خوش نصیب حجاج کرام سے!

ذو القعدہ کی آمد کے ساتھ ہی ذوالحجہ کے شایان ِ شان استقبال کے لئے دنیائے اسلام جوش و جذبے میں ڈوبا نظرآرہاہے ۔ ابھی سے دنیا کے ہر گوشے سے اقبال مندانِ ازلی جوق درجوق اور گروہ در گروہ کعبتہ اللہ کے گرد پروانہ وار جمع ہورہے ہیں ،مشتاقانِ دید پورے شوق وانہماک کے ساتھ ارض القرآن میں فوج درفوج وارد ہورہے ہیں، اللہ کے اس مبارک گھر کی طواف وزیارت اور سعی کے لئے لبیک کی صدائے جانفزا  الاپے دیوانہ وارچلے آرہے ہیں ۔ یہ سلسلہ کعبتہ اللہ کی تاسیں سے قیام قیامت تک جاری و ساری رہے گا ۔اہل ِ ایمان  کون ہوگا جس کا دِل اس خواب اور خواہش کو لے کر بے قرار نہیں کہ کم از کم زندگی میں ایک بار حج بیت اللہ کی سعادت اُسے حاصل ہو؟یہی ایک تمنا اور آروزدل میں لئے اَن گنت لوگ سفر آخرت پر روانہ ہوئے اور بے شمار خوش نصیبوں کی یہ مراد حین ِحیات میں ہی بر آئی ۔اس مقدس گھر کے جوار میں صرف ہزاروں برس سے جاری زَم زَم ہی تشنہ کامانِ حق کی پیاس نہیں بجھا رہا ہے بلکہ ازلی و ابدی ہدایت کا سرچشمۂ نور بھی یہاں متلاشیانِ حق کو سیراب کررہا ہے۔ارشادِ ربانی ہے:’’بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کے لئے تعمیر ہوئی ہے، وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے ،اس کو برکت دی گئی اور تمام جہانوں کے لئے مرکز ہدایت بنایا گیا ،اس میںکھلی نشانیاں ہیں‘‘۔ان آیات میں اطاعت وبندگی ،وفاداری و جاں نثاری کے وہ نقش ونگار منعکس ہیں جو رُشد و ہدایت کے امام ِالناس سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے یہاں کے درودیوار میںمنقش کئے ۔ اس مقدس گھر کی تعمیر جس پیغمبرانہ جلال اور موحدانہ خلوص سے عظیم المر تبت باپ اور بے نظیرسعادت مند فرزند ( سیدنا اسمعٰیل علیہ السلام) نے کی ،اُسے اس حد تک بارگاہِ الہٰیہ میں شرف ِ قبولیت حاصل ہوا کہ جب تک آفتاب مغرب سے طلوع نہ ہو،راہ روانِ حق لاکھوں کی تعداد میں ہر خطہ ٔ زمین سے کھینچ کھینچ کے یہاں مستانہ وار کعبہ ٔ  مشرفہ کے گرد سات طواف کرنے کارُوح پرور عمل جاری رکھیں گے ۔بیت اللہ ۔۔۔ہاں مرکز امن و امان ،جو بھی اس میں داخل ہوا محفوظ و مامون ہوا (آل عمران)
یہ بات قرآن مجید میں الم نشرح ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام حنیف یعنی یک رو تھے ، بت شکن تھے، شرک مٹانے والے پیغمبر توحید تھے ،خدائے یکتا کے داعی اعظم تھے، ابوالانبیاء ؑ تھے۔آپ علیہ السلام نے ماسوا اللہ سے کٹتے ہوئے اللہ سے وفاداری اور اطاعت کا رشتہ جوڑ کر جو بے مثال تاریخ رقم کی ،اُس کا حرف حرف تاباں اور لفظ لفظ درخشندہ ہے۔ آپ علیہ السلام نے حیاتِ مستعار کا رُخ کلی طور اپنی قوم ، اپنے گھرانے اور اپنے باپ کے برعکس اللہ کی جانب موڑ لیا ،اُسی کو اپنی طلب و سعی کا مرکز بنالیا ،اسی پر اپنی مبارک نگاہیں مرکوز کرلیں ،جاں و تن سب اُسی کے سپرد کرلیا تھا ، والد سے والہانہ رشتہ ،وطن کی محبتیں ،گھر ،زوجۂ محترمہ ،فرزند دل بندغرض اپنی ساری دنیا اور متاع ِحیات صرف اُسی خدائے واحد کی رضا کے حصول میں دیدہ ودل سے وقف کی …..مولا کے ہر ارشاد، ہر ؤبروئے چشم ، ہر حکم و ہدایت کی تعمیل میں ہر آن مستعد رہے۔نار ِ نمرود میں کودنے کا ارشاد ہو ،وطن مالوف چھوڑنے کا حکم ہو، بت تراش وبت پرست باپ کے لئے دعائے استغفار ترک کرنے کی ہدایت ہو یا اپنی عفت مآب شریک ِحیات اور شیر خوار بیٹے کو وادی ٔغیر ذی زرع میں عالم تنہائی میں یکہ و تنہا چھوڑنے کا حکم ہو، تعمیر کعبہ کا ارشاد ہو یا شباب کی دہلیز پر کھڑے جوانِ رعنا فرزند ارجمند کی قربانی کا حکم ۔۔۔ہر آن لبیک اللھٰم لبیک کی صدائے روح و دل احکامِ الہٰیہ تعمیل کی لازوال تاریخ رقم کرتی رہی۔قابل ِداد ولائق ِدید یہ کہ کسی بھی حکم خداوندی کے تعلق سے چوں وچرا کیا، نہ صلے ا ور ستائش کی تمنا میں سوائے خوشنودی ٔ رُبانی کی کوئی پرواہ کی بلکہ  ع  
 سر تسلیم ِ خم ہے جو مزاج یار میں آئے  کا عملی ثبوت پیش کیا کہ عقل محوتماشائے لب ِ بام رہی اور عشق پر اعمال کی بنیاد پڑی۔ یوں للہیت و عبدیت کی ایک ایسی تاب ناک سنت براہیمی ؑ کی صورت میں وضع ہوئی کہ دنیا ئے محبت آج بھی سیرت ابراہیم ؑ پرسر دُھن رہی ہے اور َوالذینِ ا ٓمنو اشدُ حُبا للہ کی اس عملی تصویر و تفسیر کو دیکھ کر ہر زمین و زمن سے سلامُ‘ علیٰ ابراہیم کی بے محابہ صدائیں فضا میں ارتعاش پیدا کر رہی ہیں۔ 
بیت اللہ۔۔۔ رب ِجلیل کا آزاد و آباد وشاداب گھر ۔۔۔اس گھر کی تعمیر کا حکم دینے والے اللہ تبارک وتعالیٰ نے پہلے ہی اس بات سے آگاہ کردیا تھا کہ میری بندگی میں کسی کو شریک و سہیم نہ بنانا (سورۃالحج)اور جواب میں اس پیکر خلوص و وفا پیغمبر علیہ السلام نے کہا:’’ہماری ذُریت بھی تیری ہی فرمانب بردار رہے‘‘اور اس مقدس گھر کی تعمیر کے دوران یہ دعا و مناجات لب ہائے مبارک پر تھی :’’اے ہمارے رب !ہم سے ہماری یہ خدمت قبول فرما،تو سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘اس گھر کے طواف کے ساتھ ساتھ حج کے جملہ مناسک میں حکمتوں کا ایک خزینہ مخفی ہے ۔یہ صفا و مروہ کا قرنوں سے چلا آرہا تشنہ کامانِ حق کی بھاگم دوڑ بھی کچھ یوں ہی نہیں بلکہ ملت مر حومہ کی ایک عظیم المرتبت ماں( بی بی ہاجرہ علیہا السلام) کی اُس بے قراری کا برملا اظہار بھی ہے جو اپنے معصوم اور شیر خوار بچے کی تشنہ لبی کو برداشت نہ کرتے ہوئے تلاش ِآب میں بے آب وگیا پہاڑوں میں اِدھر سے اُدھر اور وہاں سے یہاں عالم ِاضطراب میں سعی کررہی ہیں، انہیں رضائے رُبانی کے حصول کے لئے اپنے شوہر نامدار ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اس لق و دق صحرا میں یکہ و تنہا چھوڑاتو نہ صرف یہ کہ جبین ِ نازپہ کوئی شکن تک نہ لائی بلکہ اس فیصلہ پر مطمٔن اور فرحاں و شاداں رہے ۔ اندازہ کیجئے شوہر نامدار اس لق ودق صحرا میں چھوڑ کے جار ہے ہیں ،پلٹ کر دیکھنے کی اجازت نہیں ،پلٹ کر دیکھ لیتے تو شاید شفقت ِپدری غالب آجاتی اور سیدہ ہاجرہ علیہ السلام کی درماندگی بحر قلب میں تلاطم بپا کردیتی ،آپ ؑ تو تھے ہی رقیق القلب (وہ نرم دلی جس کی مدح سرائی قرآن کرتا ہے )شوہر نامدار باذن اللہ جار ہے ہیں اور وفا شعار اہلیہ محترمہ بس اتنا پوچھنے پر اکتفا کرتی ہے کہ کیا  ایسا کرنے کا حکم اللہ نے دیا ہے؟سیدنا ابراہیم ؑ کے یک لفظی جواب ’’ہاں‘‘نے قلب ِہاجرہ کو سکینت و مصابرت اور اطمینان کی دولت سے مالا مال کردیا ،پھر ایمان و ایقان کی دولت نے ایسا کو ہِ استقامت بنا کے رکھ دیا، فرمایا پھر کوئی غم نہیں ’’اللہ ہمیں ہلاک نہیں کرے گا‘‘۔ ان کے اللہ ہی واحد کعبہ  ٔ مقصود تھا، یعنی نہ اپنی نجی عافیت کی فکر ، نہ اپنے ذاتی آرام سے غرض ۔ حب ِ الٰہی سے سرشار ا س مہر بان مادرِ ملت کی صفا و مروہ کے درمیان مضطربانہ دوڑ اور ممتا بھری اُچھل کودمولائے کریم کو اتنی بھائی اور عرش ِالٰہی سے اسے سند قبولیت حاصل ہوئی کہ عمرہ و حج کی سعادت پانے والوں کے لئے قیامت تک ہوبہو اسی انداز کی دوڑ کی نقل اُتار نا لازمی قرار پایا ، آنے والا میر و فقیر ہو یا شاہ و گدا،اس ادائے ہاجرہؑ کو دہرانا حج وعمرہ کے مناسک میں شامل ہے ۔ ایک لطیف اور غور طلب نکتہ یہ ہے کہ کعبے کا طواف خلیل اللہ علیہ السلام اور ذبیح اللہ علیہ السلام سے منسوب ہوجب کہ سعی صفا ومروہ بی بی ہاجرہ علیہ السلام کے نام لکھا گیا۔ اس نازک نکتے پر ان سرپھروں کو غور کرنا چاہیے جو اسلام پر طبقہ  ٔ نسواں یا خواتین کے تئیں امتیاز بر تنے کی بے ہودہ پھبتی کستے ہیں ۔
ہاجرہ علیہا السلام ____اپنے شیر خوار بچے ( اسمعیل علیہ السلام) کے ساتھ صحرا و بیاباں میں ہیں، بھیانک اور ڈراؤنی راتیں ہیں،شدت کی گرمیاں ہیں، موذی جانوروں کے خطرات ہیں ، خوراک ناپید ہے ، لیکن قلب ِ مطمئنہ والی اُمت کی یہ ذی شان ماں دنیا و مافیہا کی فکروں سے آزاد ہیںکہ انہیں اپنے مولا پر غیر متزلزل توکل واعتماد ہے کہ قادر مطلق کوئی نہ کوئی سبیل ان کے لئے ضرور پیدا کر ے گا۔یہی یقین و توکل کی دولت تھی کہ چاہ ِزمزم پھوٹ پڑا اور اتنا بے تابانہ اور بے محابہ پھوٹ پڑا کہ رُکنے کانام نہ لیا، تب سے اب تک تشنہ کاموں کی اس سے پیہم سیرابی ہورہی ہے اور تاقیام قیامت ہوتی رہے گی۔