خواب ہیں پھولوں کے لیکن خار سے بھی دوستی

وہ جو کہتے ہیں تم ہمارا اَٹوٹ اَنگ ہو انہوں نے ہمیں ستر سال سے اپریل فول بنا ر کھا اور اب کی بار بھی اس کا مظاہرہ کیا۔ اپریل کی پہلی اتوار خون خرابہ ہوگیا، کوئی ڈیڑھ درجن جاں بحق ہوئے، سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ۔کئی ایک کی بینائی پر اثر ہونے کا خطرہ ہے۔کئی ایک مکان بھی جلائے گئے۔اور آر پار ملک کشمیر میں صف ماتم بچھ گئی۔ سادھنا ٹاپ سے سونہ مرگ ، بھمبر گلی سے بھدرواہ تک ہر آنکھ اشک بار ہوئی،ہر دل خون کے آنسو رودیا   ؎
عجب کیا ہے جو نو خیزوں نے سب سے پہلے جانیں دیں
کہ یہ بچے ہیں ان کو جلد سوجانے کی عادت ہے
 شبلی
چلو بھائی عیش کرو ، خوشیاں منائو، ڈھول تاشے بجائو،مٹھائیاں بانٹو،چراغان کرو اور یہ مت سمجھنا کہ کسی کو ہماری فکر نہیں۔کوئی اس جانی و مالی نقصان پر دکھی نہیں۔یہ الزام مت دینا کہ کسی کا دل نہیں پسیجا۔ارے بھائی اسی لئے تو کہتا ہوں کہ ناچو گائو کیونکہ نیشنل کے ٹویٹر ٹائیگر نے فوراً تین فوجی اور چار عام شہریوں کی موت پر دکھ کا اظہار کردیا۔ٹویٹر کی چڑیا فوراً پر پھڑ پھڑ اکر چوں چوں کرتی بین کرنے لگی۔اس نے اپنی چھوٹی چونچ سے ماتمی گیت گائے اور پھر دُکھ کے مارے دن بھر منہ میں ایک دانہ تک نہ ڈالا ، یعنی ملک کشمیر کے جوانوں کی موت کے غم میں حکام کے ساتھ ڈنر نہیں کھایا بلکہ بھوک ہڑتال کرڈالی کہ ہل والے کے حلق سے ایک نوالہ نہیں اُترا۔اُترتا بھی کیسے وہ تو ستر سال سے ملک کشمیر کا سوگ منا رہے ہیں ۔ کبھی ۱۹۵۳ میں اقتدار سے بے دخلی کا سوگ، کبھی بائیس سالہ آوارہ گردی کا ماتم ، کبھی جگموہن کے ہاتھوں بر طرفی کی سوگواری، اور اب مفتی آف بیج بہاڑہ کے ہاتھوں انتخابی شکست ۔اور اب تو ہل والے قائد ثانی نے یہ بھی انکشاف کیر ہی ڈالاکہ والد محترم نے اسے سیاست میں شمولیت سے باز رکھا بلکہ خود اس نے اپنے بیٹے کو بھی باز رہنے کی تلقین کی۔واہ کیا بات ہے! وہ تو خود ہی اہل کشمیر کام کاج چھوڑ کر سڑکوں پر نکل آئے اور جلوس کی صورت لال چوک میں ہل والے قائدین کو مجبور کیا کہ ہل والی مشعل قائد ثانی کے ہاتھ تھما دیں۔اور اگر نہ تھما دی تو ہم اَلہ کرے گا ’’وانگن کرے گا بب کرے گا ‘‘اور ’’یی ببس خوش کر تی کر لولو‘‘ نہیں گائیں گے۔مرتا کیا نہ کرتا ،بھلا اتنی بھیڑ کو کیسے نا کہا جا سکتا ۔ایک مجبوری اسوقت بھی سامنے آئی جب قائد ثانی نے سینئر پارٹی لیڈروں کی مخالفت کے باوجود یہی مشعل اپنے فرزند کوسونپ دی کہ چلتے رہو بیٹا ! اقتدار کی پری کو اپنے خاندان سے نہ بھگائو ۔