حکومت آگے آئے ، کشمیر کی ہوٹل انڈسٹری تباہی کی دہلیز پر

سرینگر // وادی کے ہوٹل اور ریستوران مالکان پر کورونا کا اثر اس شدت سے پڑ گیا ہے کہ ان کی کمر ہی ٹوٹ چکی ہے اور گذشتہ تین برسوں کے دوران مالکان کی کمائی کم اور خرچہ زیادہ ہو چکا ہے۔ ہوٹلوں میں استعمال ہونے والی سبزیاں ، گوشت اور مرغ فروخت کرنے والے بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ۔کشمیر ہوٹل اینڈ ریستوان ایسوسی ایشن( کھارا ) نے جموں وکشمیر اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہوٹل انڈسٹر ی کو بچانے کیلئے ایک بڑے مالی پیکیج کا اعلان کیا  جائے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ 5اگست 2019سے لیکر اب تک ہوٹل انڈسٹری کو ساڑھے 4سو کروڑ کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ہوٹلوں کے کمرے خالی پڑے ہیں، مشہور ڈل جھیل میں کہیں کوئی سیاح نظر نہیں آرہا ہے ۔سونہ مرگ ، گلمرگ اور پہلگام کی وادیوں میں سناٹا چھایا ہوا ہے۔ محکمہ سیاحت کے مطابق وادی کی آبادی کا تقریباً 30 فی صد حصے کا روزگار سیاحت کے شعبے پر بالواسطہ یا بلا واسطہ منحصر ہے۔ ہوٹل مالکان، ڈل جھیل میں ہاؤس بوٹ و شکارا مالکان، گلمرگ، پہلگام، سونہ مرگ، یوسمرگ، اچھہ بل، کوکر ناگ، دودھ پتھری، ویری ناگ، شالیمار اور نشاط باغات اور دیگر صحت افزا مقامات پر مختلف شعبہء جات سے وابستہ افراد اپنا روزگار سیاحت کے ذریعے ہی کماتے ہیں۔کشمیر ہوٹل اینڈ ریستوار ن ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری میر طارق نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ وادی میں اس وقت1300ہوٹل اور اڑھائی سو ریستوران ہیں اور فی ہوٹل میں 15سے20ملازمین کام کرتے ہیں جبکہ ریستوان پر بھی5سے8ملازمین روزگار کماتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے گذشتہ تین برسوں سے اس انڈسٹری کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ۔انہوں نے کہا کہ فی الوقت تمام ہوٹل اور ریستوارن تالا بند ہیں ۔میر طارق کے مطابق کشمیر کی ہوٹل انڈسٹری سیاحتی پر منحصر ہے ،یہاں صرف تین سے چار ماہ کام ہوتا ہے لیکن وہ بھی حالات پر ہی منحصر ہے۔ میر طارق کے مطابق رواں سال سرما کے مہینے میں سیاحوں کی کشمیر آمد سے ہوٹل مالکان کو ایک نئی اُمید پیدا ہوئی تھی اور 80فیصد بکنگ بھی اس سال ہوئی تھی لیکن پھر ان پر کورونا کی مار پڑ گئی جو بکنگ کے لئے گئے پیسے بھی واپس کرنا پڑے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پوری ہوٹل انڈسٹری اس وقت پچھلے تین برسوں سے اب تک ساڑھے چار سو کروڑ کے نقصان سے دوچار ہو چکی ہے اور حکومت کو بار بار یاداشت پیش کرنے کے اس جانب کوئی دھیان نہیں دیا جارہا ہے ۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس شعبہ کو حکام نے ہوٹل انڈسٹری کا نام دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہوٹل اور ریستوران مالکان کی کمر مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہے اور رہی سہی کسر سرکار نکال رہی ہے ۔میر طارق نے کہا کہ ہوٹل بند ہیں لیکن بجلی کی بھاری بلیں انہیں ادا کرنی پڑ رہی ہیں ،بند ہوٹلوں سے کوڑا کرکٹ تو نکلتا نہیں لیکن میونسپل حکام ماہانہ 3000روپے کی بلیں سنٹی ٹیشن کی مد میں بھیج رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ایک اگری منٹ کے تحت یہ فیصلہ ہوا تھا کہ اگر ہوٹل ،سیزن میں اپنا کام کریں گے تو وہ 1000روپے سینی ٹیشن فیس میونسپل حکام کو ادا کریں گے، لیکن جب ہوٹل بند ہیں،کام نہیںہے تو حکام نے از خود سنیٹیشن فیس کو بڑھا کر 3000روپے کر دیا ۔انہوں نے کہا کہ ایسا ہی حال بجلی کا بھی ہے۔ ہوٹل مالکان کو 8ہزار سے لیکر 15ہزار بجلی کی بلیں ادا کرنی پڑتی ہیں، جو سرا سرناانصافی اور ان کے ساتھ ظلم ہے ۔میر طارق نے کہا ہم جی ایس ٹی اور دیگر ٹیکس بھی ادا کر رہے ہیں۔