خواتین کی زیب وزینت اہم وضاحتیں

س:۱-آج کل کشمیر میں بیشتر مسلمان مستورات میں یہ عادت عام ہوگئی ہے کہ خوب بنائو سنگھار کرکے گھرسے باہر نکلتی ہیں۔ دعوتوں وشادیوں پر اس کا زیادہ ہی اہتمام ہوتاہے ۔ دانستہ یا غیر دانستہ طور یہ بنائو سنگار غیر مردوں کو اپنی طرف مائل کرکے دعوتِ نظارۂ حسن کا موقعہ فراہم کرتاہے ۔ جب کہ گھروں میں اپنے شوہر کے لئے اس چیز کا زیادہ خیال نہیں رکھاجاتا ۔ براہ کرم شریعت کی رو سے مسئلے کی  وضاحت فرمائیں۔

شبیر احمد …بتہ مالو ، سرینگر
جواب:۱-اللہ نے خواتین کا مزاج اور ذہنیت ایسی بنائی ہے کہ وہ ہرحال میںبنائو سنگھارکاشوق رکھتی ہیںاور یہ مزاج اور شوق دراصل ایک اہم مقصد کے لئے ہے ۔ اور وہ یہ کہ وہ اپنے شوہر کے لئے محبوب اور پسندیدہ بنی رہے ۔ اس کا فائدہ زندگی کے ہر مرحلے میں دونوں کو ہوگا۔ میاں بیوی میں جتنی قربت ، ایک دوسرے کی چاہت اور محبت ہوگی اتنا ہی وہ ایک دوسرے کے حقوق  ادا کرنے ،ایک دوسرے کو راحت پہنچانے بلکہ ایک دوسرے کو خوش رکھنے کااہتمام کریں گے ۔ اس لئے عورت کے لئے لازم ہے کہ وہ یہ شوق ضرور پوراکرے مگر ا س طرح کہ وہ اچھے سے اچھا بنائو سنگھار(مگر شریعت کے دائرے میں)کرکے شوہرکوخوش رکھے۔ اُس کی پسند کو ہروقت ملحوظ رکھے اور اگر وہ یہ کرے اور نیت یہ ہو کہ میرا شوہر مجھ سے خوش رہے ۔ اُس کا میلان میری طرف برقرار رہے ۔اس کو مجھ سے کوئی تکدر نہ ہو اور اس غرض کے لئے وہ صاف ستھری رہے ۔ اچھے کپڑے استعمال کرے ، میلی کچیلی ہونے کے بجائے اپنے شوہر کے لئے معطر و پُرکشش رہے تو اس نیک اور عمدہ مقصد کے لئے یہ سب باعث اجر وثواب ہوگا ۔
لیکن اگر دوسروں کو دکھانے کے لئے بنائو سنگھار کرے اور اچھے کپڑے پہنے تو اگرغیر مردوں کو دکھانے کی نیت ہو تو یہ خطرناک گناہ ہے اور اگر غیر عو رتوں میں اپنی عزت وبرتری دکھانی ہو تو بھی یہ فخر وبرتری کی نمائش کی وجہ سے غیر شرعی ہے ۔ 
عورت دوسری کسی بھی جگہ چاہے تعزیت کرنے جائے یا کسی تقریب میں جائے ،اقارب یا پڑوسیوں سے ملاقات کے لئے جائے یا شادی بیاہ کی تقریبات میں اگر وہ ایسا بنائو سنگھار کرتی ہے کہ جس میں دوسرے اُس کی طرف بُری نظروں سے دیکھنے پر مجبور ہوجائیں تو اس کا گناہ جہاں دیکھنے والوں کو ہے وہیں اس خاتون کو بھی ہے۔کیونکہ یہی دعوت نظارہ کا سامان لئے سامنے آتی ہے ۔ 
اس لئے قرآن کریم میں ارشاد ہے (عورتوں کا حکم دیتے ہوئے فرمایا اور تم جاہلانہ طرزِ پر بنائو سنگھار مت کرو)۔ اس میںایک تو غیر اقوام کی طرز اور وضع قطع اپنانے کوجاہلانہ کہاہے اور دوسرے اجنبی مردوں کے لئے اپنے آپ کو پُرکشش بنانے کوجاہلانہ روش قرار دیاہے ۔لہٰذا عورتوں کو چاہئے کہ وہ اپنے شوہروں کے لئے اچھا لباس ،اچھی وضع قطع ، عطر اور دوسرے لوازماتِ آرائش ضرور اختیار کریں ۔ ہاں بالوں کا کٹ کرنا ، بھنوئیں باریک کرنا ،بیوٹی پارلر جانا ہرگز درست نہیں ہے ۔  اور ساتھ ہی تقریبات میں جہاں غیرمردوں کا سامنا ہو ایسا بنائو سنگھار نہ کریں کہ اُن پر غیر وں کو دعوت نظارہ دینے کا جرم لازم ہوجائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:۱-جس جگہ مسجد تعمیر تھی ، پھر شہید کی گئی اور نئی مسجد کسی دوسری جگہ تعمیر کی گئی ۔پرانی مسجد کی جگہ کے کیا احکامات اور حقوق ہیں ؟

