حد متارکہ کے قریب واقع محلہ گھپ اندھیرے میں

 راجوری //سیاسی جماعتوں کے کارکنا ن میں آپسی چپقلش کا کس قدر نقصان ہوتاہے اس بات کا اندازہ راجوری کے سرحدی علاقے منجاکوٹ سے لگایاجاسکتاہے جہاں حدمتارکہ کے قریب واقع گائوں کیلئے منظور شدہ 63کے وی کا بجلی ٹرانسفارمر دو سال سے نصب نہیںہوسکاہے ۔مقامی ذرائع کے مطابق منجاکوٹ کے بھمبرگلی دریری علاقے میں موتھن والی بنڈی محلہ میں بجلی نہیں جہاں برقی روفراہم کرنے کیلئے محکمہ بجلی کی طرف سے 63کے وی کا ٹرانسفارمر فراہم کیاگیا تاہم دوسال سے اس کی تنصیب عمل میں نہیں لائی گئی ۔ایک مقامی شہری نے بتایاکہ ٹرانسفارمر کی تنصیب کیلئے پہلے سے ترسیلی لائنیں لگی ہیں اور کھمبے بھی دستیاب ہیں لیکن ٹرانسفارمر پچھلے دو سال سے زمین پر پڑاہواہے اور اسے نصب نہیں کیاجارہا۔انہوں نے بتایاکہ اس کی وجہ پی ڈی پی اور کانگریس کے کارکنان میں آپسی چپقلش ہے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ وہ گھپ اندھیرے میں رہتے ہیں اور برقی رو جیسی سہولت بھی دستیاب نہیں۔انہوںنے کہاکہ ٹرانسفارمر فراہم تو کیاگیاتاہم اسے سیاسی رنجش کا شکار بنادیاگیاہے اور اس پر ورکروں میں جھگڑے ہورہے ہیں ۔ مقامی لوگوںنے دعویٰ کیاکہ یہ معاملہ محکمہ بجلی اور سیاسی نمائندگان کے نوٹس میں بھی لایاگیا تاہم انہوںنے کوئی توجہ نہیں دی ۔رابطہ کرنے پر محکمہ بجلی کے ایک افسر نے کشمیرعظمیٰ کو بتایاکہ گیارہ کے وی اور لو ٹینشن ترسیلی لائنیں مکمل ہیں تاہم ٹرانسفارمر کی تنصیب عمل میںلانے میں تاخیر ہورہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ایک مقامی شخص نے ٹرانسفارمر کی تنصیب میں رکاوٹیں کھڑی کررکھی ہیں اس لئے محکمہ کے عملے کے ساتھ پولیس ٹیم علاقے میں بھیجنے کی ضرورت ہے تاکہ ٹرانسفارمر نصب کیاجاسکے ۔