نئی دہلی// کانگریس صدر سونیا گاندھی نے مرکز کی موجودہ نریندر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس پر کئی طرح کے الزامات بھی عائد کیے۔ انہوں نے اپنے بیان میں مرکزی حکومت پر جمہوریت کو تاناشاہی میں بدلنے کی کوشش کا سنگین الزام بھی عائد کیا۔سونیا گاندھی نے اپنے بیان میں لکھا ہے کہ ’’اس سال کا یومِ آزادی ایک آزاد ملک کی شکل میں ہندوستان کے75ویں سال کی شروعات کی علامت ہے۔ یہ قابل فخر جشن، گہرے فکر اور نئے سرے سے عزائم کا موقع ہے۔ یہ ان لوگوں کی قربانیوں کو یاد کرنے کا موقع ہے جنھوں نے جدید ہندوستان کی بنیاد رکھی اور جنھوں نے ہمت کے ساتھ ایک خوشحال اور جمہوری قوم کا تصور کیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’آج ہم اپنے قوم کے بانیوں کے تعاون کو یاد کرتے ہیں اور ان کی عزت افزائی کرتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ہم نے دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک کی تعمیر کی ہے اور دنیا میں سب سے بڑی تعداد میں لوگوں کو جمہوری طریقوں سے غریبی اور بیماری سے باہر نکالا ہے۔ ہم نے سب سے بڑی، سب سے مضبوط فوجی قوتوں اور ایک سرکردہ خلائی مشن میں سے ایک کی تعمیر کی ہے۔ پھر بھی، جیسا کہ ہم اپنی کامیابیوں کا جشن مناتے ہیں، ہمیں یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ ہمیں ہر محاذ پر کتنا آگے جانا ہے۔ بدقسمتی سے، حال کے سالوں میں کئی محاذ پر ہمارے ملک کی ترقی میں تبدیلی آئی ہے۔‘‘ سونیا گاندھی نے نریندر مودی حکومت کی ناکامیوں اور ملک کے پیچھے کی طرف دھکیلے جانے کی باتوں کا تذکرہ کیا ہے۔ کورونا وبا کے دوران مودی حکومت کی بدانتظامیوں اور ناکامیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ ’’کووڈ-19 وبا کے دوران بدانتظامی سے ہیلتھ کیئر سیکٹر میں اصلاح سے متعلق دہائیوں کی ترقی الٹ گئی ہے۔ گھمنڈ اور خراب منصوبہ کے نتیجہ کار زندگی اور روزگار کا شعبہ تباہ ہو گیا ہے۔ ہم ویکسین کو لے کر دنیا کے سب سے بڑے پروڈیوسر ہونے پر فخر کرتے ہیں، لیکن پھر بھی آبادی کے حساب سے کم لوگوں کو ہی ویکسین لگی ہے۔