دس سال میں8000فسادات

ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کا برپا ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق آزادی کے بعد سے پچھلے 73سالوں میں ملک کے طول و عرض میں 58400فسادات پھوٹ پڑے ہیں۔ بڑے فسادات جہاں 50یا اس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے کی تعداد لگ بھگ 110 کے قریب ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 2008سے 2018کے دس سالوں کے وقفہ کے درمیان کم و بیش 8ہزار فسادات ریکارڈ کئے گئے ہیں۔یعنی ایک طرح سے ملک میں ہر روز دو فسادات ہوئے ہیں۔ ان سبھی فسادات میں پولیس کا رول حالیہ دہلی میں رونما ہوئے فسادات کی طرح ہمیشہ سے  ہی جانبدارانہ رہا ہے۔ بجائے فسادات کو کنٹرول کرنے وہ  بلوائیوں کا ساتھ دےکر مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں یا بس خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔
بقول ایک سابق سینئر پولیس افسر وبھوتی نارائن رائے، جنہوں نے 1989میں اتر پردیش کے میرٹھ شہر میں ہاشم پورہ اور ملیانہ قتل عام کی ابتدائی تحقیقات کی تھی، بھارت میں پولیس اور مسلمانوں کا رشتہ ہمیشہ سے ہی معاندانہ رہا ہے۔فسادات پر رائے نے کئی تحقیقی مقالے لکھے ہیں۔ بابری مسجد کی شہادت کے  بعد ہوئے فسادات کے تناظر میں ہندی میں ان کا ناول’شہر میں کرفیو‘ خاصا مشہور ہوا تھا۔ ان کی تحقیق کے مطابق مسلمان فسادات کے دوران پولیس کو دشمن سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے جہاں مسلمانوں کو ہی فسادات میں اکثر شدید جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے،و ہ  پولیس کے قہر کا نشانہ بھی بن جاتے ہیں۔
فسادات سے نپٹنے کے نام پر ان کے ہی نوجوانوں کو پولیس حراست میں لیتی ہے۔ پھر فسادیوں کے ساتھ تصفیہ کرواکے رہا کراتی ہے۔ 1984کے دہلی کے سکھ مخالف اور 2002کے گجرات کے مسلم مخالف فسادات کے علاوہ شاید ہی کبھی فساد برپا کرنے والے بلوائیوں یا ان کے لیڈران کو عدالت کے کٹہرے میں لاکر سزا دی گئی ہو۔میں نے اپنے جرنلزم کریئر کی ابتدا ہی ایک ہندو-مسلم فساد کو کور کرنے سے کیا۔ نوے کی دہائی کے اوائل میں دہلی کے وسط میں نظام الدین کے علاقہ میں ہندو-مسلم فساد پھوٹ پڑا تھا۔ میں ایک نیوز و فیچر ایجنسی میں بطور انٹرن کام کر رہا تھا۔ حکم ہوا کہ فساد کور کرنے کے لیے اپنے ایک سینئر کا ساتھ دینے کے لیے اس علاقہ کی طرف کوچ کروں۔ اس علاقہ میں ایک نالہ مسلم اور ہندو علاقوں کو جدا کرتا ہے۔ معلوم ہوا کہ کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اور چار افراد پولیس کی گولیوں سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ پریس کا کارڈ چیک کرکے پولیس والے آگے جانے دے رہے تھے۔
