صحیح سمت میں مثبت قدم:حریت (ع)
سرینگر// بھارت اور پاکستان کی طرف سے جنگ بندی معاہدے پرسختی سے عمل درآمدکرنے کے مشترکہ بیان کاحریت کانفرنس(ع) نے خیرمقدم کرتے ہوئے اُمیدظاہر کی ہے کہ اصل تنازعہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے دونوں ممالک کی حکومتیں کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے مسئلہ کشمیرکوپرامن مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ایک بیان میں حریت(ع) نے کہاکہ ہندپاک کے اس مشترکہ اعلان سے جموں کشمیرمیں حدمتارکہ کے دونوں اطراف جانی اور مالی نقصان کو روکنے میں مدد ملے گی جس کا سامنا لمبی مدت سے وہاں کے عوام کررہی ہے۔بیان میں مزیدکہا گیا ہے کہ یہ صحیح سمت میں ایک مثبت قدم ہے اور اس سے دونوں اطراف کے عوام کی راحت رسانی کے علاوہ خون ریزی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ حریت کانفرنس نے مزید کہا کہ دونوں اطراف کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے حدمتارکہ کے حوالے سے جہاں بھارت پاک مشترکہ مفادات اور قیام امن کی بات کی ہے، صحیح طور پر ایک دوسرے کے خدشات کا احساس اور ادراک کرتے ہوئے ان مسائل کی نشاندہی کی ہے، وہیں حریت کانفرنس یہ محسوس کرتی ہے کہ اصل تنازع کے حل کیلئے بھارت اور پاکستان کی حکومتیں کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کو مد نظر رکھ کر مسئلہ کشمیر کو پْر امن مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے کیلئے کوشش کرے گی۔حریت نے یہ بات پھر زور دیکر کہی کہ مسائل کے حل کیلئے بات چیت ہی بہترین اور واحد ذریعہ ہے اور حریت کانفرنس نے ہمیشہ اس کی حمایت اور وکالت کی ہے۔
خطے میں امن کی فضا قائم ہوگی:حکیم
سری نگر// پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم یاسین نے ہندوستان اور پاکستان کی افواج کے درمیان کشمیر میں حدمتارکہ پر آر پار گولہ باری کو روکنے پر اتفاق کو خطے میں امن قائم کرنے کے تئیں ایک خوشگوار قدم سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مثبت تبدیلی سے نہ صرف جموں وکشمیر کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو گولہ باری سے درپیش مصائب و مشکلات کم ہوںگے بلکہ اس سے خطے میں امن کی فضا قائم کرنے کے لیے بھی راہیں ہموار ہوںگی۔ ایک بیان میں حکیم یاسین نے ہمسایہ ممالک ہندوستان اور پاکستان کی افواج کی درمیان جموںکشمیر میں حدمتارکہ کے آرپار گولہ باری اور فائرنگ کو روکنے کے بارے میں ہوئے معاہدے کو ایک خوش آئندہ اور مثبت قدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پائے جارہے ناخوشگوار تعلقات کا سب سے زیادہ خمیازہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ کشمیر پر ہمسایہ ممالک کے درمیان دشمنی کی وجہ سے اب تک جموں و کشمیر میں نہ صرف ہزاروں کی تعداد میں قیمتی انسانی جانیں تلف ہوئی ہیں بلکہ معاشی و اقتصادی ترقی پر بھی بہت ہی برا اثر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان موجودہ جنگ بندی معاہدے کی بدولت جموں و کشمیر میں امن کی فضا قائم کرنے میں کافی مدد مل سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم اٹل آنجہانی اٹل بہاری واجپائی کے دور میں سرحد آرپار آنے جانے و تجارتی راستوں کو بحال کئے جانے اور گفت شنید کے دروازے کھولنے کے سلسلے میں اٹھائے گئے اقدامات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے از سر نو کوششیں کی جانی چاہیے۔ پی ڈی ایف چیرمین نے امید ظاہر کی ہے کہ عالمی سطح پر بدلتے دفاعی،سیاسی، سماجی،اقتصادی،معاشی و کاروباری صورتحال کے پیش نظر ہندوستان اور پاکستان بھی مسلہ کشمیر سمیت تمام حل طلب معاملات کو افہام وتفہیم اور بات چیت کے ذریعے باہمی طور حل کرنے کی جانب گامزن ہوںگے جس کا فائدہ دونوں ممالک کے لوگوں کو ملے گا۔
کرناہ اور کیرن کے سماجی حلقوں میں خوشی ،فیصلہ کا خیر مقدم
اشفاق سعید