اس سعی وجستجوکا یہ پیام واضح طور پر آج بھی سنائی دے رہا ہے کہ جب بندگانِ خدا بس اپنے کو کامل طور اُس اللہ کے سپرد کریں،دلوں کی دنیا میں ماسواء اللہ کے لئے کوئی جگہ نہ رکھیں ، بس اُسی کی ایک ذات اقدس کو عبادتوں ، دعاؤں، حاجت طلبیوں،آرزئوں ، اُمیدوں کا مرکز و محور بنائیں تو پھر انسانی عقل و فہم کو حیران کرنے والی امداد ونصرت مقدر بن کے رہ جاتی ہے۔من کان للہ کان ا للہ لہ(جو اللہ کا ہوا، اللہ اس کا ہوجاتا ہے)کا ارشاد اسی آفاقی اصول اور دائمی سبق کو   تر وتازہ کرتا ہے ۔
مسلم اُمہ آج جس گرد اب ِبلا میں پھنس چکی ہے ،بے کسی اور بے بسی کا عالم اس پر حاوی ہے،غیر یقینی صورت حال کا دور دورہ ہے،نہتے اور بے بس پیرو جواں پر قہر وستم کی بجلیاں گرائی جا رہی ہیں، ایسے میں کیا ابراہیم ؑ و ہاجرہ ؑ کی طرح اللہ پر کامل توکل و اعتماد کئے بغیر ہمیں حالات کی سولی پر چڑھنے سے گلو خلاصی ملے گی ؟ کیااللہ کی اطاعت کا قلادہ گردن میں ڈالے بغیر اور راہِ حق میں اپنا سب کچھ نچھاور کئے بنا کامیابی کا سہرا ہمارے سر بندھے گا،ہمیں محض نیک خواہشات کے عوض عظمت ِ رفتہ حاصل ہوجائے گی ؟کیا ایسا ممکن ہے؟ قطعی  نہیں ۔ یہ دنیاcause and  effect ( کر واور بھرو) کے سنت ِالہٰیہ سے بندھی ہوئی ہے ۔ سوال یہ ہے کہہمارے حالات کیسے بہتری  کے لئے بدلیں گے ؟پتھریلے اور سنگلاخ معاشروں میںصالحیت اور نیکو کاری کے چشمے کیسے پھوٹیں گے ؟جو رو ظلم کے خار زاروں سے پا برہنہ لوگوں کے لئے آبلہ پائی کا راستہ کیسے نکلے گا ؟ قہر و استبداد کی سیاہ راتوں سے سپیدۂ سحر کی نموداری کیسے ہوگی ؟کمزورکاوشیں کیسے پروان چڑھیں گی ؟ دنیا کی اُن طاقتوں کا جو اس وقت فرعونیت اور نمرودیت کے تخت شاہی پہ بیٹھ کر دھاڑیں ما رہے ہیں اور اُمت مسلمہ کی بے بسی اور بے کسی دیکھ کر اس کی ہوا اُکھاڑنے میں فیل بدمست بنے ہیں ،ہمیں آپس میں لڑانے اور باہمی جدال و قتال میں مصروف رکھنے کے لئے مارِآستین کا خوب استعمال کررہے ہیں ، ہمارے مابین اختلافات وافتراقات کی بھٹیاں سلگاکر کدورتوں ، نفرتوں اوررقابتوں کی ایسی  مکدرفضا بنا رہے ہیں کہ مسلمان ایک دوسرے کو دشمنوں کی طرح تیکھی نظروں سے گھور ر ہے ہیں ،باہمی رنجشوں نے دلوں کو زنگ آلودہ کردیا ہے ، مکاروعیار حریف نے اب ہمیں وہاں لاکھڑا کردیا ہے کہ جہاں ہم ایک دوسرے کے دین وایمان پر شک کرنے سے بھی احتراز نہیں کر تے۔۔۔ آخر یہ ہمیں ہو کیا گیا ہے ؟؟؟ذہن نشین رہے کہ وہ مولا جو سنگلاخ زمین سے زَم زَم کا چشمہ جاری کرسکتا ہے، آج کیوں ہمارے دلوں میں محبت ،مودت اور اُخوت کے دریا بہا نہیں سکتا ؟اصل میں ہم سے جو اخلاص و وفا مطلوب تھی ،وہ ہم میں مفقود ہوئی ہے۔یاد رہے انتشار و افتراق کی زمین کے نیچے راحت،امن ،سکون ، مودت، محبت کا سرچشمہ تو موجود ہے لیکن ہم اسے ایک ساتھ نکالنے ،کھوجنے اور دھونڈنے کی سعی کریں تو سہی ۔ہماری پہچان بس ایک مسلم کی ہے ( اور یہ نام اور شناخت بھی ہمیں ابراہیم خلیل اللہ ؑکے صدقے ملے ہے ) ،ہم نہ عجمی ہیں نہ عربی،کالے نہ گورے، شروی ہیں نہ غربی، کیونکہ ان نسبتوں میں کوئی عزت و وقار نہیں اور اللہ کے یہاں وہی قوم سرفراز و سر بلند ہے جو اُس کے رنگ ( صبغۃ اللہ)میںرنگ جائے اور بس۔