اپنے لوگوں کی چھاتی پر مونگ دل لینا، سڑکوں پر انہی کا خون بہائو، پھر ٹویٹر پر آنسو بہائو  تو ہل والوں کے گناہ دُھل جائیں گے۔ کون کہتا ہے کہ ہل والوں کو اہل کشمیر کا دکھ نہیں ؟جبھی تو اپنے بال بچوں کا سکھ چین بھول کر اس وقت بھی زمام ہاتھ سے نہ چھوڑی، جب گجرات جل رہا تھا، جب ایک سو بیس مارے گئے،جب آسیہ اور نیلوفر کی روح تڑپی،جب طفیل اور وامق کا بچپن بکھر گیا۔ اتنا ہی نہیں خود بانوئے کشمیر مرد مومن کے خواب کی تعبیر پوری کرنے دلی چھوڑ کر وارد کشمیر ہوئی کہ اُسے بھی دکھ تھا۔وہ مائوں کے آنسو نہیں دیکھ پاتی۔کسے نہیں معلوم کہ ٹسوئے بہانے کے تمام تر جملہ حقوق اس کے ہاں محفوظ ہیں کہ اس کا بھر پور اظہار اس نے سالہا سال اقتدار سے باہر رہ کر کیا۔کوئی بھی گائوں محلہ گھوم کر آجائو بانوئے کشمیر کے آنسوں کی بو محسوس ہوگی۔ کوئی آنسو بہانے کی ٹریننگ اس سے لے پھر دیکھتے ہیں کس کی ماں سونا تولے گی اور کس کی ماں چاندی۔ وہ تو دورہ ٔدلی مختصر کرکے واپس لوٹی۔اسے تو بہت اہم کام نپٹانے تھے ۔بھارت پاک مذاکرات کے لئے دلی اسلام آباد کو آمادہ کرنا تھا ، آمادہ کیا ان پر دبائو ڈالنا تھا،دبائو کیا مودی اور خاقان عباسی کو کان پکڑ ے میز پر بٹھانا تھا کہ بات کرو ، ملک کشمیر کا مسلٔہ حل کرو اور اگر نہیں کرو گے تو میں اپنے سامنے اٹھک بیٹھک کرائوں گی، تب کہیں اسکول کے وہ دن یاد آئیں گے جب اُستانی چھڑی ہاتھ میں لئے مرغا بنواتی تھی لیکن کیا کریں ہماری تو قسمت ہی ایسی نکلی کہ اسے یہ اہم فریضہ ادھورا چھوڑ کر واپس لوٹنا پڑا ۔شومئی قسمت اب اہل کشمیر کو ایسی ہی ایک اور قربانی دینی پڑے گی کہ دلی اسلام آباد کو کشمیر یاد آئے کیونکہ جب کشمیری خون بہتا ہے تو ہند پاک کو سرینگر یاد آتا ہے۔ اور اپنے سیاسی بازی گروں کو ایسے وقت میں SOP یا د آتا ہے جبھی تو بانوئے کشمیر نے خاص میٹنگ بلا کر ایس او پی کی گردان کرائی ۔ ایس او پی نافذ کرنے والوں کی گدگدی ہوئی کہ وہ کنگن میں گوہر کو گولی مار گئے تھے اور کپوارہ میں مکانوں کی توڑ پھوڑ میں مصروف تھے ۔مگر مرد مومن کا خواب ہے ہی کچھ ایسا کہ بانوئے کشمیر کی آنکھوں میں پھر سے آنسو بہے ، کنگن کے شہید گوہر کے اہل خانہ سے ملی ، SOP  نافذ کروانے کا میٹھا بین کرگئی، ایک اور ماں کے منہ میں ٹھوس دیا اپنی نیک نامی کا پرچہ   ؎
پاپا کہتے تھے بڑا کام کرے گا
سیاست میں بڑا نام کرے گا
کرسی سے چپکے انجام یہ دیکھو
 لوگوں کا کام تمام کرے گا
