دربار تیرے پیار میں کشمیر نو بہار ہے

یہ تو ہوئی سولہ آنے گل۔اسے ہی تو اہل کشمیر محاوراتی زبان میںکہتے ہیں ’’لُکہ ہِنز موجے پوتر دَگ پیییے‘](کسی اور کی ماں اولاد سے محروم ہوجائے )۔جبھی تو نیشنل والے قائد ثانی گائوں گائوں قریہ گھومتے ہیں اور اپنے لئے ہی نہیں اپنی پارٹی امیداواروں کے لئے ووٹ کا نذرانہ مانگتے ہیں کہ بھائی لوگو! ابھی میں بالکل بے روزگار ہوں اور ساتھ میں فرزند ارجمند جسے عام لوگ ٹویٹر ٹائیگر کے نام سے جانتے ہیں ،کیونکہ وہ ملک کشمیر کے تمام مسائل کا حل اپنے ہل سے نہیں بلکہ ٹویٹر کی چڑیا پھر سے اڑا کر نکال لیتا ہے۔مودی مہاراج کی نکتہ چینی ہو یا بانوئے کشمیر کے دودھ ٹافی کا حساب مانگنا ہو فوراً ٹویٹر پر ایسے جاتے ہیں جیسے بزرگ خواتین کھڑکی سے سر نکال کر کوسا کرتی تھیں۔وہ ٹویٹرٹائیگر بھی کچھ کماتا کھاتا نہیں کہ اسمبلی ممبری کا پنشن وائسرائے کشمیر نے بند کردیا ہے ۔اس لئے وہ روز مودی کو کبھی کوستا ہے کبھی چیتائونی دیتا ہے کہ تم نکمے نکلے کہاں کے چھپن انچ والے ہو؟؟؟ تمہیں تو بندوق برداروں اور حریت کاروں نے دوسری طرف پچھاڑ دیا۔وہ جو انہوں نے اعلان کیا کہ ووٹنگ کا بائیکاٹ ہو تو سب سے پہلے مودی شاہ ملک پرائیویٹ لیمٹیڈ نے اسمبلی الیکشن سے ہاتھ کھینچ لیا۔اب تو کہتے ہیں ہو نہ ہو نومبر میں ہوگا تو قائد ثانی کو فکر لگ گئی کہ اتنی دیر تک یہ بے روز گار بیٹا کیا کھائے گا ،کیا جوڑے گا ۔مطلب ننگی نہائے کیا اور نچوڑے کیا؟اس سب کے بیچ جہاں قائد ثانی اپنے اور فرزند کے لئے اقتدار کی سون پری کے خواب دیکھ رہا ہے، وہیں یاسین ملک جیسے جیالوںکی جیل یاترا ہی نہیں بلکہ بقول اس کے شہادت کو گلے لگانے پر تعریفیں کر رہا ہے ۔ارے واہ ! اپنوں کے لئے عیش و عشرت اور دوسروں کے لئے جیل اور موت ۔ بھائی صاحب یہ تو بتایئے جب یاسین ملک کا یہ قدم قابل تعریف ہے تو ہل والے اپنوں کو بھی اسی راہ پر کیوں نہیں لگاتے؟
ہم چونکہ عام آدمی ہیں ،اس لئے ہم کبھی کم اور کبھی زیادہ سوچتے ہیں ۔ہمارے پاس دو وقت کی روٹی ہو تو بس مطمئن ہوکر سوچتے ہیں ۔اس لئے آج کل ہم مودی شاہ پرائیویٹ لیمٹیڈ سے وابستہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے بارے میں سوچتے ہیں کہ کس طرح مودی شاہ آتنک واد سے لڑتے ہیں ۔جو دوسروں کے ہیں ان سے لڑ مرو عاشقو والا معاملہ ہے لیکن سادھوی جیسے اپنوں کو پارلیمان کا ٹکٹ دے کر مشغول رکھتے ہیں تاکہ وہ کہیں اور مالیگائوں نہ بنا دے ۔یہ بھلے سرجیکل اسٹرائک نہیں لیکن اسٹریٹجی تو ہے ۔جب کسی کو کام میں مشغول رکھا جائے تو بھلا اُسے بُرے بُرے خیالات کیسے آسکتے ہیں ؟واہ مودی جی واہ! اور ہم تو سوچتے ہیں کیونکہ سوچنا ہی ہمارا کام ہے کہ اگر سادھوی نے شراپھ دے کر ہیمنت کرکرے کو موت کے گھاٹ اُتار دیا ، تو بھلا مسعود اظہر کو شراپھ کیوں نہیں؟