حکیم الامت کا فلسفۂ غم

حیاتِ انسانی غم اور مسرت کے دو متضاد احساسات سے عبارت ہے۔ان دو حالتوں سے انسان کو زندگی میں ضرور بضرور واسطہ پڑتا ہے۔عمومی طور پر مسرت اورخوشی ایک انسان کے لئے پسندیدہ احساس ہے جس کا وہ ہر وقت متلاشی رہتاہے ، جب کہ غموم وہموم سے دامن بچا ئے رکھنا بھی اس کی سعیٔ مسلسل قرار پاتی ہے۔اسی لحاظ ہر فردِ بشر دنیا میںغم و الم کی پرچھائیوں سے بھی دور بھاگتا ہے لیکن غم کی حقیقت سے دنیائے بشریت کا مفر ممکن نہیں کیونکہ غم زندگی کا جزوِ لاینفک ہے اور اس کو زندگی سے الگ کرنا غیر ممکن ہے۔دراصل جس دنیا میں انسان زندگی بسر کرتا ہے خالق ِکائنات نے جب اسے امتحان گاہ کے طور غموں اور مصائب وآلام کی آماج گاہ بنایا ہو،تو پھر انسان کس طرح رنج وراحت، مصائب و مشکلات سے دامن کش رہ سکتا ہے؟دنیا میں رہ کر غموں سے دامن بچانا ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی دریا میںغوطہ ہو کر خود کو پانی کی چھینٹوں سے بچانے کی سعیٔ ناکام کرے۔ اس لئے جب تک انسان اس دنیا میں زندگی بسر کرے اسے غموں سے واسطہ پڑتا رہے گا۔ بقولِ غالبؔ
غم اگر چہ جاں گسل ہے پر کہاں بچیں کہ دل ہے
غمِ عشق گر نہ ہوتا غمِ روزگار ہوتا              
غم ِزندگی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگِ علاج
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک             
یہی وجہ ہے کہ جہاں انسان نے فنونِ لطیفہ کواپنے پُرمسرت احساسات و جذبات کے لئے وسیلہ ٔ اظہار قرار دیا ، وہاں اس نے ظاہری و باطنی درد و کرب کوبھی ان ہی فنون کے ذریعے اظہار کی زبا ن دی۔اظہار ِ غم تو اظہارِ مسرت سے بھی زیادہ شدت رکھتا ہے اور ادب چونکہ زندگی کا آئینہ ہے، نیز یہ دنیوی زندگی نشاط و راحت کے بین بین گوناگوں رنج و آلام سے بھی عبارت ہے ،اس لئے ادب میں غم زندگی کا عکس ہمیں جا بجا دیکھنے کو ملتا ہے۔ دنیائے ادب میںحزنیہ تخلیقات کو نکال باہر کیا جائے تو نہ صرف کمیت کے اعتبار سے بلکہ کیفیت کے اعتبار سے بھی یہ دنیا ایک عظیم ادبی سرمایہ سے محروم ہو جائے گی اور یہ دنیا حزنیہ ادب کے بغیر بے ر ونق ہو جائے گی،کیونکہ حزنیہ ادب ادبی کاوشوںکی جان ہے۔ در اصل سوز و گداز اور احساس ِ کرب اہل ِفن کے لئے ایک صفت ِلازمی ہے کہ جس کے بغیر ایک قابل ِاعتنا ء فن پارے کو وجود بخشنا ناممکن ہے۔اگر ہم گہرائی میں جاکر تلاش کریں تو طربیہ فن پاروں کی تہہ میں بھی فن کار کا ذاتی درد و کرب اور دوسروں کے تئیں احساسِ ہمدردی دیکھنے کو ملے گا۔اردو ادب کو بھی اگر کھنگالا جائے تو اس میں درد و الم کے انبار نظر آئیں گے۔شعرائے مقدمین نے پیکرِ شعر میں حزن و ملال کی روح کچھ اس انداز سے سمو دیا کہ اس پیکر سے ایک عرصے تک بین و ماتم کی صدائیں بلند ہوتی رہیں۔ چند ایک شعرا ء نے بھی اپنی حقیقی زندگی کے درد و کرب کو شاعری میں منعکس کیا اور جس کی زندگی میں غم والم کا پہلو غالب نہ رہا ، اس نے کسی نہ کسی بہانے اپنی شاعری میں غم آفرینی اور اشک ریزی کو شیوہ بنایا۔قریب قریب تمام شعرا نے اپنے درد و کرب کو شاعری کے سانچے میں پیش کیا ۔ تمام کے تمام حزنیہ کلام کو جمع کرنا اور اس پر تنقیدی نگاہ ڈالنا ایک دقت طلب کام ہے۔ اگر ہم فقط عظیم اور صف ِ اول کے شعرا ء کے کلام پر سرسری نظر دوڑائیں تو ان میں بھی ایک درد و کسک قدر مشترک کے طور دکھائی دے گا۔قدرتی امر ہے کہ لاثانی شاعری کے لئے ایک شاعر کا صاحب ِدل ہونا لاز می ہے اور صاحب ِدل ہونے کا لابدی نتیجہ صاحب ِ درد ہونا ہے،کیونکہ جس سینے میں ایک حساس دل ہو گا اس میں ضرور بضرور دردو کرب بھی بسا ہوگا۔ البتہ فکر ی اختلاف کے مطابق ان کا ہم و غم میں بھی مختلف ہو سکتا ہے۔ ان نمائندہ شعرا ء میں بھی میر تقی میرؔ ،میر انیس ؔ، مرزا غالبؔ اور علامہ اقبا لؔ کو اردو ادب میں مرجعیت اور مجتہدانہ مقام حاصل ہے۔میر انیسؔ نے کربلا کو اپنے فکر و فن کی جولا ںگاہ بنایااور غم ِحسین ؑ کو اپنی شاعری کا بنیادی مرکز و محور قرار دیا۔ انہوں نے آلِ پیغمبر ؐکے مصائب و آلام کے سوا کسی بھی موضوع کو موضوعِ سخن نہ بنایااور دیگر موضوعات کو اپنے فکرو فن کے شایان ِ شان نہیں سمجھا۔ایسا لگتا ہے کہ میر انیس ؔ کا قلم جب تک چلتا رہا،روشنائی کے بدلے صفحہ ہائے قرطاس پرآنسوبکھیرتا رہ   ؎
رونے سے فراغ اب کسی روز نہیں 
ہے غم کوئی دم جانِ غم اندوز نہیں
جز درد نہیں کوئی ہمارا ہمدرد
جز داغ کوئی اپنا جگر سوز نہیں
میر تقی میرؔکے کلام کو پر تاثیر بنانے میں ان مشکلات و آلام کا کافی عمل دخل ہے جن کا انہوں نے اپنی پوری زندگی میں سامنا کیا ۔میرؔ نے ذاتی زندگی کے خار زاروں میں جس چبھن اور کسک کو محسوس کیا اس کو نہایت ہی چابک دستی سے جامۂ شعر میں پیش کیا۔انہیں غم ِزندگی سے آخری دم تک فراغ نصیب نہ ہوا ۔ میرؔ کے دم میں جب تک دم رہا، اس کا غم سے کسی نہ کسی طور واسطہ رہا۔یہی وجہ ہے کہ دیوانِ میرؔ سوز و گداز اور درد کسک کا ایک خزینہ ہے۔ ان کا یہ کہنا بجا ہے   ؎  
مجھ کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب میں نے
درد و غم کتنے کئے جمع تو دیوا ن کیا
میرؔ کے یہاں نالہ و شیون اور بین و ماتم نہیں ملتا کہ عام و خام ان کی آہوں اور فریادوں سے واقف ہو۔ بلکہ وہ گوشہ نشینی میںکسی درد آشنا کو اپنادکھ درد سر گوشی کے ذریعے گوش گزار کرانا چاہتے ہیں   ؎
سرہانے میرؔ کے آہستہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے
غالب ؔجیسا زندہ دل شاعر اور’’ حیوا ن ِ ظریف‘‘ بھی زندگی کے غم والم سے بچ نہ پایا ۔  انہوں نے غم کو ایک ناگزیر حقیقت کے طور گلے لگایا۔ وہ کسی مثالیت پسند (idealistic)شخص کی طرح رنج و حزن کا منکر نہیں ہے ۔وہ زندگی کی اس کیفیت کے حوالے سے بھی ایک حقیقت پسندانہ رویہ رکھتے ہیں     ؎
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں 
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
قیدِ حیات بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
