دربار مو کی روایت کا خاتمہ بالخیر!

  جموں و کشمیر انتظامیہ نے گزشتہ روزدربار مو ملازموں کو سرکاری رہائش گاہیں خالی کرنے کی ہدایات دیں۔ان ملازمین سے کہا گیا ہے کہ وہ یونین ٹریٹری کی دونوں دارالحکومتوں سری نگر اور جموں میں تین ہفتوں کے اندر اندر سرکاری رہائش گاہوں کو خالی کریں۔انتظامیہ کا فیصلہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے دربار مو کی قدیم روایت کو ختم کرنے کے اعلان کے کچھ دن بعد لیا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے 20 جون کو اعلان کیا تھا کہ جموں و کشمیر انتظامیہ اب مکمل طور پر ای آفس کے ذریعے کام کاج سنبھال رہی ہے اور اس طرح ششماہی دوبار مو روایت کا خاتمہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا تھاکہ دربار مو کے خاتمے سے انتظامیہ کو سالانہ دو سو کروڑ روپے بچ جائیں گے جن کو سماج کے پسماندہ طبقے کی فلاح وبہبود پر صرف کیا جائے گا۔یوںاب یونین ٹریٹری کی دونوں دارلحکومتوں سرینگر اور جموں میں سیکریٹریٹ سال بھر چلتا رہے گا۔ قریب150برس سے جاری دربار مو کی روایت ختم کرنے کے فیصلہ پر ملا جلا ردعمل ظاہر کیاجارہا ہے تاہم اگر حق گوئی سے کام لیاجائے تو موجودہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں اس عمل کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔جموں وکشمیر میں دارالحکومت کی منتقلی کی اس روایت کو مہاراجہ رنبیر سنگھ نے 1872 میں ایک شاہی فرمان کے تحت جاری کیاتھا کہ سیکرٹریٹ اب گرمیوں میں چھ ماہ تک سرینگر میں سر گرم رہے گا جبکہ سر دیوں میں اس کی سر گرمیوں کا محور جموں منتقل ہو گا۔دربار منتقلی کے اس عمل نے جموںوکشمیرمیں صوبائی سیاست کو نہ صرف جنم دیاتھا بلکہ دربار مو کے آنے جانے پر سرکار کا غیر معمولی سرمایہ صرف ہوتا تھا۔ جمہوری نظام میں اگر چہ حکومت اور حاکم عوام کے خدمتگارہوتے ہیں لیکن دربار مو کے نظام میںایسا محسوس ہوتا تھا کہ عوام کی آسائش سے زیادہ سیاسی و افسرشاہی کی آسائش کوزیرنظر رکھا جاتا ہے۔حکام سرما کے دوران وادی کی سردی سے بچنے کیلئے جموں منتقل ہوجاتے تھے اورجموں میں گرما کے دوران سرینگر منتقل ہوجاتے تھے۔ گویا جو وقت ان دونوں علاقوں کے لوگوں کیلئے موسمی اعتبار سے سب سے مشکل ہوتا تھا، اُس میں ان کے منتخب حکومت عملی طور ان کا ساتھ چھوڑ جاتی تھی۔ جموں و کشمیر ملک کا ایک ایسا واحدعلاقہ ہے جس کے دو دارالخلافہ ہیں۔یہاں کی سرکار دونوں راجدھانیوں میں کام کرتی ہے، اور سرکاری دفاتر کو ہر چھ مہینے کے بعد سرینگر سے جموں اورجموں سے سرینگر منتقل کیا جاتا تھا۔ اس سارے عمل پر جہاں سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے کی رقم خرچ کی جاتی تھیں وہیں لوگوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ دربار مو کا یہ سلسلہ اُس وقت کے حکمرانوں نے اپنی سہولیت کیلئے شروع کیا تھا لیکن آجکل کے انفارمیشن ٹیکنالوجی دور میں دربار مو کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ آج ہر جگہ ای گورننس کا دور دورہ ہے اور لیفٹیننٹ گورنر کے بقول یوٹی انتظامیہ بھی مکمل طور آن لائن ہوچکی ہے اور ای گورننس کا عمل مکمل ہوچکا ہے تو ایسے میں جموںوکشمیر میںدربار مو کے بے سود، مہنگے ،نقصان دہ اور تھکا دینے والے قدیم عمل کی گنجائش نہیں بچی تھی ۔دربار منتقلی کے اس عمل کے دوران ہر برس سیکرٹریٹ سرگرمیوں کو16دنوں تک بند رکھنا پڑ تاتھا اور اگر جائزہ لیا جائے تو اس وجہ سے ریکارڈ کے مطابق سر کاری تعطیل کے علاوہ اب تک جموں و کشمیر کی تاریخ میں2500دن ایسے گذ رے ہیں جب سیکر ٹر یٹ نے کام نہیں کیا ہے۔علاوہ ازیں دربار مو کے ساتھ جانے والے ملازمین کو اوسطاً10 سے20ہزار روپے فی کس کی رقم بطور سفر خرچہ دی جاتی تھی جبکہ موملازمین کی اکثر تعداد کیلئے رہایش کا انتظام بھی سرکار ہی کرتی تھی۔ اس طرح خزانے پر اور بھی بوجھ پڑ جاتا تھا۔ جموںوکشمیر کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کو ہر چھ مہینے کے بعد جموں یا سرینگر منتقل کیا جاتا تھا۔ اس طرح یہ ملازمین ایک سال میں کل ملا کر تقریباً ایک مہینہ ایڈجسٹ ہونے میں لگا دیتے تھے اور ملازمین کی کارکردگی بھی کافی حد تک متاثر ہوتی تھی اور عوام کو بھی کوئی بھلا نہیں ہوتا تھا۔اب اچھا ہوا کہ یوٹی انتظامیہ نے اس فرسودہ روایت کو ختم کردیا اور اس عمل کے دوران عوام کے خدشات کو ملحوظ نظر رکھ کرسیول سیکریٹریٹ کو سال بھر بیک وقت جموںاور سرینگر میں کھلا رکھنے کا انتظام کیاگیا جس سے یہ فائدہ ہوگا کہ جموں صوبہ کے عوام کو اپنے مسائل کیلئے کشمیر کا رخ نہیں کرنا پڑے گا اور اسی طرح کشمیری عوام کو بھی اپنے مسائل کے نپٹارہ کیلئے تین سو کلو میٹر سفر کرکے جموں جانا نہیں پڑے گا۔امید کی جانی چاہئے کہ دربار مو کی روایت ختم کرنے سے بچ جانے والے وسائل کو عوام کی بہبود پر خرچ کیاجائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گاکہ بیک وقت سرینگر اور جموں سے سیکریٹریٹ چلانے کے دوران عوام کے جملہ مسائل ان کے اپنے ہی صوبوں میں ہی حل ہوں اور حکومت عوام کیلئے ہمہ وقت قابل رسائی ہوتاکہ دربار مو منسوخی کا اصل مقصد حاصل کیاجاسکے۔