خود شناسی کا عمل اور ہماری نوجوان نسل

بے شک انسان کے لئےخود شناسی کا عمل اُس کی خوشی کے حصول کو آسان بناتا ہے، جسے نظر انداز کرناہر صورت میںغلط ثابت ہوجاتا ہےکیونکہ انسان کا اپنا ذہن اور ذہنی ماحول کی صفائی و ستھرائی بھی اُس کی خوشی کے حصول میں مدد فراہم کرتی ہے۔اس لئے ہمارے معاشرے کی نوجوان نسل کے لئے لازم ہے کہ وہ ہر حال میںاپنے نصیب اور قسمت کو جگانے کے لئے اپنے ذہن سے ہر قسم کی منفی باتوں، منفی عادتوں ، منفی رویّوں اور فضول خیالات کو نکال پھینک دیں،جو اُسے ایک بہترین انسان بننے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔نوجوان نسل اپنے دل ودماغ میں خوشیوں اور کامیابیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ جگہ بنائیںتاکہ یہ عمل خوشیاں تلاش کرنے میں اُن کا بہترین مونس ورفیق ثابت ہوسکے۔ خصوصاًہماری پڑھی لکھی نوجوان نسل ،جسے بےروزگاری کے اہم و پیچیدہ مسئلے نے گھیر کر مختلف قسم کی پریشانیوں میں مبتلا کررکھا ہے ،کے لئے ضروری ہے کہ وہ خود کو ایک پیداواری، موثر اور بہترین انسان بنانے کے لیے اپنا دماغ اور اپنی دماغی صلاحیتوں کو ہر حال میںبرقرار رکھنے کے لئےپُر امید رہنے کی عادت ڈالیںاور بڑی بڑی مادّی خوشیوں کے لیے خود کو ہلکان کرنے کے بجائے چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی اہمیت کو سمجھیں اور ہر ممکن حد تک قدمے و سخنے اپنے والدین اوردوسروں کےلئے آسانیاں پیدا کرکے اُن کے کام آئیں۔کیونکہ خدمتِ خلق کے تحت دوسروں کے کام آنے کا جذبہ خوشی کا وہ انمول اور قیمتی احساس عطا کرتا ہے جو قلبی و روحانی طور پر انسان کومضبوط اور توانا بناتا ہے اور بالآخر اُسےکامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ظاہر ہے کہ جوانی زندگی کا بہترین دور ہوتا ہے، جس میں علم و عمل کی بنیادیں مضبوط رکھی جائیں تو وقت کی آندھیاں بھی اُنہیں ہلا نہیں سکتیں۔اس لئے نوجوان نسل مایوسی اور پژمردگی سے بچنے کے لئے اپنے عزائم کو توانا رکھیںاور یہ جان کر درخشاں ستارہ بنیں کہ زندگی صرف کامیابی کا مجموعہ نہیں بلکہ ناکامی بھی اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن ہر ناکامی کے بعد کامیابی ملتی ہے، ہر مشکل کے بعد آسانی بھی ہوتی ہے اورسُلگتے مسائل ہی قدموں کو تیز دوڑاتے ہیں۔اس لئے گلے شکوئوں سے بچیں،والدین کی عزت کریں،رشتہ داروں کا احترام کریں،منشیات کو ہاتھ نہ لگائیں،بے راہ روی، آوارہ گی و جرائم سے دور رہیںاور ناجائز کو کسی بھی حالت میں جائز نہ سمجھیں۔ کیوں کہ جو کوئی فردکچھ کر نہیں سکتا ،و ہی یہ سب کچھ کرتارہتا ہے،یہاں تک کہ اپنا دماغی توازن تک کھو بیٹھتا ہے۔ زندگی کو پُر سکون و دل کش بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر حال میں نا پسندیدہ امور سے دور رہا جائے،مشکلات کا مقابلہ کیا جائے اوراپنی اُمید کو توانا رکھا جائے۔یا د رہے کہ خود کو کسی بھی قسم کی پریشانی میں پُرسکون رکھنے اور صبر کے ساتھ اسے بہترین طریقے سے نمٹانے کی کوششوں سے آپ کو زندگی میں سچی اور حقیقی خوشی حاصل ہوسکتی ہے اور اِس دنیا میں اپنی موجودگی کے مقصد کو تلاش کر سکتی ہے اور صدق دلی اور خلوص نیت سے تلاش کرنے سےہی مقصد حیات خودبخود آپ کے سامنے آن کھڑا ہوجاتا ہے۔ پھر آپ کا کام ہے کہ اپنی تمام تر توانیاں اور کوششیں اپنے مقصد حیات کے حصول کے لیے وقف کردیں۔دراصل مقصد حیات ہی وہ منزل ہے ،جس کےلیے جہدوجہد کرنے اور اسے پانے کی خوشی دنیا کی باقی تمام خوشیوں سے بے نیاز کردیتی ہے۔ظاہر ہے کہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے ہیں،آج ہمارے یہاں جو صورت حال چلی آرہی ہے ،وہ بھی قائم رہنے والی نہیں ہے۔ کل کی کیفیت آج نہیں رہتی اور آج کی صورت حال کل نہیں رہ سکتی ۔یہی کچھ تو ہوتا آرہا ہے اور یہی کچھ ہوتا چلا جائے گا۔اس لئےاپنی زندگی میں خوشیوں کے دروازے کھولیں اور ہر قدم پر چھوٹی چھوٹی خوشیاں تلاش کرکے زندگی کو نئی چراغوں سے روشن کرتے ہوئے آگے بڑھیں اور اپنی شخصیت کی نشوونما اور اپنی ذات کا عرفان حاصل کرنے کے جدوجہد کی دوڑ میں آگے نکل جانے کی کوشش کریںاورہر لمحہ اس بات کو ذہن نشین رکھیںکہ جس چیز کی ہمیں ضرورت ہے ، وہ ہم سے زیادہ دور نہیںبلکہ ہمارے ارد گرد ہی موجود ہے۔دنیا اُمید پر قائم ہے اور آپ بھی یقین کے ساتھ اُمید رکھیںکہ بے شمار خوشیاں آپ کے انتظار میں ہیں اور وہ بہت جلد آپ تک پہنچنے والی ہیںاور آپ کا کام اُن کو تلاش کرنا ہے۔