ایسا ہوتا تو بالا کوٹ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ابھی نندن گرفتار نہ ہوتا ۔مگ جہاز پاکستان ہوائی فورس کا شکار نہ ہوتا ۔کیا پتہ سادھوی کے شراپھ سے ہی اب مسعود اظہر پر چین کی طرف سے حمایت ختم ہوگئی ۔اس بیچ ایک اورخبر آئی کہ یتی کے پاوں نشان بھارتی سرحد کے اندر برف پر پائے گئے۔فوج نے تصدیق کر کے فوٹو بھیجے۔پائوں بڑے اور لمبے لگتے ہیں ۔کون جانے کل کو کوئی ترشول بردار یہ بھی الزام لگائے کہ سرحد پار والوں نے آتنک پھیلانے کی نئی چال سوچی ہے اور اب کی بار مودی سرکار میں دیو ہیکل یتی کو اس پار اندر دھکیل دیا ۔
ترشول برداروں نے اب نئی جنگ برقعے کے خلاف شروع کردی کیونکہ ان کے مہاراج نے غریبی کے خلاف نوٹ بندی کا میزائل داغا تو غریبی ختم۔کمزور بزنس پر جی ایس ٹی والا بارو دپھینکا تو اس کے پر خچے اڑ گئے۔آتنک واد پر سادھوی پرگیہ بمبار جٹ سے حملہ کردیا تو چھاپہ ماری زمین بوس ۔کچھ بچا تھا تو فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کے تیر چلا کر سماج  میں اپنا  ایجنڈاجاری و ساری کردیا ۔اب تو بس برقعہ ہی بچ گیا جس کے سبب الیکشن جیت پر نظر دوڑائی لیکن کوئی یہ نہ سمجھے فقط برقعہ ہی نشانے پر ہے بلکہ مودی مہاراج کا فوجی حریف بھی دشمن ِجان بن بیٹھا ۔کہاں اس نے بی ایس ایف میں نوکری کے دوران دال میں پانی اور کھانے میں کنکر کی الزام تراشی کی جس کے سبب مودی سرکار پر چاروں اور کنکر ہی برسائے گئے کہ فوجیوں کے نام پر ووٹ مانگنے والے فوجیوں کی خبر نہیں رکھتے ۔یہ بھی کہ فوجی دال میں پانی کی بہتات کے چلتے بھاجپا سرکار پانی پانی ہو گئی تھی ۔اب جو اس سابق نیم فوجی اہلکار نے مقابلہ کرنے کی چیتائونی دی تو سائیکل والا ہاتھی میں مدد کرنے پہنچا۔ پھر سابق نیم فوجی نے دو دو ہاتھ کرنے مودی مہاراج کی رن بھومی وارانسی میں پرچہ بھر ڈالا تو الیکشن سرشتے نے نون میں نکتہ نکال کر پوری دال کالی کردی۔
وہ فروری والی کہانی بھی دلچسپ ہے کہ مودی مہاراج کے چیلوں نے اعلان کردیا تھا کہ ہم نے سرحد پار لوگوں کی ناک زمین پر رگڑوادی ۔اب جو پار گئے تھے وہ تو خاموش رہے مگر ترشول بردار فوراً ایسے بھڑکے لگتا تھا ۔ابھی ترشول ہوا میں لہر کر پار والے قلعے فتح کر کے آئے ہیں ۔ہو نہ ہو لاشیں بھی گن کر آئے ہیں اور جو مارے گئے ان کے آدھار کارڈوں کی فوٹو کاپیاں بھی ساتھ لائی ہیں ۔ادھر جو اسی روز فوجی ہیلی کاپٹر گر گیا تو اب پتہ چلا کہ دوستانہ میزائل کا نشانہ بن گیا ۔کسی نے اس اڑن طشتری کی خبر گیری نہ کی کہ اس کے سبب ووٹ پڑنے کا امکان نہ تھا ۔ اب تو بے چارے گریند کلان بڈگام  کے سیدھے سادھے دیہاتی پریشان ہیں کہ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ بھائی لوگو! ہم پر چوری کا الزام مت لگائو، ہم نے ہیلی کاپٹر کا بلیک بکس نہیں چرایا۔جن بے چاروں کو بلیک بکس نام کی کوئی چیز کی واقفیت بھی نہیں ،ان پر الزام بے وفائی ہے،وہ تو قسمیں کھا کر کہہ رہے ہیں کہ جو بھی تھا وردی پوش لے گئے مگر کوئی ان کی سنتا کہاں ہے ؟کیونکہ افسپا میں کہنے سننے پر پابندی ہے اور کوئی شور مچائے تو اس کے لئے ٹاس فورس موجود ہے    ؎