سرینگر //جموں وکشمیر کے حدمتارکہ پر برسوں سے امن کی خواہاں سرحدی آبادی کی خوشی کا ٹھکانہ اُس وقت نہ رہا جب جمعرات کو ہندوستان اور پاکستان نے حدمتارکہ کے ساتھ ساتھ اس سے متصل سبھی سیکٹروں میں گذشتہ رات سے جنگ بندی اور دیگر سمجھوتوں پرسختی سے عمل کرنے پر اتفاق کیا ۔کرناہ سیول سوسائٹی کے صدر پیر زادہ سراج الدین قریشی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ گولہ باری سے اپنوں کو کھو چکے ہیں اوروادی کے سرحدی علاقوں میں 1996سے لیکر 2003تک سینکڑوں کی تعداد میں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیںجبکہ کئی ایک لوگ ایسے بھی ہیں جو اپاہچ ہو کر آج بھی گھر والوں کے رحم وکرم پر ہیںجبکہ کافی تعداد میں لوگ گھر بار بھی چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف بھاگ گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ یہاں کی زمینیں بنجر میں تبدیل ہو چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگوں نے 2003کی جنگ بندی معاہدے کے بعد امن دیکھا لیکن پھر اس کو کسی کی نظر لگ گئی اور حالات پرتنائو ہو گئے اور دونوں ممالک کی فوجوں کے مابین پھر سے گولہ باری کا سلسلہ شروع ہوا ۔انہوں نے کہاکہ آج کا ہندپاک فیصلہ سرحدی آبادی کے زخموں پر مرہم لگانے کا کام کرے گا ۔کیرن کے ایک پنچایتی رکن راجہ تسلیم کہتے ہیں کہ ہر وقت علاقہ خوف کے سائے میں تھا ،تعمیر وترقی نہیں ہو رہی تھی، علاقے میں سیاحتی سیزن میں لوگ کیرن جانے سے بھی کتراتے تھے، لیکن اب اُمید ہے کہ سرحدیں دیکھنے لوگ آئیں گے اور گولہ باری کے بدلے لوگوں کو تعمیر وترقی ملے گی ۔تسلیم نے کہا کہ سرحدی آبادی امن کی خواہاں ہے اور کوئی نہیں چاہتا کہ خون خرابہ ہو اور انسانی جانوں کا زیاں ہو۔ تسلیم نے کہا کہ سرحد کے آر پار آبادی ترقی چاہتی ہے ۔اوڑی کے ارشاد احمد خواجہ اس فیصلے سے بے حد خوش ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں جموں وکشمیر کی سرحدوں پر امن کی دعائیں کر رہا تھا کیونکہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح گولہ باری کے نتیجے میں انسانی جانوں کے چیتھڑے ہوائوں میں بکھرتے تھے۔ انسانی جانوں کا زیاں ہوتا تھا لیکن اب اُمید ہے کہ امن قائم ہو گا اور ہم لوگ بھی ترقی کریں گے اور ہمارے بچوں کی تعلیم متاثر نہیں ہو گی ۔پونچھ اور راجوری میں بھی لوگ ایسی خبریں آنے سے خوش ہیں اور دن بھر سوشل میڈیا پر لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا ۔پونچھ بالاکوٹ کے نصیر احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ یہاں گائوں کے گائوں خوف کے سائے میں ہیں اور لوگوں کا برسوں سے یہ مطالبہ تھا کہ گولہ باری کو بند کیا جائے اور انہیں چین سے رہنے دیا جائے لیکن ان کی آوازکوئی نہیں سن رہا تھا لیکن اب ان کی خوشی کا ٹھکانہ بھی نہ رہا ۔
حکومت ہند کاشکر گزارہوں:راجہ منظور
سرینگر// ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حدمتارکہ پر فائربندی معاہدے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے ضلع صدر کپوارہ راجہ منظور نے کہا کہ اب حدمتارکہ پر رہائش مزید آبادی کوراحت نصیب ہوگی۔ ایک بیان میں منظور نے کہا ہے کہ حدمتارکہ پر فائربندی معاہدوں پر سختی سے عمل آوری سے جموں وکشمیر کے سرحدی اضلاع کے مکینوں کو بہت بڑی راحت ملے گی۔ منظور نے کہاکہ سرحدی علاقوں چاہئے وہ اوڑی، کرناہ، نوشہرہ، پونچھ، گریز ہو یا جموں وکشمیر کاکوئی اور سرحدی علاقہ ،وہاں پر آج تک دونوں ممالک کے درمیان گولہ باری سے بھاری جانی ومالی نقصان ہواہے۔ لگاتار فائرنگ اور شلنگ کے خطرہ سے ہمیشہ خوف اور غیریقینی ماحول قائم رہتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسے معاہدے کی دیر سے توقع کی جارہی تھی۔ سرحدی علاقوں میں امن جموں وکشمیرکی ترقی اور استحکام کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ اب یہ بھی توقع ہے کہ سرحدی علاقہ کے مکین معمول کی زندگی جینے کے لئے اپنے آبائی گھروں کو لوٹیں گے۔ انہوں نے مرکزی سرکار کا اِس تاریخ ساز فیصلے کے لئے شکریہ ادا کیا جس سے سرحدی مکینوں کی سلامتی وخوشحالی یقینی بنے گی۔ بیان میں انہوں نے کہاکہ ’’میں حکومت ِ ہند کا شکر گذار ہوں جس نے جموں وکشمیر کے سرحدی مکینوں کے مسئلہ کے تئیں گہری دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے تاریخی ا قدام کیا‘‘۔