خطہ پیر پنچال میں بارش و برفباری کا سلسلہ مسلسل تیسرے روز بھی جاری رہا ،درجہ حرارت میں گرئواٹ ،عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی

پونچھ+راجوری //جموں وکشمیر کے دیگر اضلاع کیساتھ ساتھ خطہ پیر پنچال میں مسلسل تیسرے روز بھی بارش و برفباری جاری رہی جس کی وجہ سے خطہ میں عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے ۔خطہ کے بالائی علاقوں میں مسلسل برفباری ہو رہی ہے جبکہ میدانی علاقوں میں ہورہی بارش کی وجہ سے سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے ۔سرحدی ضلع پونچھ میں برف و باری کا سلسلہ بدھ کو مسلسل جاری رہا جس سے مختلف مقامات پر ٹرانسپورٹ متاثر ہونے کی اطلاع ہیں۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق جموں کشمیر کے دوسرے اضلاع کی طرح پونچھ ضلع کے بالائی علاقوں میں بدھ کی صبح تک کہیں کہیں کئی کئی فٹ برف جمع ہوئی ہے۔س دوران کئی دور دراز علاقوں میں سڑک رابطے بالکل منقطع ہو کر رہ گئے ہیں ۔تحصیل مینڈھر کے گورسائی،بالاکوٹ،بھمبر گلی،سلواہ اور دیگر علاقہ جات میں بالائی علاقوں میں برف کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ تحصیل سرنکوٹ کے چنڈی مڑھ، ڈھیراں کی گلی، جڑاں والی اور دیگر علاقہ جات میں برف باری کی اطلاع ہے یہاں کئی علاقوں کا سڑک رابطہ برف کی وجہ سے بند ہے۔تحصیل منڈی کے لورن میں 3جنوری 2022 سے شروع ہوئی بارش وبرف باری سے پورے علاقے کے لوگ اپنے اپنے گھروں میں مقید ہو کر رہ گے ہیں۔ شمیم اختربلاک ڈیو لپمنٹ کونسل چیئر مین لورن نے ضلع و تحصیل انتظامیہ سے گزارش کی ہے کہ ضلع پونچھ کے دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ بلاک کے دور دراز علاقہ جات جن میں چھکڑی بن، ناگہ ناڑی، سٹیلاں، مہاڑکوٹ، نلہ، سیب ڈار گام ،بٹل کوٹ، بیلہ بالا کنجہا بیاڑاں، جبڑی اڑی گام وغیرہ کے علاقہ جات جہاں شدید برف باری کی وجہ سے سڑکیں بند ہوگئیں ہیں ان علاقہ جات میں راشن، بجلی، پانی اور سڑکوں سے برف ہٹائے جانے کا کام جتنا جلد ممکن ہو کیا جائے ۔انھوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ اور تحصیلدار منڈی سے گزار ش کی ہے کہ متعلقہ محکمہ جات کو ہنگامی صورت میں ان حالات میں متحرک رہنے کے حکم صادر کئے جائیں تاکہ عوام کومزید پرشیانوں کا سامنانہ کرنا پڑے۔اسی ضمن میں بات کرتے ہوئے جموں کشمیر اپنی پارٹی کے زونل صدر پیر ذادہ بلال مخدومی نے کہاہے کہ برف باری کی وجہ سے عوام کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔انھوں نے کہا کہ برف باری کی وجہ سے منڈی، لورن، چھکڑی، ڈنوگام ،اڑائی، ساوجیاں، اتولی، فتح پور، سلونیاں، گلی پنڈی کی سڑکوں پر برف جمع ہوگئی ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں کا رابطہ بالکل کٹ گیا ہے ۔انہوں نے برف ہٹانے کے لئے فوری مشینری لگانے کی اپیل کی۔انھوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی کے وہ برف باری میں عوام کا خاص خیال رکھیں۔سرحدی ضلع پونچھ کے سرنکوٹ کے بالائی علاقوں میں گذشتہ شام دیر گئے برفباری شروع ہوئی جس سے چاروں طرف برف کی سفید چادر بچھ گئی۔تحصیل منڈی کے لورن ، ساوجیاں، اڑائی،گلی پنڈی، شاہپور ،اسلام آباد،گورسائی، سلواہ،بالاکوٹ، منکوٹ،بفلیاز، ہرنی،بھمبر گلی،جڑاں والی گلی،دیرہ کی گلی،ہاڑی مرھوٹ،سانگلہ، فضل آباد، نابنا، سیڑھی خواجہ، سیڑھی چوہانہ،سنئی، دھندک، میدانہ، کلائی، کھنیتر، جھلاس، منگناڑ ،کرشنا گھاٹی،منگناڑ، بھینچ اور ان علاقوں کے دیگر ملحقہ علاقوں میں برف باری کاا ثر نظر آ رہا ہے۔منگل کے روز ضلع پونچھ اور راجوری میں پورے دن بارشوں اور برف باری کا سلسلہ جاری رہا ،اس دوران سرد ہوائوں کا زور رہا جس سے درجہ حرارت میں گرواٹ آئی۔ قصبہ پونچھ میں شدید سردی کی وجہ سے بازاروں میں صارفین کی تعداد معمول سے بہت کم نظر آئی،اکثر دکانداروں کودکانوں کے باہر آگ کے اکیر جلا کر گرمی حاصل کرتے ہوئے دیکھا گیا۔بارشوں کی وجہ سے دیہی علاقوں میں گزشتہ روز سے ہی بجلی گل ہے جب کہ شہری علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے جس کی وجہ سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔راجوری ضلع کے کوٹرنکہ ،تھنہ منڈی ،منجا کوٹ ودیگر پہاڑی علاقوں میں برفباری کا عمل مسلسل جاری ہے جبکہ نوشہرہ ،سندر بنی ،کالاکوٹ ودیگر علاقوں میں بارش کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے ۔محکمہ موسمیات کی جانب سے کی گئی پیشنگوئی کے عین مطابق ہی جموں وکشمیر کے دیگر حصوں کی ہی طرح  پہلے ہی دن خطہ پیر پنچال کے جڑواں اضلاع راجوری اور پونچھ میںبارش اور برف باری ہوئی جس سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے اور انتظامیہ نے لوگوں کی کسی بھی مشکل وقت میں مدد کرنے کیلئے خصوصی کنٹرول روم قائم کئے ہیں ۔حکام نے بتایا کہ جڑواں اضلاع کے بالائی علاقوں میں منگل کی صبح سے ہی برفباری شروع ہوئی اور آخری اطلاعات ملنے تک موسم میں کوئی بہتری نہیں آئی تھی۔ جڑواں اضلاع کے تقریباً تمام نشیبی علاقوں میں درمیانے درجے کی بارش ہو رہی ہے اور برف باری اور بارش دونوں نے درجہ حرارت میں کمی کی وجہ سے سردی کی صورتحال میں اضافہ کر دیا ہے۔خراب موسمی حالات کی وجہ سے جڑواں اضلاع میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہے اور بازاروں میں لوگوں کی بہت کم موجودگی دیکھی گئی اور خاص طور پر دیہات کے لوگوں کی اکثریت نے گھروں کے اندر رہنے کو ترجیح دی۔کئی سڑکوں پر پھسلن کی وجہ سے ٹریفک بھی متاثر ہوئی ہے۔