تم ہی سے قائم بجٹ کا خسارا
لہو پی لو غریبوں کا سارا
اے مطلب کے زندہ نشانو 
سارے فنڈز تمہارے لئے ہیں
ملک کشمیر کے روح روانو!حرمت کشمیر کے پاسبانو!با ادب با ملاحظہ ہوشیار!تشریف لا رہے ہیں افرا سیاب ِدوران،ستم ہائے غریباں، آسیب خورد و کلاں، بلا عزت و احترام دربار صاحب ،جو نقل مکانی کر گئے ہیں بلکہ سالہا سال سے یہی کرتے رہے ہیں اور غریب عوام کی چھاتی پر مونگ دلنے ،ان کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال کر ،عیش و آرام کی  پوٹلیاں باندھے، اختیار و اقتدار کی بلائیں سمیٹیں ،جھنڈوں اور ڈنڈوں سمیت، لال بتیوں کا جلوس اکٹھا کر کے ملک کشمیر پدھار رہے ہیں۔سردی کے خوف سے بانہال پار ڈیرہ جو ڈالا تھا اسے دوبارہ  باندھ کر گرمی کی تپش برداشت نہ کرتے، سہانی دھوپ اور حسین نظاروں کا لطف لینے واپس بانہال کے اس پار ۔قوم کے غم میں ڈنر کا مزہ لینے  وارد کشمیر ہو رہے ہیں۔اسی لئے ملک کشمیر کی سڑکوں پر رنگ و روغن چڑھ رہا ہے۔  مانا کہ اہل دربار کا دل صاف و پاک نہیں لیکن سڑکوں کے کناروں کو اس طرح صابن شیمپو مل کر گند ہٹائی جا رہی ہے کہ عوام الناس کی قمیض بھی اتنی صاف نہیں دُلی ہوتی۔کھڑوں میں کنکر تارکول بچھ رہا ہے تاکہ یہ جو اتنی دیر عوام الناس کے انجر پنجر ڈھیلے کئے جا رہے ہیں ان کا منہ بھی کالا ہو۔پلوں کے ریلنگ پر سفیدی  ملی جا رہی ہے یا یوں کہیے کہ عوامی خزانے پر چونا لگا یا جا رہا ہے۔ سڑکوں کے بیچ کہیں کہیں لگے پیڑوں کی گرد جھاڑ جھاڑ کر اُتاری جا رہی ہے حالانکہ اتنی دیر یہاں نرم و نازک کھلتے گلابوں کی بانس کے ڈنڈوں اور بندوق کے بٹوں سے دھول جھاڑی گئی۔ سڑکوں کے درمیان آہنی گرلز کو شفاف کیا جارہا ہے ۔ بجلی کے قمقموں کو پیار سے ناپا تولا جاتا ہے، بڑی سی اونچی سی گاڑی لے کر صاف کیا جاتا ہے اور جو کنکشن کئی مہینوں سے کٹ گئے تھے، انہیں دوبارہ جوڑا جاتا ہے تاکہ دربار کا کوئی کنکشن پھس نہ ہوجائے۔ در و دیوار قمقوں سے روشن کئے جاتے ہیں تا کہ کہیں دربار صاحب کی آنکھیں کوئی برا خواب نہ دیکھیں ،جب کہ کھلتے پھولوں کی آنکھوں پر یلغار کرکے ان سے بینائی چھینی گئی۔ ارے بھائی! ان کا خواب تو اپنا ہے وہ بھلا برا کیوں دیکھیں ؟اس کے لئے عوام الناس تو جوق درجوق جود ہے۔اسی لئے تو دفتر دفتر افسر افسر انتظامات کو حتمی شکل دے رہا ہے کہ کہیں دربار صاحب کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔دربار صاحب کے لئے رہنے کی جگہ، گھومنے کی جگہ، دندناتے پھرنے کی جگہ پر نئی لیپا پوتی ہو تی ہے ، کہیں رنگ و روغن سے مزین کیا جاتا ہے ،کہیں خوش آمدید کے لئے بینر آویزان ہیں کہ کہیں شاہی دربار کے آئو بھگت میں کوئی کمی نہ رہے۔