ویسے یہ ہل والوں اور قلم دوات برداروں کی ہی بات نہیں بلکہ گائوں گائوں گھوم کر امن اور بات چیت بیچنے والے مرکزی مذاکرات کار دنیشور شرما کی بھی مہربانی ہے کہ اسے بھی ملک کشمیر میں بہنے والے خون پر دکھ ہے ، وہ بھی اس قدر غم زدہ ہے کہ تعزیت کرنے بانوئے کشمیر سے دلی میں ملا۔چار آنسو بہائے ۔وہ تو بانوئے کشمیر نے اپنے اسکارف سے خشک کئے ، نہیں تو بیچارہ دھاڑیں مار مار کرروتا۔اس کا تو زور زور سے رونا بنتا ہے کہ قریہ قریہ امن کے پرچم لہرانے گیا پر اتوار کے خون خرابے نے اس کی کوششوں پر ابلتا ہوا پانی پھیرا۔کیا کرایا دھرا رہ گیااور اتنا ہی نہیں بلکہ اُس آزادی کی نیلم پری کو بھی غلامی کی زنجیریں پہناگئے جو دل و دماغ کو وسیع و عریض بنا کر قلم کنول سرکار نے زندانِ حیدرپورہ کے گیلانی، وعظ خوانِ نگین کے میرواعظ اورسخن دان مائسمہ کے یاسین ملک کو عاریتاً دے ڈالی تھی۔سوچا تھا وہ بھی کیا یاد کریں کس جمہور پسند نوابن سے پالا پڑا ہے ۔پولیس والوں کو حکم شاہی دے ہی ڈالا کہ ان تین شہزادوں کو گھومنے پھر نے دو، جمعہ کی نماز پڑھنے دو، اپنے سگے سمبندھیوںسے ملنے جلنے دو، آزادیٔ تحریر و تقریر کا چھاچھم پرچم لہرانے دو۔ گھومیں پھریں گے تو ہمارا نام بھی اُنگلی کٹاکے شہیدہونے والوں میں درج ہوگا، یہ بھی دھوپ چھاؤں دیکھیں گے ، ان کو ایک ہی جگہ بیٹھے بیٹھے دن میںتارے گننے کی اضافی عادت کم ہوجائے گی ۔ آخر یہ کب تک بس چوری چھپے اخباری بیانات پر جییں گے ، کم ازکم ان کو بھی اپنی کڑوی زبان کا استعمال کرنے کا موقع تو دو، مابدولت کوان کونعرے ہم کیا چاہتے، چھین کے لیں گے، ہے آئی آئی آزادی کاوِرد کر نے تو دو ۔۔۔مگر وہ جو کہتے ہیں کہ سر منڈاتے ہی اولے پڑے۔ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہ ہونے پائے تھے کہ پولیس کو شوپیان کے مرگ زار سے خانہ نظربندی کا بھاری دورہ پڑا، فوراً جپسی واردِ حیدر پورہ ، داخلِ نگین ہوگئی ، عازم مائسمہ ہوئی، فوراً وہیں ڈیرہ جمایا ، آزادوں کے لبوں پر قلم کنول مارکہ فیویکول کی پرت چڑھائی اور تان سین کی آواز میں ان آزادوں سے کہا  ع
 بول کہ لب آزاد ہیں تیرے 
اب تینوں مہاشئے اپنے پیر ہلا نہیں پاتے، ہونٹ کھلا نہیں جاتے، ہاتھ چلا نہیں پاتے یعنی   ؎
آزادیٔ جمہورکے لائے تھے چار دن 
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