سوال:۲- کیا مسجد کے لئے وقف کی ہوئی چیزیں مثلاً فرش ، لیمپ ، گھڑیاں وغیرہ کسی دینی ادارہ یا درس گاہ یا مسجد کے مولوی صاحب کے ذاتی استعمال میں لائی جاسکتی ہیں یا نہیں؟

سوال:۳-اگرمساجد کی ملکیتی دوکان میں غیر شرعی کاروبار کیا جاتاہے تو انتظامیہ مساجد کی ذمہ داری کیا بنتی ہے ؟

محمد اکبر  …پلوامہ 

 

مسجد کی جگہ کے متعلق احکامات کی وضاحت

جواب:۱-مسجد اللہ کا گھرہے اور جہاں ایک مرتبہ مسجد بن گئی وہاں سے مسجد کو شہید کرکے دوسری جگہ منتقل کرنا ہرگزدُرست نہیں ۔ اگر کہیں مسجد شہید کردی گئی تو وہاں دوبارہ مسجد تعمیر کرکے اسے آباد کرنا وہاں کے مسلمانوں پر لازم ہے ۔ اگروہاں مسلمان آبادی نہ ہوتو دوسری جگہوں کے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اُس مسجد کی جگہ کی دیوار بندی کرکے اسے محفوظ کرایں ۔ 
 
 

مسجد کی املاک کا مصرف

جواب:۲-مسجد کے لئے وقف شدہ اشیاء کسی دوسرے مصرف میں استعمال کرنا ہرگز درست نہیں ہے ۔ اس لئے وقف شدہ اشیاء اس ادارے(مسجد ، مدرسہ ، یتیم خانہ وغیرہ)کی ملکیت ہوتے ہیں ۔اس لئے حدیث میں املاک وقف کے متعلق ارشاد ہے کہ نہ وہ فروخت کی جائیں ، نہ کسی کو بطور تحفہ دی جائیں نہ بطور وراثت کسی کو دی جائیں ۔ بخاری شریف میں حضرت عمربن خطابؓ کے اراضی خیبر کے متعلق حکم رسول ؐ یہی تھا ۔ اسی لئے تمام فقہا اس پر متفق ہیں کہ وقف کی املاک کو کسی دوسری جگہ صرف نہیں کرسکتے ۔ مسجد کا لیمپ،گیس وغیرہ اگر وقف کرتے وقت منتظمین کو اختیار دیا گیا ہے اور وہ انتظامیہ اس واقف کے دئے ہوئے اختیار کی بناء پر یہ اشیاء امام صاحب کو یا کسی دوسرے ادارے کو دیں تو اس کی گنجائش ہے ۔ اگر اجازت نہ ہو تو پھر دُرست نہیں ہے ۔
 
 

مسجد کی ملکیتی دوکان اور حرام کاروبار

جواب:۳-مسجد کی دوکان میں غیر شرعی چیز مثلاً چرس فروخت کی جاتی ہو۔ اگر یہ جرم ثابت ہے تو مسجد انتظامیہ پر یہ فرض ہے کہ ایسے شخص سے دوکان خالی کرالیں ۔چرس، افیم اور اس طرح کی دوسرے منشیات کی خرید وفروخت سراسر حرام ہے۔ حضرت نبی کریم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ (بخاری ومسلم)اس طرح کی نشہ آور اشیاء پر لعنت کی گئی ہے ۔شراب کے متعلق حدیث ہے کہ شراب کی وجہ سے دس افراد پر لعنت ہوتی ہے ۔اس میں پینے والے ،پلانے والے ،لانے والے ، اس کی تجارت کرنے والے ، اس کے انگو روغیرہ کا رس نکالنے والے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے والے وغیرہ سب شامل ہیں ۔ شراب کے علاوہ آ ج کی دوسری منشیات کا حکم بھی یہی ہے ۔ اس لئے شراب یا دوسری ایسی منشیات کی خرید وفروخت کے لئے جگہ مہیا کرنا کیسے درست ہوسکتاہے ؟ اگرچہ مسجد کی دوکان نشہ آور اشیاء کی خرید وفروخت کے لئے مہیا نہیں کی گئی ہے مگر جب کوئی اس دوکان کا استعمال اس حرام کام کے لئے بھی کررہاہے تو مسجد کے منتظمین پر لازم ہوگا کہ مسجد کی دوکان خالی کرالیں ۔ اگر وہ شخص یہ ضمانت دے کہ آئندہ وہ اس جرم کا ارتکاب نہیں کرے گا تو ایک موقعہ دینے کی گنجائش ہے ۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
 