مسلم علاقوں سے گزرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ تبلیغی جماعت کی بنگلہ والی مسجد اور مزار غالب کے سامنے والی سڑک پر تازہ خون کے نشانات تھے۔ درگاہ حضرت نظام الدین، امیر خسرو، عبد الرحیم خان خاناں، مغل بادشاہ ہمایوں کی آرام گاہوں کی شکل میں مسلمانوں کی شان و شوکت کی علامت یہ علاقہ کسمپرسی کی دہائی دے رہا تھا۔ درگاہ کی طرف جانے والے راستہ پر مکانوں کی ادھ کھلی کھڑکیوں کے پیچھے خوف و ہراس سے پر آنکھیں ہمیں تک رہی تھیں۔ بستی کے اطراف وقف کی خاصی زمین ہے، جس  پر قبرستان، کئی مساجد اور درگاہیں موجود  ہیں۔چونکہ بستی کے ہندو مکینوں کو مردے جلانے کے لیے خاصی دور دریائے جمنا کے کنارے جانا پڑتا تھا، اس لیے کئی دہائی قبل درگاہ کے سجادہ نشین پیر ضامن نظامی نے نالے سے متصل ایک قطعہ ہندوؤں کو شمشان کے لیےعطیہ کیا تھا۔ اب وشو ہندو پریشد اور دیگرہندو تنظیمیں اس قطعہ میں نالے کے اس پار قبرستان کی وسیع و عریض اراضی شامل کرکے اس کی حد بندی کرکے اس پر عمارت بنا رہی تھی۔
جس پر مسلمانوں کے اعتراض کی وجہ سے فساد پھوٹ پڑا تھا۔ فساد بچشم خوددیکھنے کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا۔ نالہ کو پار کرکے دیکھا کہ کرفیو کی دھجیاں اڑیں ہوئی تھیں۔ ایک جم غفیر پولیس کی بھاری موجودگی میں نالے کے دوسری طرف مسلمانوں کے مکانوں پر شدید سنگ بار ی کرتے ہوئے  اشتعا ل انگیز نعرے بلند کر رہا تھا۔ شمشان کے پاس مشرقی دہلی سے بی جے پی کے ممبر پارلیامنٹ بینکٹھ لال شرما عرف پریم مجمع کو اور اکسا رہے تھے۔ درگاہ حضرت نظام الدین کا گنبد یہاں سے نظر آرہا تھا اور ان کا اعتراض تھاکہ اس کے اوپر جو سبز جھنڈہ لہرا رہا ہے، وہ  پاکستانی پرچم ہے ا ور وہ اس کے اترنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ پاس کے ایک مکان میں اٹل بہاری واجپائی اور بی جے پی کے ایک اور لیڈر مدن لال کھرانہ ایک میٹنگ میں مصروف تھے۔ گھنٹہ بھر کے بعد لیڈران نمودار ہوئے۔ بھیڑ نے درگاہ کی طرف اشارہ کرکے پھر نعرے لگانے شروع کئے۔ واجپائی نے مائیک سنبھال کر کہا کہ یہ اسلامی جھنڈہ ہے اور اس کا ایک ہی رنگ ہے۔
جبکہ پاکستانی پرچم د و رنگی ہوتا ہے۔جب وہ گاڑی کی طرف جارہے تھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ نالہ کے دوسری طرف تو سخت کرفیو نافذ ہے اور لوگ بھی وہیں ہلاک ہوئے ہیں۔ آخر وہ نالہ پر موجود بھیڑ کو پتھراؤ کرنے اور اشتعال انگیز نعرے لگانے سے منع کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انہوں نے کہا کہ نوجوان فساد بھی اسی طرف سے مسلمانوں کے اعتراض سے شروع ہوا۔ اب جو کچھ ہورہا ہے وہ رد عمل ہے۔ اس طرف کے لوگوں (مسلمانوں) کو یہ بات جان لینی چاہیے۔ جلد ہی میں نے دیکھا کہ بھیڑ خونخوار نظروں سے میری طرف دیکھ رہی ہے۔واجپائی نے بھی شاید محسوس کیا کہ میں مسلمان ہوں اور اب  اس سوال کے بعد بھیڑ مجھے نشانہ بنائے گی۔ انہوں نے اپنے محافظ کو اشارہ کرکے مجھے نالہ کے دوسری طرف لے جانے کے لیے کہا۔
اس کے ایک سال بعد ہی جب دسمبر 1992میں ایودھیا میں بابری مسجد شہید کی گئی، تو دہلی کے ان ہی علاقوں میں جو آجکل تشدد کی زد میں ہیں،فسادات پھوٹ پڑے۔ سیلم پور کی ایک غریب بستی کو، جہاں اکثر مزدور، کباڑی کا کام کرنے والے رہتے ہیں کو آگ کے حوالے کیا گیا تھااور کئی افراد فسادیوں کی چھریوں اور پولیس کی گولیوں کا نشانہ بن گئے تھے۔ روایتی طرز پرہی پولیس نے متاثرین کے ہی اہل خانہ کو حراست میں لیا تھا۔ اس فساد میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنا میری پہلی بڑی اسٹوری تھی۔ میں انگریزی کے ایک شامنامہ کے ساتھ بطور ٹرینی منسلک تھا۔ مجھے کرائم رپورٹر کے ساتھ بطور اسسٹنٹ ان فسادات کو کور کرنے کے لیے متعین کیا گیا تھا۔ علاقے میں ایک مقامی ذی اثر ہندو جس کو پہلوان کے نام سے پکارتے تھے، نے دورہ پر آئے صحافیوں، وکیلوں، حقوق انسانی کی تنظیموں کے نمائندوں کےلیے کرسی، چائے پانی وغیرہ کا انتظام کیا ہوا تھا۔ وہ صحافیوں کے لیے بطور گائیڈ کا کام بھی کرتا تھا۔