 چلئے حضور ابمنہ کا ذائقہ بدل دیتے ہیں ، کہتے ہیں کہ اب کی بار مودی سرکار نے قارون کا خزانہ لٹایا ہے، حاتم کی قبر پر لات ماری ہے، امبانی کی ذاتی خزانے پر ڈاکہ ڈالا ہے،جبھی تو یہ معاشی آزادی ہاتھ لگی ، اچھے دن آگئے، غریبی مٹ جانے کے آثار دکھائی دینے لگے۔اب بھوک سے کوئی نہیں مرے گا، کوئی بے تن پوش نہیں گھومے گا ، کوئی بنا روٹی کپڑا مکان نہیں پھرے گاکیونکہ سبسڈی گیس پر ایک روپے چوہتر پیسے کی کمی کرڈالی۔ عام آدمی جو پندرہ پندرہ لاکھ بنک میں جمع ہونے کا انتظار کر رہا تھا، اب خیر سے پریشانی میں مبتلا ہے کہ یہ بچت کا ایک روپیہ پچھتر پیسے کس کمپنی میں لگائوں تاکہ مستقبل سنور جائے اور باقی زندگی آرام سے کٹ جائے ، جے جے مودی ہر ہر مودی الاپتے گزر جائے لیکن اب انتظار ماررہا ہے کہ مودی مہاراج باقی کے چودہ لاکھ ننانوے ہزار نوسواٹھانوے روپے پچیس پیسے کس پورن جنم میں بنک کھاتے میں جمع کریں گے۔ چلو جی انتظار کا پھل میٹھا ہوتا ہے!!!
سب نے سنا ہوگا ہم نے بھی سناہے کہ عربی شاہزادے کا اونٹ کیسے دھیرے دھیرے ایک بہانے دوسرے بہانے سے اس کے تمبو میں گھس آیا پھر خو دہی ڈیرہ جما کر قابض ِ تمبوہ ہو بیٹھا اور عربی کو باہر کھلے آسمان کے نیچے زندگی کی صبح و شام بسر کرنا پڑی۔کچھ ایسا ہی ملک کشمیر کے ساتھ ہوا کہ ہل والے قائد اور ڈوگر دیش کے ساہو کار نے ایسے فوجی ٹولیوں کا آئو بھگت کیا کہ اب تک ڈیرہ ہی جما بیٹھے ہیںاور جب ہم ’’من تو شدم تو من شدی‘‘ کا نعرہ یاد دلاتے ہیں تو جواب ملتا ہے میرا گیا تیرا تیرا گیا ٹیں ٹیں ٹیں۔ایسے میں بھلا ہم کیا کریں۔ماربھی کھاتے ہیں ، جیل بھی جاتے ہیں، خون بھی دیتے ہیں بلکہ اتنا خون دیا ہے کہ اگر آزادی کی قیمت خون سے بدلی جائے تو ہم  نے سود سمیت اپنے دشمن کو سب چگتا کیا ہواہے۔کہاں ہم ملک خالی کرنے کی بات کرتے ہیں ،کہاں وہ زمین خالی کرنے پر آمادہ نہیں۔یقین نہ آئے تو سن لو بلکہ سن کر سر دُھن لو۔زرعی یونیورسٹی کا مانسبل افزایش نسل حیوانات کا فارم ۳۵۲؍ ایکڑ پر پھیلا تھا ، اب اس فارم کا لنگوٹ ہی بچ گیا ہے کہ فقط ۸۰۰؍ کنال زمین ہی بچی رہی کہ باقی پر راشٹریہ رائفلز کے سورماؤں کا  ہیڈ کوارٹر بنایا گیا۔درگمولہ فوج کا ٹرانزٹ کیمپ ۱۰۵ ؍کنال پر پھیلا ہے کہ متی پورہ چھانہ پورہ گائوں والوں کی زمین ہڑپ لی گئی۔کریوہ دامودر میں تیس ہزار کنال زمین فورسز کی تحویل میں اور دھان تجزیاتی مرکز کیموہ کا بڑا حصہ ان کے قبضے میں بالکل آرام سے پڑا ہے ۔ادھر سیاحتی مقام کبوتر خانہ علاقہ پر سے مرکزی پولیس فورس (سی آر پی ایف) کا قبضہ چھوڑنے سے شہنشاہ ِتوپ وتلوار نے چھپن انچ چھاتی ٹھوک کر انکار کیا ۔ اب کون مائی کالال ان سے کہنے کی جسارت کر ے حضور ابابیل صاحب! آپ کو پیارے پیارے افسپا کی قسم ، بُرا نہ مانئے ،یہ کشمیر میرا مادر وطن ہے ، میری سر زمین ہے ، میری جنم بھومی ہے ، میرا گھر سنسار ہے ، آپ اُڑن طشتری میں یہاںپدھارے تھے ،اب پا پیادہ اپنے گھر لوٹئے کیونکہ ہوائی ٹکٹ بہت مہنگی چل رہی ہے ۔ راز کی بات بتاؤں ، ایک بار میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کپکپاتے جسم ، لڑکھراتے پاؤں اور لرزتے ہاتھوں کو میں آزادی کا جوش بھر کر بصد غیرت کماندانِ ابابیل کے صدر دفتر پہنچا، پھاٹک پر دستک دی، وہ مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوئے باہر آیا، اس کے ہاتھ میں ’’افسپا میرا یار دلدار‘‘  نامی کتاب تھی۔ میں نے کہا سلام جناب،اس نے صر ف ہوں کہہ کر شانِ بے نیازی سے سر ہلایا۔ میرے منہ میں ایک ہکلاتی ہوئی زبان تھی ، اُسی بے چاری کو بڑی مشکل سے نحیف ونزار میں اپنا حالِ دل سنانے پر مجبور کیا ، اس نے کمال ِ جرأت سے کہا: کشمی ہمایا چھود ئے نا ، آجاتی دیجئے نا۔وہ لال پیلا ہو کر بولا: اَبے اولال بجھکڑ! اپنی موم کی گردن نیچے کر ، جا جا پہلے ہکلاتی زبان کو ٹھیک ٹھاک کر ، اپنی جان کی خیر چاہتا ہے تو چپ چاپ پھوٹ  یہاں سے ۔۔۔ کشمیر چھوڑدوںہا ہا ہا!!!سرخ بیل میرا حصہ ، کالا بیل میرا ہی کہ میں بڑا ہوں اور چتکبرا بیل پر اگر ہاتھ پائوں ،سر بھی پھوٹے یہ میں کسی بھی صورت چھوڑنے کو راضی نہیں۔ یہی سن کر میری آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو پسینے میں شرابور پایا۔ 
 چلئے پھر سے موضوع بدلتے ہیں۔ سالہا سال دن رات محنت کرکے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کروتو ممکن ہے کسی اسکول میں ٹیچر یا دفتر میں کلرک کی نوکری  از راہ ِ سفارش و رشوت مل جائے۔ اس لئے مفت مشورہ ہے زیادہ پڑھنے کی سکت نہیں تو دس بارہ جماعتیں پاس کرکے سیاست میں کود پڑو ۔ممبر قانون سازیہ بن جائو اور آگے منسٹر بھی تو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہاتھ جوڑے آگے کھڑے رہیں گے۔اگر بالکل ہی معمولی تعلیم یعنی پانچ آٹھ جماعتیں ہی پاس ہوئیں تو کسی مذہبی مٹھ کو سنبھالو تو سیاست دان بھی ہاتھ جوڑے نمسکار کرتے پھریں گے۔کچھ برسوں میں کہیں ڈیرہ جمائو تو بابا بن جائو گے ۔پھر کروڑوں کی جائیداد انگوٹھے تلے رہے گی۔یقین نہیں آرہا تو مدھیہ پردیش کی طرف دیکھو۔نرمدا دریا کے پروجیکٹ میں دھاندلی کا راز فاش کرنے کی دھمکی سے ڈر کر پردیش سرکار نے پانچ سادھو سنتوں کو وزرائے مملکت کا عہدہ دے ڈالا،یعنی وزارت تو اپنی پیر کی جوتی ہے جب چاہا اُتارا جب چاہا پہنا!!۔
(رابط[email protected]/9419009169  )