مسجد کی داخلی مرمت کے دوران پاپوش پہننے کا مسئلہ

سوال:۱-ہمارے گائوں میں نئی جامع مسجد شریف کی تعمیر ہوئی ۔ جگہ نہ ملنے کی وجہ سے ہم نے اسی ادھوری تعمیر (under Construction) مسجد میں نماز ادا کی ۔ اب چونکہ ہم اس کی باقی مرمت اندر سے کرنا چاہتے ہیں ۔ کیا کام کرنے والے جوتے پہن کر اندرجاسکتے ہیں یا نہیں ؟
غلام محمد  …ٹنگمرگ کشمیر
جواب:۱-مسجد کے اندر نامکمل تعمیر کو مکمل کرنے کے لئے اگر جوتے یا چپل پہننے کی ضرورت پڑے تو اس کے لئے نئے چپل یا جوتے خریدے جائیں جو صرف مسجد کے اندر تعمیری کام کے دوران استعمال ہوں اور وہ جوتے یا چپل مسجد کے باہر ہرگز استعمال نہ کئے جائیں اور جب کام ختم ہوجائے تو پھر باہر استعمال کرسکتے ہیں ۔ باہر کے استعمال سے ان کے ناپاک ہونے کاخدشہ ہے اس لئے یہ حکم ہے ۔
 

شرعی لباس میں نماز پڑھنا افضل

سوال:-نیم آستین والے قمیص میں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں اور آ ج کل کے نوجوانوں میں کڑھے پہننے کا فیشن ہے ، کیا اسے پہنے ہوئے نماز پڑھنادرست ہے ؟
منجانب: -ایک سائل  ، کولگام
جواب:- افضل اور شرعی طور پرپسندیدہ یہ ہے کہ شرعی لباس میں نماز ادا کی جائے۔ چنانچہ قرآن کریم میں حکم ہے کہ ہر سجدہ کے وقت اچھی زیب وزینت کرو ۔ (سورہ الاعراف )۔ظاہرہے یہاں شرعی زیب وزینت ہی مراد ہے۔ شرعی لباس یہ ہے کہ پوری آستین والی قمیص جو رانوں تک ستر کرنے والی ہو اور ایسا پاجامہ یا پتلون جو ٹخنوں سے اوپر اور رانوں اور سر ینو کے مقام پر ڈھیلی ڈھالی ہو تاکہ ستر کے حصے کا حجم ظاہرنہ ہو اور سرپر عمامہ یا ٹوپی ہو ۔بس اس طرح کے لباس میں نماز پڑھناشریعت کا مطلوب ہے۔ مجبوری میں جب نصف آستین میں نماز پڑھی گئی تو وہ ادا ہوجاتی ہے اور جب کوئی ایسی حالت میں ہوکہ یا تو نماز چھوڑ دینی پڑے یا نصف آستین والی شرٹ میں نماز پڑھنی پڑے تو ایسی حالت میں اُسی شرٹ میں نماز پڑھیں مگر نماز ترک نہ کی جائے ۔
ہاتھوں پر کڑا یا دھاگا باندھنا اہل کفر کا شعار ہے ۔اس سے سختی سے پرہیز کرنا لازم ہے اس لئے کہ اس سے ایمان کو خطرہ ہوتا ہے۔اہل کفر کا کوئی شعار مثلاً قشقہ کھینچنا ،ماتھے پر ٹیکہ کرنا،صلیب لٹکانا ، زنار باندھنا ،ہاتھوں میں کڑے ڈالنایا کلائی میں لال یا سیاہ رنگ کے دھاگے باندھنا یا منکوں یعنی لکڑی کے دانوں کے ربن باندھنا یہ سب مختلف غیر مسلم اقوام کے مذہبی شعار ہیں ۔ مسلمانوں کو ان سے ایسے دور رہناضروری ہے جیسے کسی زہریلی چیز سے انسان دور رہتاہے ۔ زہرجان کے لئے خطرہ ہے او رکفر کا شعار اختیار کرنا ایمان کے لئے خطرہ ہے ۔