متاثرین اور پہلوان صاحب اور ان کے ساتھیوں کی بس ایک ہی رٹ تھی،”کہ ہم تو صدیوں سے بھائی چارہ سے رہتے آئے ہیں، یہ تو بس باہر کے نامعلوم لوگ دنگا کرنے آئے تھے۔“خیر آفس میں مجھے کرائم رپورٹر نے بتایا کہ ایک روز قبل انہوں نے کسی مکین سے ایف آئی آر اور ان کے راشن کارڈ اور دیگر ڈاکومنٹ، کاپی کرانے کے لیے لیے تھے اور اوریجنل ڈاکیومنٹ ان کو لوٹانے کے لیے مجھے سیلم پور جانے کا حکم دیا۔ خیر میں علاقے میں پہنچا تو مغرب کی اذان ہو رہی تھی۔ پہلوان صاحب وہیں کرسی پر براجمان تھے، جب ان کو معلوم ہوا کہ میں بس ڈاکیومنٹ واپس کرنے آیا ہو توانہوں نے میرے ساتھ آنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ دروازہ پر دستک دی تو معلوم ہوا کہ دستاویزات کا مالک مسجد میں نمار ادا کرنے گیا ہوا ہے۔ میں بھی مسجد میں جاکر نماز میں شامل ہوگیا۔ میں جب نماز مکمل کر رہا تھا، تو محسوس ہوا کہ کئی آنکھیں مجھے بغور دیکھ رہی ہیں۔
میں پچھلے کئی روز سے اس علاقے میں اپنے سینئر اور دیگر صحافیوں کے ہمراہ آرہا تھا۔ میں نے نماز جونہی ختم کی، میرے آس پاس ایک بھیڑ جمع ہوگئی۔ وہ اطمینان کرنا چاہ رہے تھے کہ میں واقعی مسلمان ہوں۔ کرید کرید کر انہوں نے بتایا کہ باہر جو پہلوان صاحب صحافیوں اور وکلا ء حضرات کی میزبانی اور گائیڈ کا کام کر رہے ہیں، وہی فسادات میں پیش پیش تھے۔ان کے بیانات ریکارڈ کرکے میں آفس پہنچا، تو صرف ایڈیٹر اپنے چیمبر میں بیٹھے تھے۔ وہ جنوبی ہندوستان کے ایک معقول، تعصب سے عاری پروفیشنل صحافی تھے۔ میں نے متاثرین کے بیانات ان کے گوش گذار کرائے، تو انہوں نے وہیں خود ہی رپورٹ، سرخی بنا کر اور فرنٹ پیج ڈیزائن کیا۔ آفس میں کسی کو ہوا تک لگنے نہیں دی۔ چونکہ شامنامہ تھا، اگلے روز کی دوپہر کے بعد یہ خبر کسی دھماکہ سے کم نہیں تھی۔ پولیس کے اعلیٰ حکام حرکت میں آگئے اور ایڈیٹر کو بتایا گیا کہ ڈپٹی کمشنر پولیس یعنی ڈی سی پی پولیس ہیڈکوارٹر میں میرا بیان لینا چاہتے ہیں۔
ہندوستان کے اعلیٰ تکنیکی تعلیمی ادارہ آئی آئی ٹی سے حال ہی میں فارغ التحصیل ڈی سی پی نے ہمارا استقبال کیا اور تفصیلی گفتگو کرنے کے بعد رات کے اندھیرے میں سیلم پور جاکر متاثرین کو مجسٹریٹ کے گھر لے جاکر حلفیہ بیان ریکارڈ کروایا اور پھر چھاپہ مار کر صبح تک پہلوان اور اس کی پوری گینگ کو حراست میں لے  لیا۔ سیاسی دباؤ کو درکنار کرتے ہوئے، مذکورہ افسر نے ان کے خلاف فرد جرم عائد کرکے چند ایک کو سزا بھی دلوائی۔ اس واقعہ نے بلوائیوں کو اس طرح ہلا کر رکھ دیا کہ 1992کے بعد دہلی میں پھر کسی کو فساد کروانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ اس نوجوان اور باہمت پولیس افسر کے ساتھ بعد میں بھی میرا رابطہ رہا۔ اس کے بعد بھی دو دہائی سے زائد عرصہ میں،میں نے ہندوستان  کے طول و عرض میں کئی فسادات کور کیے۔
