مینڈھر//پونچھ کے مینڈھر اور منکوٹ سیکٹروں میں ہندوپاک افواج کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور ان علاقوں میں دونوں افواج کے درمیان فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ بھی ہواہے ۔تاہم اس دوران کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ۔سرکاری ذرائع نے بتایاکہ پا کستا نی افو اج نے چھو ٹے اور درمیا نہ درجہ کے ہتھیا و ں کے ساتھ ساتھ 82ایم ایم اور120ایم ایم کے ما رٹر شیل بھی فو جی چو کیو ں اور رہا ئشی علاقو ں میں داغے تا ہم کسی بھی افراد کے زخمی اور ہلا ک ہو نے کی کو ئی اطلا ع نہیں ملی ۔کئی گولے گو ہلد ملک پو ر علا قہ میں پڑے جس سے لوگوں میں خوف و حراس پیدا ہوگیا۔اس دوران مینڈھر قصبہ میں دوکا ندارو ں کوبھی ہد ایت دی گئی کہ وہ اپنی دوکا نیں نہ کھولیں کیو نکہ مینڈھر قصبہ سے صرف ایک کلو میٹر کی دوری تک ما رٹر شیل پڑ رہے تھے ۔علاقے کے سکو لو ں میں بھی چھٹی کا اعلا ن کر دیا گیا ۔مینڈھر کے چھجلہ پتر ی علاقے میں حا جی محمو د احمد کے دو بیل فا ئر نگ کی زد میں آکر ہلا ک ہو گئے جبکہ درجن کے قریب مو یشی زخمی ہو نے کی بھی خبر یں مو صول ہوئی ہیں۔ دفا عی تر جمان کے مطابق فائرنگ صبح ساڑھے پانچ بجے شروع ہوئی اور اس دوران بھارتی فوج نے بھی پاکستانی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا۔ ادھراوڑی میں 7اگست کو شلنگ سے زخمی ہونے والا فوج کا ایک حوالدار زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔جبکہ ماگام بڈگام میں گرینیڈ دھماکے میں زخمی سی آر پی ایف اہلکار بھی زندگی کی جنگ ہار گیا ۔ اوڑی میں ہی7اگست کو پاکستانی فوج کی فائرنگ سے فوج کا ایک حوالدار نریندر سنگھ ساکن ہری پور دہرادون اتراکھنڈشدید زخمی ہوا تھا۔ مذکورہ اہلکار سرینگر کے بادامی باغ اسپتال میںایک ہفتے کے بعدزخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔قابل ذکر ہے کہ 3اگست کو کمل کوٹ سیکٹر میں سرحد پار کی شلنگ سے تین فوجی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔اس دوران 14اگست کو جنگجوﺅں نے بٹہ پورہ ماگام بڈگام میں فورسز پر ایک گرینیڈ داغا تھا جس میں 4فورسز اہلکار زخمی ہوئے تھے ۔شدید زخمی سی آر پی ایف اہلکار کانسٹیبل ریاض احمد بدھ نے صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں دو روز تک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلاءرہنے کے بعد بدھ بعد دوپہر مذکورہ اہلکار نے زندگی کی آخری سا نس لی ۔