    بیت اللہ تو ایک شعائر اللہ ہے ،علامت ِ وحدت ہے ، مرکز ِ دل اور راحت ِجان ہے مگر مطلوب و مقصود تو صرف اللہ ہے اور مشیت الٰہی یوں بیان کی گئی ہے،ترجمہ:’’جو اللہ کے دامن کو مضبوطی سے تھامے گا، وہی راہِ راست پائے گا ‘‘(آل عمران۱۰۱۔۳)۔
حاصل بحث یہ کہ مشتاقان ِدید کے قافلہ ٔ حجاج اب ارضِ مبارک کی جانب روں دواں ہیں ،منیٰ عرفات ،مزدلفہ میں قیام اور رمی جمار کا عمل ہمیں نفس کے بے لگام گھوڑے کو لگام دینے اور رنگ ونسل ، زبان وقومیت ، وطن و حیثیت کے فطری اختلاف کو چھوڑ کر اکٹھے رہنے اور ہر آن شیطانی فتن و شرور سے آگاہ ہوکر ان سے بچنے کا درس زریں دیتے ہیں ،اس سفر میمون پر روانہ ہونے والوں کو یہ روانگی ہر لحاظ سے مبارک ہو اور ان کی واپسی بھی اس انداز سے ہو کہ سرتاپا سے ایمان کی انقلاب انگیز تبدیلیاں ان کی سیرتوں اور رہن سہن اور بودوباش سے ہمیشہ ہمیش صاف صاف جھلکتی رہیں ۔ یاد رکھئے رمی جمرات کا عمل تو بس اسی بات کا تقاضا کرتا ہے کہ شیطان جو کھلم کھلا ہمارا اَزلی حریف اور ابدی دشمن ہے، اس سے ہم اپنے اور اوورں کے بچائو کا ہر سامان کرنے کے ساتھ ساتھ تازیست اس کے خلاف نبر آزما رہیں گے ، ہاں واپسی پر بھی پھر اسی دشمن ازلی سے ہمہ وقت مقابلہ ہوگا ۔یاد رہے شیطا ن ِ مردود زاہد پہ زُہد کے طریقے سے ،عالم پر علم کے دروازے سے اور جاہل پر جہالت کے راستے سے چھپ کر وار کرتا ہے اور یوں اپنے اصل ہدف تک دل پسند طریقے سے پہنچتا ہے۔عالم عرب کے ایک نامور مفکر نے اس کے ہتھکنڈوں کو کس بھلے انداز میں بیان کیا ہے:
(۱)کہ یہ مسلمانوں کے درمیان لڑائی جھگڑے اور فتنے پیدا کردیتا ہے ، وہ بدگمانی پھیلاکربغض نفرت اور اختلاف پیدا کردیتا ہے(۲)وہ بدعات کو خوش نما بناتا ہے ،وہ ’’جدید عبادت ‘‘کے نام پر مسلمانوں کو اُکساتا ہے۔(۳)تاخیر ۔وہ سنجیدہ اور با مقصد کام کرنے والوں کو تاخیر پر آمادہ کرتا ہے ،نیکی کرنے والوں سے کہتا ہے کہ بعد میں کرلینا ،وہ سستی اور کاہلی پر اُکساتا ہے۔(۴) تکبر و غرور، یہ شیطان کی ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے وہ جنت سے نکالا گیا ۔(۵)شک۔شیطان انسان کو شک میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ وہ نیکی ترک کریں۔(۶)ڈرانا۔ اہل ایمان کو اپنے لشکروں ،پیرو کاروں اور ساتھیوں سے ڈراتا رہتا ہے ،وہ صدقہ،خیرات کرنے والوں کو ڈراتا رہتا ہے کہ تم نادار ہوجائو گے۔