چند برس قبل علی گڑھ دورہ کے دوران میں نے ایک ریٹائرڈ پروفیسر سے پوچھا کہ پچھلے کانگریس دور میں اور اب ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)کے دور میں ہوئے فسادات میں کیا فرق ہے؟ یاد رہے علی گڑھ شہر وقتاً فوقتاً فرقہ وارانہ فسادات کے لیے خاصا بدنام رہا ہے۔ معمر پروفیسر صاحب کا کہنا تھا کہ چونکہ کانگریسی دور میں سیکولرازم کا ملمع چڑھا ہوتا تھا، اس لیےفسادات کے بعد کوئی مرکزی وزیر یا حکمران پارٹی کا بڑا لیڈر دورہ پر آتا تھا۔ پہلے ہندو علاقوں میں جاکر ان کی پیٹھ تھپتپھاتا تھا اور پھر مسلم علاقے میں آکر اشک شوئی کرکے ریلیف بانٹ کر فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر ایک لیکچر دے کر چلا جاتا تھا۔ اب نا م کے لیے بھی کوئی لیڈر مسلم علاقے کا رخ نہیں کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جو واضح فرق ہے، وہ یہ کہ پہلے  مسلمان اگلے انتخابات میں فسادات کا بدلہ خوب چکاکر حکمران پارٹی کو دھول چٹانے میں کلیدی رول ادا کرتے تھے۔ 1975میں دہلی کے ترکمان گیٹ فسادات کے بعد 1977کے انتخابات میں مسلمانوں نے اندرا گاندھی کو اقتدار سے بے دخل کردیا۔
اسی طرح 1988 میں بہار کے ضلع بھاگلپورکے فسادات کے بعد تو اس صوبہ میں کانگریس کا جنازہ نکل گیا۔اس سے قبل 1987 میں اتر پردیش کے میرٹھ شہر میں ہاشم پورہ اور ملیانہ میں فرقہ وارانہ فسادات کے دوران مسلمانوں کے قتل عام نے ہندوستان کے اس سب سے بڑے صوبہ سے کانگریس کا وجود ہی ختم کر کے ملائم سنگھ یادو کا سیاسی کریئر نقطہ عروج تک پہنچا دیا۔ 2004میں جب پچھلی بی جے پی کی زیر قیادت حکومت کو شکست سے دوچار ہونا پڑا، تو وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے برملا اعتراف کیا کہ 2002کے گجرات فسادات نے ہی ان کی نیا ڈبودی۔ ان کا کہنا تھا کہ گجرات صوبہ کے لیے ان کی پارٹی کو پورا ملک گنوانا پڑا۔ مگر گجرات میں وزیرا علیٰ نریندر مودی ایک نیا کامیاب تجریہ کر رہے تھے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ  ہندوؤ ں کو خوف کی نفسیات میں مبتلا کرکے، مسلمانوں کو الگ تھلگ اور، لبرل و سیکولر ہندوؤ ں کو نظر انداز کرنے سے وہ  اقتدار کو طوالت دے سکتے ہیں۔ مرکز میں برسر اقتدار آنے کے بعد مودی اسی گجرات ماڈل پر عمل پیرا ہیں۔ 2013میں مشرقی اتر پردیش میں مظفر نگر ضلع میں ہوئے فسادات کا خاظر خواہ فائدہ اٹھا کر بی جے پی نے اس صوبہ میں کلین سویپ کیا۔
بقول تجزیہ کار حسام صدیقی دراصل دہلی میں فساد اس لیے کروائے گئے کیونکہ دہلی والوں نے حال کے  اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کو ہرایا تھا۔ یہ فسادات بھی ان ہی علاقوں میں ہوئے، جہاں سے بی جے پی کو پانچ سیٹیں ملی ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں کے ووٹ سے منتخب دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال اور ان کی ٹیم نے بھی سڑک پر اترکر امن و امان قائم کروانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔دہلی کے پولیس کمشنر امولیہ پٹنائک دنگوں کے دوران تقریباً پوری طرح غائب رہے۔جس وقت تباہی و بربادی کی داستان دہلی کی غریب آبادیوں میں رقم کی جارہی تھی تو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ راجدھانی میں ہی موجود تھے۔بی جے پی کے نئے  لیڈر کپل مشرا نے دہلی پولیس کے ڈی سی پی کے سامنے دھمکی دی کہ اگر شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے و الوں سے روڈ خالی نہیں کرایا تو ہم خود کرا دیں گے اور پولیس کی بھی نہیں سنیں گے۔ پتھروں سے بھری کپل مشرا کی ٹرالیوں کو پولیس نے اس کے بتائے ہوئے ٹھکانے تک پہنچنے  دیا۔
