حرمین ٹرین چل پڑی، پہلے سرکاری قافلے کی مکہ معظمہ آمد

ریاض// سعودی عرب اور کئی دوسرے ملکوں کے اشتراک سے شروع کیے گئے حرمین ٹرین منصوبے کے تکمیل کے بعد گذشتہ روز پہلی حرمین ٹرین جدہ سے مکہ مکرمہ پہنچ گئی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حرمین ٹرین کی کل سوموار سے باقاعدہ سروسز کا آغاز کر دیا گیا۔ پہلی حرمین ریل گاڑی سرکاری عہدیداروں کو لے کر مکہ پہنچی۔ خیال رہے کہ سعودی عرب، دوسرے عرب اور غیر ملکی کمپنیوں کے اشترک سے کئی سال قبل برقی دوہری الیکٹرک ریلوے پٹری بچھانے کا کام شروع کیا گیا تھا۔ 450 کلو میٹر طویل ریلوے لائن کی تکمیل پر 63 ارب سعودی ریال کی رقم خرچ کی گئی ہے۔گذشتہ روز سرکاری وفد کو لے کر مکہ پہنچنے والی پہلی حرمین ٹرین میں متعدد وزراء￿ ، شہزادے اور دیگر اہم شخصیات سوار تھیں۔ ان میں سعودی فرمانروا کے مشیر اور مکہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل، شاہی دیوان کے انچارج شہزادہ بن بندر خالد الفیصل، نائب گورنر مکہ شہزادہ عبداللہ بن بندر، وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر نبیل العامودی اور ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی سوار تھے۔حرمین ریل سروس کا مقصد عازمین عمرہ بالخصوص حج سیزن میں حجاج کرام کو ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا کرنا ہے۔ حرمین ریل سروس سے سالانہ 35 لاکھ عازمین حج، 40 لاکھ معتمرین اور 60 لاکھ عام مسافروں کو تیز رفتار سفری سہولت میسر ہوگی۔حرمین ریل پروجیکٹ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2018ء￿  میں مال بردار ریل گاڑیاں چلانے کا کام بھی شروع کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ حرمین ریل گاڑی عالمی معیارکی سب سے بہترین، تیز تر اور محفوظ ترین سفری سہلوت ہے۔حرمین ریلوے لائن پر پانچ اہم اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔ مکہ مکرمہ سے ہوتے ہوئے یہ ریلوے لائن جدہ، شاہ عبداللہ اکنامک سٹی اور وہاں سے مدینہ منورہ تک جائے گی۔حرمین ریل گاڑی کے چلنے سے مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ کے درمیان سات گھنٹے کی مسافت کم ہو کر 150 منٹ پر آجائے گی۔ حرمین ریل کی کل 35 بوگیاں ہوں گی اور ایک بوگی میں 417 افراد کے سوار ہونے کی گنجائش ہو گی۔