شیطان کے طور طریقوں اور مکارانہ حربوں کے بارے میں علامہ ابن قیم ؒنے چھ تدریجی مراحل بیان کئے ہیں:
٭ شیطان کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ انسان کفر اور شرک کرے ۔
اگر شکار مسلمان ہو تو پھر شیطان دوسرا مرحلہ اختیار کرتا ہے کہ وہ بدعت پر کاربند ہوجائے۔ 
 اگر مسلمان سنت پر سختی سے کاربند ہو تو شیطان اُسے گناہ کبیرہ پر اُکساتا ہے ۔
اگر انسان اس سے بھی اپنے آپ کو بچالے تو شیطان مایوس نہیں ہوتا اب وہ اُسے چھوٹے گناہوںپر آمادہ کرتا ہے ۔
اگر وہ چوتھے مرحلے میں بھی اس کا شکار نہ بنے تو شیطان انسان کو زیادہ تر مباح کاموں میں مشغول رہنے پر اُکساتا ہے تاکہ وہ اہم اور سنجیدہ کاموں کو نظر انداز کردے۔
چھٹا مرحلہ یہ ہے کہ وہ انسان کو افضل کے بجائے غیر افضل کام میں مشغول کردے مثلاًوہ سنت کا تو اہتمام خوب کرے لیکن فرض کو نظر انداز کردے،نفلی نمازیں تو پابندی کے ساتھ ادا کرے مگر فرض نماز ترک کردے۔
علامہ فرماتے ہیں:ہر عقل مند جانتا ہے کہ انسان پر شیطان تین جہتوں سے حملہ کرتا ہے:
٭ اسراف و زیادتی:انسان کو زائد از ضرورت سہولت حاصل کرنے پر اُبھارتا ہے ،اس کا توڑ یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو مطلوب سہولیات مکمل طور فراہم کرنے سے بچے ،وہ غذا،نیند ،لذت ،راحت ہر ایک سہولت سے ضرورت کے مطابق ہی فائدہ اُٹھائے ،شہوات و ممنوعات سے دور رہے ، یوں وہ دشمن کی مداخلت سے محفوظ ہوجائے گا۔
٭غفلت: اللہ کو ہر وقت یاد کرنے والا گویا قلعہ بند ہوجاتا ہے ،جب انسان ذکر سے غفلت برتتا ہے تو قلعہ کا دروازہ کھل جاتا ہے ،دشمن اندر آجاتا ہے ۔
٭لایعنی امور میں مشغولیت :شیطان انسان کو لایعنی معاملات میں گھسیٹنے کی کوشش کرتا ہے، لہٰذا انسان کو تمام فضول اور غیر تعلق امور سے الگ تھلک رہنا چاہئے۔ان سبھی ہتھکنڈوں اور شرور کو حدیث نبویؐمیں یوں سمیٹ لیا گیا ہے :’شیطان فرزند آدم میں خون کی طرح دوڑتا ہے‘‘۔اُم المومنین سیدہ عائشہ ؒفرماتی ہے کہ آپؐ بہ کثرت یہ دعا پڑھا کرتے تھے:’’اے دلوں کے پھیرنے والے !میرے دل کو اپنے دین اور طاعت پر ثابت و برقرار رکھ ‘‘۔ (مسنداحمد) 
زائرین حرمین شریفین یہ بھی یاد رکھیں کہ حج نفوسِ انسانی کی تربیت وتزکیہ کا ایک عالمی مدرسہ ہے ۔اپنے نفس کو خوب صورت بنانے کا یہ زریں موقع ہے ۔یہ بخل سے دو ر رہنے اور انفاق و ایثار کا درس بھی دیتا ہے کیونکہ اس سفر کے لئے اُسے مالی لحاظ سے بھی بہ طیب خاطر ایک قربانی کا اظہار کرنا ہوتا ہے ، اَقارب سے ایک خاص مدت تک دوری اور سفر کی مشقت اُٹھا نے سے اُس کا عزم و ارادہ بھی مستحکم بن جاتا ہے اور اُسے صبر و برداشت کی تربیت بھی حاصل ہوتی ہے ۔میر و فقیر کے ایک ساتھ چلنے پھرنے اور سجدہ ریز ہونے سے مساوات و برابری کا درس بھی ملتا ہے اور تکبر کا بت ِپندار بھی پاش پاش ہوجاتا ہے۔