البتہ غالب ؔمصائب و آلام سے بد دل ہوئے نہ خوف زدہ ۔انہوں نے نہایت ہی خندہ پیشانی کے ساتھ تمام تر مشکلات کو نہ صرف قبول کیا بلکہ ان مشکلات کو ایک انوکھی جہت دے کر اپنی شاعری میںپیش کیا۔غالب ؔ نے غم ِزندگی کا اظہارہمیشہ ظریفانہ لب و لہجے میں کچھ اس طرح کیا کہ ایک قاری بیک وقت غالبؔ کے درد و کرب کو بھی محسوس کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کی ظرافت کی مٹھاس سے بھی لطف اندوز ہوتا ہے۔ یہی اندازِ بیاں نہ صرف غالبؔ کے کلام کی بلکہ اردو شاعری کی معراج ہے کہ دردوغم کو ہنس ہنسا کر یوں بیان کیا جائے کہ نہ غم کا احساس زائل ہو نے پائے اور نہ ہنسی مذاق کی چاشنی معدوم ہو جائے   ؎   
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب ؔ
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
غالبؔ ِخستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
رویئے زار زار کیا کیجئے ہائے ہائے کیوں
المختصر اردو کے قریب قریب تمام عظیم شعرا نے اپنے فکرو نظر کے اعتبار سے حزنیہ احساسات کو شعری پیکر عطاکیا ہے اس سلسلے میں معروف ماہر اقبالیات خلیفہ عبد الحکیم نے اپنی معرکتہ الآرا کتاب ’’فکرِ اقبالؔ‘‘میں ایک جگہ لکھا ہے کہ’’ ہمارے ہاں غم کی مداح سرائی سے شاعری بھر گئی اور اردو شاعری کے کمال میں مرثیہ پیدا ہوا۔ اکثر شاعروں کا تغزل بھی اپنی اپنی زندگی کا مرثیہ ہی ہے ۔ غم حقیقت میں نہ بھی ہو تو بھی غم کی مدح سرائی شاعری کا شیوہ بن گیا۔ غم ِروز گار نہ سہی غم ِعشق ہی سہی ، تمام زندگی غم کدہ بن گئی۔ ‘‘
 غم انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہے اس کے بغیر کتابِ زندگی ادھوری ہے۔ اگر تصویر ِحیات میں درد و الم کی رنگ آمیزی نہ ہو تو یہ تصویر نہایت کی بودی اور پھیکی ہوگی۔علامہ اقبالؒ نے فلسفیانہ انداز میں غم ِزندگی کا انسانی زندگی کے ساتھ ایک گہرے ربط کوبیان فرمایا ہے اور ایک خوبصورت پیرایۂ میں اس کی اہمیت و افادیت ظاہر کی ہے۔ان کے مجموعہ کلام ’’بانگ ِدر‘‘ا میں ایک نظم بعنوانِ’’ فلسفۂ غم‘‘ شامل ہے۔ اس نظم میں غم ہمہ جہت پہلو اجاگر کئے گئے ہیں، خاص طور سے غم کے مثبت پہلو ؤںکو یوں اُجاگر کیا ہے کہ قاری کو غم و الم میں ایک عجیب قسم کی جاذبیت و کشش محسوس ہوتی ہے۔اس کیفیت کے حوالے سے ایک مختلف نقطۂ نگاہ سے وہ آشنا ہوتا ہے ۔جس قدر ایک قاری علامہ اقبال کے فلسفہ غم سے واقف ہوتا جائے گا، غم کے متعلق اس کی کراہت کم ہو تی جا ئے گی اور پھر ایک منزل آئے گی جب وہ غم کو اپنا حریف نہیں بلکہ اپنا حلیف سمجھے گا،وہ غم ِزندگی کو اپنی زندگی کا قیمتی اثاثہ قرار دے گا۔علامہ اقبالؔ ابتدائی بند میں فرماتے ہیں   ؎
گو سراپا کیف ِعشرت ہے شرابِ زندگی 
اشک بھی رکھتا ہے دامن میں سحابِ زندگی 
موجِ غم پر رقص کرتا ہے حبابِ زندگی 
ہے الم کا سورہ بھی جزوِ کتاب ِ زندگی 
 درج بالا بند کے ابتدائی شعر میں علامہ اقبال نے’’ کیفِ عشرت ‘‘اور ’’اشک ِغم ‘‘ جیسی اصطلاحات کو استعمال کر کے دراصل زندگی کی دوایسی متضادکیفیات کا ذکر کیا ہے کہ جونہ صرف حیاتِ انسانی کے لئے نہایت ہی ضروری ہیں بلکہ ان کا وجود ایک دوسرے پر موقوف ہے۔چنانچہ کہا جاتاہے ’’تعرف الاشیاء باضدادہھا یعنی چیزیںاپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے ۔ ‘ ‘ اور یہ کلیہ رنج و مسرت جیسی کیفیات پر بھی صادق آتا ہے۔ اگر غم و الم کی سیاہ رات نہ ہو تو خوشی و انبساط کا آفتابِ جہاں تاب طلوع ہو سکتا ہے نہ غروب۔لہٰذا رنج اور راحت و مسرت میں وہی تعلق ہے جو روز و شب، سیاہ و سفید،آگ اور پانی،پست و بالا نشیب و فراز کے مابین ہے۔بالفرض اس دنیا میں خوشی ہی خوشی ہو اور غم کا کہیں نام و نشان بھی ہو تو کیا کسی بھی فرد ِ بشر کو خوشی کا خوشگوار احساس ہوگا؟کیونکہ پیاس سے ہی پانی کی قدرو قیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔جب موسم خزاںمیں چاروں اور مردنی چھا جاتی ہے تو بہار کی آمد اور اس کے طفیل زندگیٔ نو کی طلب ہر جمال پسند فرد کے دل میںپیدا ہو جاتی ہے۔قانونِ قدرت کے مطابق ـ’’قدرِ نعمت بعد ِزوالِ نعمت ‘‘ہی ہوا کرتی ہے۔ بڑھاپے میں ہی جوانی کی قدرو قیمت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ بالفرض موت نہ ہو تو زندگی کتنی بے قیمت ہو گی!!! کیونکہ یہ موت ہی ہے جو زندگی کو گراں بہا بنا دیتی ہے۔ غرض ہر وہ بظاہر منفی کیفیت ہر مثبت کیفیت کے لئے پس منظر کی حیثیت رکھتی ہے ۔ قرآنِ کریم کی ایک صریح آیت بھی اسی قسم کے مفاہیم کی تائیدکرتی ہے۔  چنانچہ فرمایا گیا ہے کہ ان مع لعسر یسرا یعنی بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بالفاظِ دیگر مشکل اور آسا ئش کے مابین چولی دامن کا ساتھ ہے۔                       
اوپرنقل شدہ بند کے دوسرے شعرمیں نہایت ہی چابک دستی کے ساتھ علامہ اقبال ؒنے پانی کی موج،بلبلہ ، سورہ الم اور کتاب کو بطور استعارہ استعمال کیا ہے۔ علامہ اقبا ل اس شعر میں یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ اس دنیاوی زندگی میں سمندر کی مانند ہمیشہ مد جزر رہتا ہے ،جس سے زندگی کے سمندر میں ایک حرکت پیدا ہوتی ہے ۔ کشمکش ِ زندگی میں اُتار چڑھاؤنہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔مولانا غلام رسول مہرؔ اس شعرکی تشریح میں رقمطراز ہیں کہ’’ زندگی کو بلبلا اس لئے کہا کہ وہ بہت ناپائیدار ہے پھر بلبلا پانی میں اسی جگہ پایا جاتاہے جہاں موجیں اٹھیں۔لہٰذا فرمایا کہ زندگی کا بلبلا غم کی موج پر رقص کرتی ہے‘‘شعر کے دوسرے مصرعے میں کتابِ مبین یعنی قرآنِ مجیدکی ایک کے چند ایک حروف ِ مقطعات کو مستعار لے کر ایک  لفظِ الم مرتب کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ جس طرح سورہ الم قرآنِ مجید کا جزوِ لاینفک ہے اس طرح الم یعنی غم کا سورہ بھی زندگی کی کتاب کا بھی ایک لازمی جز ہے۔
 گویا اس انسان کی زندگی ادھوری ہے جسے غم سے پالا نہ پڑا ہو۔ انسانی شخصیت کے تکامل میں مصائب و مشکلات اور درد و تکلیف کا ایک اہم عمل دخل ہے بلکہ جو جس قدر کامل تر شخصیت ہوگی، اس نے اتنی ہی آزمائشیں اور آلام و مصائب جھیلے ہوں گے۔تاریخِ انسانیت اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اکثر و بیشتر عظیم اور برگزیدہ انسان گوناگوں مشکلوں اور سختیوں سے نبرد آزما ہوئے۔انہیں کافی ستایا گیااور اس لحاظ سے انہیں زندگی بھر غم سے ایک گہرا تعلق رہا۔
(بقیہ بدھوار کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)
cell : 9596465551