ ملک کے دیگر حصوں سے عقیدت مند بھی دیوی کو دیکھنے کے لئے مندر آتے ہیں۔ملک کے مختلف حصوں میں مذہبی سیاحت کا ذکر کرتے ہوئے ، مرکزی وزیر کھیل انوراگ سنگھ ٹھاکر نے کہاکہ میں ذاتی طور پر مانتا ہوں کہ ہندوستان میں مذہبی سیاحت کا علاقہ بہت بڑا ہے۔ اگر آپ ہماچل پردیش میں دیکھیں تو وہاں آبادی کے مقابلے میں3 گنا زیادہ سیاح ہیں اور ان میں سے دو تہائی حصہ اُن سیاحوں کا ہے جو مذہبی سیاح ہیں۔انہوں نے ملک کے لوگوں سے وادی کا دورہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ایک بہت خوبصورت جگہ ہے۔ ویشنو دیوی اور امرناتھ کی طرح بہت سے لوگ کھیر بھوانی مندر میں بھی آرہے ہیں۔ یہ کچھ جگہیں ہیں جو مذہبی عقائد اور سیاحت سے بھی وابستہ ہیں۔ ہمارا عقائد کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔ مرکزی وزیر کھیل انوراگ سنگھ ٹھاکر کاکہناتھاکہ اہم بات یہ ہے کہ دفعہ 370 اور 35Aکو منسوخ کرنے کے بعد مرکزی حکومت جموں و کشمیر میں جاری تمام اسکیموں کو تقویت  دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس تناظر میں ، تمام مرکزی وزراء مختلف علاقوں میں ترقیاتی کاموں کا جائزہ لے رہے ہیں۔