اس مبارک سفر پر روانہ ہونے والے سعادت مند رخت سفر باندھ رہے ہیںلیکن خیال رہے کہ غرور و تکبر کہیں پاس بھی نہ پھٹکے، بیم و رجا کے درمیان اس سارے عمل کی قبولیت کے لئے بہ دیدۂ تر دست بہ دعا رہا جائے اور احباب و اقارب جو نمائشی دعوتیں سجاتے ہیں،اُن میں اپنا وقت صرف کرنے کے بجائے حج کے مناسک کی کلی تر بیت اور اس کے حکمت و فلسفہ سے آشنا ہونے کے لئے مستند علماء سے مستفید ہونے میں مشغول رہیں۔اس سعادت کی ابتداء اشک بار دعاؤں سے کی جائے ۔ دعا ئیں اپنے لئے ، اپنوں کے لئے ، ملت ِبیضا کی کامیابی کے لئے ، ستم زدگانِ اُمت کی حفاظت کے لئے ، داعیانِ دین کے صبر و ثبات کے لئے، جموں کشمیر میں ظلمت کی گھٹائیں دور ہونے کے لئے، قبلہ ٔ اول کی بازیابی کے لئے ، عالم انسانیت کی پراپر جائی کے لئے اور پوری دنیا حق وعدل کی حکمرانی کے لئے گڑگڑا کر کیجئے ۔ علی الخصوص سفر محمود پرروانگی اور واپسی کے وقت کسی ایسے ریا کارانہ عمل کا ارتکاب کرنے کی کسی اپنے اور غیر کو قطعی اجازت نہ دیں جو شریعت کی مطہر تعلیمات سے میل نہ کھاتا ہو۔جاتے وقت بے جا نعرے بازیوں اور تالیاں پیٹنے کے غیر شرعی افعال سے اجتناب ہواور اس موقع پر’’ وَنہ وُن‘‘ کی جس رسم قبیح کا کہیں کہیں اہتمام ہوتا ہے ایسا کبھی نہ ہونے دیں،نہ واپسی پر خیر مقدم اور استقبال کے نام پر کسی ایسی غیر شرعی حرکت کا ارتکاب ہو جو شیطان کی محبوب و مقصود تو ہولیکن رحمن کی رحمت سے دور لے جانے والی ہو۔اگر خدا نخواستہ ایسا ہوا تو سوائے ماتم کے کیا کیا جاسکتا ہے!!!!
یاد رہے کہ اس مبارک سفر میں اپنے مولا کو پہچاننا اور اسی کو معبود ومسجود اور رازق و رزاق ماننے کے عہد کی تجدید کرکے ہی حاجی صاحبان کوواپس لوٹنا ہے اور اُس کے حدود شرعی کی پابندی کا اقرار ہی روحِ حج ہے ۔بندہ ٔحرص و ہوس  اور مادہ ونفس نہیں بلکہ ہر ہر عمل سے مولا کی بندگی کا اظہار ہو ، نہیں تو لاکھوں اس سفر مبارک پر روانہ ہوتے ہیں لیکن حساس نظر وسنجیدہ فکر اقبال کو حرم ’’خالی ‘‘ہی نظر آتا ہے، کیوں  ……… اُ سے تلاش اُن سعی و طواف کرنے والوں کی ایک بار پھر ہے،جو یہاں حاضری کا اعلان کرکے عہد بندگی کی تجدید کرتے ہوئے جا ں سے گزرنے کی قیمت پر بھی بندگی کا عہد نبھاتے   رہیںعلامہ نے اپنا   ا ندرون یوںبیان کیا ہے   ؎
  اپنے  رزاق کو  نہ  پہچانے  تو   محتاج   ملوک  
  اور  پہچانے  تو  ہیں  تیرے گد ا  دار  اوجم
 دل  کی آزادی  شہنشاہی  شکم  سامان ِ موت 
فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے  دل  یا شکم
اے مسلمان اپنے دل سے پوچھ مُلا سے نہ پوچھ 
ہوگیا  اللہ کے  بندوں سے کیوں  خالی  حرم
فون نمبر9419080306
))))(((()))(((