راجا ارشاد احمد
بابانگری وانگت // بابا نگری وانگت میں میاں نظام الدین کیانویؒ کا سالانہ عرس روحانی اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ساتھ اختتام پذیرہوا۔جموں و کشمیر کے دور دراز اضلاع سے آنے والے ہزاروں عقیدت مندوں نے سالانہ عرس میں شرکت کی۔پونچھ، راجوری، مینڈھر، سرنکوٹ، ڈوڈہ، کشتواڑ، بانڈی پورہ، کپواڑہ، شوپیان، کولگام اوریوٹی کے دیگر حصوںسے ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مندوں نے 130ویں سالانہ عرس میں شرکت کی۔اس موقعہ پر یہاں آنے والے لوگوں کیلئے عوامی لنگر کا انتظام کیا گیا تھا اور لوگوں کیلئے طعام اور رہائش کیلئے انتظامات بھی کئے گئے ہیں۔اسکے علاوہ جموں اور وادی کے دوراز دراز علاقوں سے عقیدت مندوں کو خصوصی گاڑیوں میں لایا گیا۔میاں نظام الدین کیانوی کی عرس کی تقریبات7 جون سے شروع ہوتی ہیں ۔ 7اور 8 کی درمیانی شب قرآن خوانی اوردرود اذکار کی محفلیں آراستہ ہوتی ہیں جبکہ 8 جون کو عرس کا اختتام خصوصی دعائیہ مجلس کے ساتھ ہوتا ہے۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سجادہ نشین میاں الطاف احمد نے کہا “میاں نظام الدین کیانوی کی دکھائی گئی اسلامی تعلیمات کی راہ سے نہ صرف دنیا بلکہ آخرت بھی سنور جائے گی۔میاں نظام الدین کیانوی رحم اللہ علیہ کا تعلق مظفرآباد کے نیلم ویلی میں واقع کیان شریف سے تھا، جو کنگن کے علاقہ وانگت تشریف لائے ،جہاں انہوں نے اسلامی تعلیمات کا پرچار شروع کیا۔
میاں الطاف احمد نے حاضرین پر زور دیا کہ وہ انسانیت کی بہتری کے لیے کام کریں اور اسلامی تعلیمات پر عمل کریں۔ انہوں نے بھائی چارے اور ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نماز کی پابندی سے ادائیگی کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ “موجودہ دور میں نوجوان نسل بری عادتوں سے خود کو دور رکھے،خصوصا منشیات سے، کیونکہ جس گھر میں کوئی بھی شخص منشیات کا عادی ہوتا ہے وہ پورا خاندان تباہ ہوکر رہ جاتا ہے”۔انہوں نے نوجوان نسل کو منشیات سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت میں، جب معاشرے کو مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے، اس طرح کے مذہبی اجتماعات ہمیں بھائی چارے، باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کی اقدار کی یاد دلاتے ہیں۔اس موقع پر انہوں نے جموں کشمیر کے دیرپا امن اور خوشحالی اور تمام لوگوں کی بھلائی کے لیے دعا کرتے ہیں،” ۔