کمی رہ گئی تو ہم ذمہ دار نہیں۔دفتر دفتر افسر افسر کی کرسیاں اس بات پر ٹکی ہیں کہ دربار صاحب خوش و خرم ملک کشمیر میں پہنچے اور یہاں کوئی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اتنا ہی نہیں وہ جو ریڑھی بان ،چھاپڑی فروش سڑک کیا گلی کیا، فٹ پاتھ کیا بیت الخلا کا پائدان کیا،  دوکان کا تھڑہ کیا ، لال چوک کا اڈہ کیا ،کالج کا گیٹ کیا ،مجنونوں کا ڈیٹ کیا، غرض سانس کی نلی تک اپنے نام انتقال کروا بیٹھے تھے ان سے قبضہ ہٹایا گیا کہ اب کی بار وائسرائے کشمیر کی سرکار میں یہ حرکتیں معاف نہیں ۔وہ تو کبھی کبھی ہڑتالی مجمعے کا توڑ کرنے کے لئے تم کو عارضی حقوق محفوظ کئے گئے تھے اور تب تو اپنے سیاسی مشٹنڈے نہ جانے کہاں کہاں منہ چھپائے بیٹھے تھے لیکن ابھی تو وہ دن میں رات میں، خاموشی میں بات میں،بولی میں گولی میں ہر جگہ دِکھیں گے، اس لئے راستہ کھلا ہونا چاہئے تاکہ وہ دندناتے پھر پائیں    ؎
لوگو مجھے سلام کرو میں سابق وزیر ہوں
 گردن کے ساتھ تم بھی جھکو میں سابق وزیر ہوں
تم ہاتھوں ہاتھ لو مجھے دورہ پہ جب 
موٹر کے ساتھ ساتھ چلو میں سابق وزیر ہوں
مانا کہ جمہوری تماشے میں عوام الناس سرداری کا حق رکھتا ہے لیکن کسے نہیں معلوم کہ عوام تو ویسے ہی ہانکنے کے لئے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی سرداری دربار صاحب کے یہاں بلا عوضِ اجرت تفویض کر رکھی ہے۔اس لئے میاں دربار جو چاہے سو آپ کرے ہم کو عبث بدنام کیا۔دربار کے ہاتھوں میں طاقت ہے، معیشت ہے، اقتدار ہے، اختیار ہے،روزگار ہے غرض جو کچھ ڈھونڈو وہ تو دربار کے چوکھٹ کی لونڈی ہے۔ اسی لئے اس کے استقبال کے لئے بینڈ ہے باجا ہے کیونکہ یہی تو راج تاج کرنے والا راجا ہے۔دربار کے پاس اتنا سب کچھ ہے کہ وہ بانہال کے آرپار لانے لے جانے میں تین تین دن ٹریفک بند کرنا پڑتا ہے کہ بڑے بڑے ٹرنکوں کے اندر جو فائیلیں ہیں ۔فائل کیا ہے لائف ہے  اور جنہیں سرینگر میں پیش کرو یا جموں میں پیش کرو کی گردان لکھی جاتی ہے تاکہ لوگ امید باندھے رکھیں کہ امید پر دنیا قائم ہے اور اگر عوام الناس کی امید ٹوٹی تو  ان کی سانس رُک جائے گی اور اگر عوام کی سانس رُکی تو حکومت کس پر چلائی جائے گی۔ظاہرہے سینے کے اندر دھونکنی چلنی چاہئے دھک دھک ، جبھی تو دربار کے عیش عشرت قائم رہیں گے۔ویسے اس میں شکایت کس بات کی کہ راجہ اور پرجا میں یہی تو فرق ہوتا ہے۔اتنی دیر یہاں ملک کشمیر میں پرجا بستی تھی کہ انہیں عادت ہو گئی ہے۔گرد سے اَٹی سڑکوں، کھڈوں بھری راہ داریوں، گند سے بری نالیوں ، بلا روشنی کے قمقموں کے درمیان عبور و مرور اور اگر انہیں صاف راستوں پر چلایا جائے تو کوئی تعجب نہیںکہ انہیں زُکام ہو جائے۔اسی لئے اب جو راجہ پدھارے ہیں تو صاف صفائی واجب بنتی ہے۔ 
رابط ([email protected]/9419009169)