پرویز احمد
سرینگر //گرم موسم عام طور پر دل کی بیماری کے لیے بہترین نہیں سمجھا جاتا۔ درحقیقت، درجہ حرارت میں انتہائی یا اچانک اضافہ قلبی نظام پر دبا ئومیں نمایاں طور پر اضافہ کرتا ہے۔ زیادہ درجہ حرارت خون کی نالیوں کو چوڑا کرنے کا سبب بنتا ہے، جس سے بلڈ پریشر کم ہوتا ہے اور دل کو جسم میں خون پمپ کرنے کے لیے سخت محنت اور دھڑکن تیز ہوتی ہے۔ اس سے دل کے پہلے سے موجود حالات والے افراد کو گرمی کی تھکن، پانی کی کمی اور دل سے متعلق پیچیدگیوں کا بہت زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ اگر آپ دل کی بیماری سے نمٹ رہے ہیں، تو گرم موسم کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بہت ضروری ہے۔جب سورج سب سے زیادہ تیز ہو تو باہر نکلنے کا وقت محدود کریں۔ دل کو پانی کی کمی سے بچنے والے مشروبات سے پرہیز کریں۔گرمی کا موسم شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کیلئے ہی خطرناک ثابت نہیں ہوتا ہے بلکہ شدید گرمی کی وجہ سے انسانی جسم کے کئی اعضاء پر اضافی دبائو پڑتا ہے۔ گرمی کا موسم کئی اعضاء خاصکر انسانی دل پر دبائو بڑھاتا ہے کیونکہ جسم کو ٹھنڈا رکھنے کیلئے دل کو زیادہ تیزی سے خون کو پمپ کرنا پڑتا ہے۔
اس کے نتیجے میں جسم میں پانی کی کمی، بلڈ پریشر میں غیر معمولی تبدیلی اور دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوسکتی ہے جو دل کے امراض میں مبتلا لوگوں کیلئے کافی خطر ناک ثابت ہوسکتا ہے۔ موسم گرما کے دوران جسم میں پانی کی کمی ہونا حرکت قلب بند ہونے، دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے اور غش طاری ہونا دل کے مریضوں کیلئے جان لیوہ ثابت ہوسکتا ہے۔ گرمی کی وجہ سے جسم کے درجہ حرارت کو کم کرنے کیلئے دل کو تیزی سے خون کو پمپ کرنا پڑتا ہے تاکہ نسوں اور جلد کے درجہ حرارت کو برقرار رکھا جائے لیکن خون تیزی سے پمپ ہونے کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی پیدا ہوتی ہے جو بعد میں حرکت قلب بند ہونے کا سبب بن جاتی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر مریضوں کیلئے بھی شدید گرمی کا موسم خطرناک ہوسکتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر مریض متواتر طور پر بلڈ پریشر کم کرنے کی دوائیاں کھاتے ہیں لیکن یہ بلڈ پریشر کی دوائیوں کی وجہ سے موسم گرما میں اچانک مریض کا بلڈ پریشر تیزی سے گرسکتا ہے جس سے دل پر کافی دبائو بڑھتا ہے۔ شدید گرمی کی وجہ سے پسینہ آنے کی وجہ سے ضروری نمکیات جیسے سوڈیم (Sodium) اور پٹوژیم(Pottasium)کی مقدار کم ہوجاتی ہے، خون میں نکمیات کی کمی کی وجہ سے دل کی دھڑکن کو بے ترتیب بنا دیتے ہیں۔ طرز زندگی میں تبدیلی،غیر موزون غذا، سگریٹ نوشی گرم موسم میں دل کا دورہ پڑنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ماہر امراض قلب ڈاکٹر اقبال میر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ موسم گرما میں پانی اور نکیات کی کمی کو پورا کرنا لازمی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ گرمی کے موسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے نسوں میں خون موٹا ہونے لگتا ہے جو حرکت قلب بند ہونے اور سٹروک کا سب بن جاتا ہے۔ڈاکٹر اقبال نے بتایا کہ پانی اور نکمیات کی کمی کو روزانہ بنیاد پر پورا کرنے کیلئے پانی کا وافر استعمال اور او آر ایس ، نیموں اور ناریل پانی بہترین ذریعے ہے جو پانی کی کمی کو دور کرتا ہے۔