حکیم شرارتی کی سنئے

 عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہےکہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ اکٹھے نہیں چل سکتے۔ کیوں نہیں چل سکتے؟ بھائی اس ملک میں سب چلتا ہے۔ دیکھ لیں۔ عمران خان اور آصف زرداری کیسے مصافحہ کر رہے ہیں،پرویز الٰہی کو کس طرح انہوں نے گلےلگایا۔ شہبازشریف سے بھی ہاتھ ملایا۔ جب زرداری جیل میں تھے اس وقت کوئی سوچ سکتا تھا وہ ملک کے صدر بنیں گے؟ ایم کیو ایم ،پی ٹی آئی کا اتحاد ممکن تھا ؟لو بھیا! وہ بھی ہو گیا۔یہاں سب کچھ ممکن ہے۔ کل تک کیسی بدزبانی، بداخلاقی اور الزامات تھے اور آج یعنی گدھے، شوباز، چور، ڈاکو، لٹیرے اورڈیش ڈیش کے بعد جھپیاں ہی جھپیاں ہیں، مسکراہٹیں ایسےبکھر رہی تھیں جیسے کسی اسٹیج ڈرامے کے بعد خوش ہوں ۔ حضرت! سب ممکن ہے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ ہی نہیں بلکہ مستقبل میں کبھی ن لیگ اور پی ٹی آئی بھی اکٹھے چل سکتے ہیں کیونکہ کوئی اکٹھا چلے یا نہ چلے سیاستدان اکٹھے ضرور چل سکتے ہیں۔دراصل کارکنوں کے اختلافات حقیقی اور سیاست وانوں کے مصنوعی ہوتے ہیں ۔کارکنو!تم ایک دوسرے کے سر کیوں پھاڑتے ہو ؟تم بھی اکٹھے چلو۔ باقی احمد پوری نے کہا تھا  ؎
جتنے اندھے ہیں وہ سب چلتے ہیں رستہ جانچ کر
جن کی آنکھیں ہیں انہی کے پاس بینائی نہیں
سیاسی کارکن بلکہ مجھے کہنے دیجئے عوام تقسیم ہیں عوام اکٹھے نہیں چل سکتے، اسی لئے حکیم شرارتی کا آپ سے مطالبہ ہے کہ آئو اپنے اختلافات بھلا کر سیاستدانوں کی طرح مصافحہ و معانقہ کرو اکٹھے چلو سیاست دانوں کے پیچھے نہیں بلکہ ان کی طرح۔وطن عزیز میں سب چلتا ہے، ہم اکٹھے ہوسکتے ہیں سب بدل سکتے ہیں۔ لیکن کبھی آپ نے سوچا غربت نہیں بدلتی، بےرووزگاری، کرپشن، عوامی مسائل، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ایک دوسرے کے کام میں ٹانگ اَڑانا اسی طرح رہتا ہے۔ کلرک کا بیٹا کلرک ہی کیوں بنتا ہے؟ کسان ہمیشہ کسان کیوں رہتا ہے؟ مزدور کے حالات کیوں نہیں بدلتے؟ اس ملک کے غریب عوام کی تقدیر بدلنے کے سوا سب کچھ بدل جاتا ہے۔
قارئین! اسمبلیوں میں میل ملیاں ایسے ہو رہی تھیں جیسے اراکین میلے میں آئے ہوئے ہوں، رنگ برنگے ملبوسات، مسکراہٹیں، قہقہے، گلے ملنا، ہاتھ ملانا، ایسے مناظر تھے کہ جیسے عوام کو لڑانے والے ہمارے یہ دوست برسوں سے بچھڑے ہوئےتھے ۔حکیم شرارتی نے کہا ہے کہ عوام سیاستدانوں سے سیکھیں کہ مخالفین کو کیسے گلے لگایا جاتا ہے پیٹ پھاڑنا سڑکوں پر گھسیٹنا وغیرہ تو لطیفے تھے آپ سنجیدہ ہو گئے چلتے چلتے شاہدہ عروج خان کا شعر پیش خدمت ہے    ؎
خوب دھوکے دئے ہیں انسان نے
اب فرشتوں سے دوستی کر لیں