حصول تعلیم میں جموں کشمیرکی مسلم لڑکیاں آگے | 7 برسوں میں 10لاکھ لڑکیوں کا مختلف تعلیمی اداروں میں داخلہ

سرینگر//جموں کشمیر میں مسلم لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے میں بھارت کی دیگر ریاستوں اورمرکزی زیرانتظام والے علاقوں میںسب سے آگے ہیں ۔ گذشتہ 7برسوں کے دوران 10لاکھ مسلم لڑکیوں نے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوںمیں داخلہ لیاہے جبکہ جموں کشمیر میں لڑکیوں کی شرح خواندگی 78فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔سی این آئی کے مطابق بھارت کی مختلف ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں کے مقابلے میں جموں وکشمیر جو ایک مسلم اکثریتی والا خطہ ہے، میں مسلم لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے میں سب سے آگے ہیں۔ اس سلسلے میں معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ 7برسوں کے دوران جموں کشمیر اور بیرون وادی 10لاکھ مسلم لڑکیوں نے مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں داخلہ لیا ہے۔اگرچہ بھارت کی کئی ریاستوں میں مسلمانوںکی اکثریت کافی ہے تاہم ان ریاستوں اور علاقوں میں مسلم لڑکیاں تعلیم کی طرف زیادہ راغب نہیں ہے جس طرح جموں وکشمیر میں لڑکیاں تعلیم کی طرف مائل ہے ۔ جموں کشمیر میں جہاں شرح خواندگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ،وہیں لڑکیوں کی شرح خواندگی 78فیصد ہے جبکہ لڑکوں کی شرح خواندگی محض 68فیصد ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جموں کشمیر کے دور دراز علاقوں میں بھی لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے کی خواہشمند ہوتی ہے جبکہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے لڑکے غربت اور دیگر وجوہات کی بناء پر تعلیم اَدھوری چھوڑ دیتے ہیں ۔ جموں کشمیر میں حالات اکثر مخدوش رہنے کی وجہ سے اگرچہ لڑکے کئی طرح کی مجبوریوں کی وجہ سے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں لے پاتے ہیںتاہم اس کے برعکس لڑکیاں بغیر کسی رُکاوٹ کے تعلیم جاری رکھ پاتی ہیں۔