معروف صحافی معصوم مراد آبادی کے مطابق  یہ ملک کا پہلا فساد ہے جس کی تیاری اعلانیہ طور پر کی گئی تھی۔ گزشتہ دو ماہ سے حکمراں جماعت کے لوگ کھلے عام مسلمانوں کے خلاف انتہائی زہریلی اور دھمکی آمیز زبان استعما ل کررہے تھے اور پولیس خاموش تماشائی کے کردار میں نظر آرہی تھی۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک حکمت عملی کا حصہ تھا تاکہ ملک گیر سطح پر شہریت ترمیم قانون کے خلاف تحریک چلانے والوں کو خوف زدہ کیا جائے۔ اس فساد کی جانچ کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ سوشل میڈیا میں فسادیوں کے ویڈیو گردش کر رہے ہیں۔ مگر کیا کیا جائے، پولیس نے اسی روایتی تعصب سے کام لے کر مسلمانوں کو ہی حراست میں لینا شروع کردیا ہے۔ 2002کے گجرات فسادات کے وقت تو میڈیا نے بلوائیوں کو بے نقاب کرنے میں ایک اہم رول ادا کیا تھا، مگر افسوس دہلی کے فسادات میں  حکمرانوں کی گود میں بیٹھا ہوا دہلی کا میڈیا ان لوگوں کو ہی قصور وار ٹھہرا رہا ہے، جو جان بچانے کے لیے چھتوں پر پناہ لے ہوئے تھے۔
مکانوں کے باہر گلیوں میں  پولیس کی معیت میں ان کی جان کے درپے ہجوم تو لگتا ہے ان کی خیریت دریافت کرنے آئی  تھی۔ دہلی ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس مرلی دھرن نے جب پولیس کو 24گھنٹے کے اندر کپل مشراکے خلاف کیس دائر کرنے کا حکم دیا، تو آدھی رات کو مذکورہ جج کا تبادلہ کردیا گیا۔ مشرا کو حراست میں لینے کے بجائے عام آدمی کے کونسلر طاہر حسین کو مورد الزام ٹھہرا یا گیا، جس نے اپنے گھر میں کئی مسلم خاندانوں کو پناہ دی تھی اور فسادیوں کو دور رکھنے کےلیے چھت سے ان پر پانی پھینک رہے تھے۔ ان پر آئی بی افسر انکت شرما کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیاہے۔ان کا گھر اور فیکٹری سیل کردیاگیا ہے۔ اروند کیجریوال نے اپنے کونسلر طاہر حسین کا دفاع کرنے کے بجائے انھیں پارٹی سے ہی برخاست کردیاہے اور ان کے لئے دوگنی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔حالانکہ طاہر حسین بار بار کہہ رہے ہیں کہ ان کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں۔ سابق کونسلر ایڈووکیٹ عشرت جہاں کو بھی اقدام قتل اور فساد بھڑکانے کے الزام میں 14 دن کی عدالتی تحویل میں جیل بھیجا گیا ہے۔
قصور یہ ہے کہ انھوں نے متنازیہ شہریت قانون کے خلاف خواتین کا دھرنا منظم کیا تھا۔ اب صرف شاہین باغ میں خواتین کا دھرنا جاری ہے‘ جسے ختم کرنے کے لئے طرح طرح کی دھمکیا ں دی جارہی ہیں۔شاید پولیس یہ کہنے کی کوشش کر رہی ہے کہ مسلمان کیوں پر امن طور پر مرنے کے لیے تیار نہیں ہو رہے تھے۔ ان کو مزاحمت کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔
���