خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے مشن یوتھ کی تیجسونی سکیم کے تحت ای ڈی پی شروع

جموں//جموں و کشمیر انٹر پرنیور شپ ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ ( جے کے ای ڈی آئی ) نے تیجسونی ( دی ریڈینٹ) لائیولی ہُڈ اسکیم کے تحت انٹر پرنیورشپ ڈیولپمنٹ پروگرام ( ای ڈی پی ) شروع کیا جو کہ نوجوان خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں خود انحصاری کے قابل بنانے کے مشن یوتھ کی ایک خصوصی کوشش ہے ۔ یہ پروگرام پہلے مرحلے میں مرکز کے زیر انتظام علاقے کے 12 اضلاع میں شروع ہوا ۔ آنے والے دنوں میں یو ٹی کے تمام اضلاع کو اس اسکیم کے تحت لایا جائے گا ۔ جموں خطہ میں 204 امیدواروں نے ای ڈی پی میں حصہ لیا جن کا تعلق سانبہ ، ڈوڈہ ، کٹھوعہ ، ریاسی ، رام بن اور اودھمپور اضلاع سے ہے ۔ کشمیر کے علاقے میں بڈگام ، سرینگر ، کولگام ، بارہمولہ ، بانڈی پورہ اور گاندر بل سے تعلق رکھنے والے 142 امیدواروں نے پروگرام میں شرکت کی ۔ ای ڈی پی کے دوران امیدواروں کو بنیادی کاروباری تصورات جیسے بزنس پلان کی تشکیل مارکیٹنگ کے منصوبے ، اکاؤنٹس کا انتظام اور متعلقہ بہت سے دیگر موضوعات کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا ۔ جے کے ای ڈی آئی کے ڈائریکٹر انیل کول نے کہا ’’آج خواتین کا عالمی دن ہے اور کاروباری خواتین کیلئے اس طرح کا پروگرام شروع کرنے کیلئے اس سے بہتر کوئی دن نہیں ہو سکتا ۔ یہ اسکیم انہیں باوقار روزی روٹی کمانے میں مدد دے گی اور روز گار کے مزید مواقع پیدا کرے گی ۔‘‘اس اسکیم کا مقصد نوجوان خواتین کو ان کی مہارتوں ، تربیت ، اہلیت اور مقامی حالات کے مطابق فائدہ مند خود روزگار منصوبے قائم کرنے کیلئے مالی مدد فراہم کرنا ہے ۔ خواتین کاروباریوں کو جے اینڈ کے بینک سے مدرا لون کے تحت 5 لاکھ روپے تک کی مالی امداد حاصل کرنے میں سہولت فراہم کی جائے گی ۔ مشن یوتھ جموں و کشمیر 50 ہزار روپے یا پروجیکٹ لاگت کا دس فیصد ( جو بھی کم سے کم ہو ) بطور سبسڈی کی رقم فراہم کرے گا ۔ اس کے علاوہ قرض کے سود کا حصہ بھی مشن یوتھ کی طرف سے خصوصی ترغیب کے طور پر سپانسر کیا جائے گا ۔ خواتین ایک بار جب وہ مناسب مارکیٹ سے طے شدہ ہنر /ٹیکنالوجی سے لیس ہو جائیں تو وہ فائدہ مند خود روز گار کے منصوبے بنا سکتی ہیں ، اس طرح ان کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے اور مقامی سطح پر روز گار اور آمدنی کے لحاظ سے بھی سود مند ثابت ہو گا ۔ یہ اقدام ان کی سماجی و اقتصادی حیثیت میں اضافہ کرے گا اور قوم کی تعمیر اور سماجی و اقتصادی ترقی میں خواتین کواہم رول ادا کرنے کے قابل بنائے گا ۔