ہم نے سیکھا ہی نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا
اکتوبر ۱۹۵۸ ء میں پاکستان میں فوج کے سربراہ محمد ایوب خان نے سکندر مرزا کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لا نافذ کردیا۔ آمریت مستحکم ہوگئی تو ۱۹۶۲ ء میں فیلڈ مارشل نے ملک کے بہترین دماغوں کی تائید سے جو ہر فرعون کے ہامان ہوتے ہیں نیا ’’دستور‘‘ لایا۔ فوجی آمریت نے پورے ملک میں خوف اور دہشت کا ایسا ماحول پیدا کردیا تھا کہ ہر طرف سناٹا چھا یا ہوا تھا۔ دس کروڑ کی آبادی والا ملک قبرستان کی طرح خاموش تھا۔ جاگیردار ملک سے فرار ہورہے تھے اور ارباب دانش یا تو مصلحتََاخاموش تھے یا فوجی آمریت کے دست و بازو بن کر نئے دستور کے فضائل ومناقب بیان کرنے میں لگے ہوئے تھے۔
دستور جب لایا گیا۔ انہیں دنوں مری میں ایک مشاعرہ ہوا ،جہاں پاکستان کے سرکردہ شعراء اور معززین آئے ہوئے تھے۔ شعراء اپنی اپنی غزلوں سے سامعین کو محظوظ کرکے دادپارہے تھے۔ سٹیج پر ایک ۳۴ سالہ شاعر نمودار ہوا۔ اس نے مشاعرے کی عام روش کے خلاف ایک نظم پڑھی جس کا عنوان’ دستور‘ تھا۔ یہ محض ایک نظم نہیں تھی بلکہ ایوب خان کے لائے ہوئے دستور کے خلاف سب سے طاقتور اور موثر صدائے احتجاج تھی۔ نظم نہیں تھی بلکہ ایوب خان کے لائے ہوئے دستور کے خلاف سب سے طاقتور اور موثر صدائے احتجاج تھی۔ نظم کا پہلا بند یہ تھا ؎
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو، صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا ،میں نہیںجانتا
سٹیج پر بیٹھے ایک ہمدرد نے شاعر کے کپڑے پکڑ کر اشارتََاپڑھنے سے منع کیا مگر وہ بلند آواز میں پوری نظم پڑھتا گیا۔ نظم ختم ہوتے ہی لوگ اٹھ کر مشاعر ے سے چلے گئے ۔شاعر کی جرأت اور ہمت نے سب کو مبہوت کرکے رکھ دیا تھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ موقعہ نہیں تھا۔ جس پر شاعر نے کہا کہ میں موقعہ پرست نہیں ہوں۔ ’دستور‘ملک کے بچے بچے کی زبان پر چڑھی۔ ہر شخص ’’میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا‘‘ گنگنا رہا تھا۔ اسی نظم کا اثر تھا کہ حکمرانوں کا تخلیق کیا ہوا دستور اپنی موت آپ مرگیا ۔ نظم ’دستور‘ کے شاعر کا نام حبیب حالبؔ تھا۔
تین سال قبل ۱۹۵۹ء میں جب اسی شاعرنے ریڈیو پاکستان پر ملک میں نافذ مارشل لا پر اظہار خیالات کرتے ہوئے کہا تھا ؎
میں غزل کہوں تو کیسے کہ جدا ہیں میری راہیں
مرے اردگرد آنسو مرے آس پاس آئیں
کہیں گیس کا دھواں ہے کہیں گولیوں کی بارش
شب ِ عہد ِ کم نگاہی تجھے کس طرح سراہیں
اشعار نشر ہوتے ہی ریڈیو پاکستان والے معتوب ہوئے تھے۔ یہی شاعر تھے جنہوں نے صدر ایوب پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا ؎
بیس گھرانے ہیں آباد
اور کرورڑں میں ناشاد
صدر ایوب زندہ باد
حبیب جالبؔ کا اصل نام حسیب احمد والد صوفی عنایت اللہ تھا۔ ۲۴ مارچ ۱۹۲۸ ء کو ضلع ہوشیار پور پنجاب کے ایک گائوں میانی افغاناں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاوٗں ہی کے سکول میں پائی۔ اس کے بعد دہلی کے ایک اسکول سے میڑک پاس کیا۔ ۳۱ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان چلے گئے اور کراچی کے ایک سکول میں داخلہ لیا۔ ۱۹۵۴ میں وہ سیاست سے وابستہ ہوئے۔ انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑا مگر ہار گئے۔ ان کا انتقال ۱۹۹۳ء میں ۱۲ اور ۱۳ مارچ کی درمیانی رات کو ہوا۔ ۱۳ مارچ کی شام کو لاہور کے ایک قبرستان میں دفن کئے گئے۔ حق مغفرت کرے عجب آزادمردتھا۔
حبیب جالبؔ سیاسی جبرواستدااورسرمایہ دارانہ نظام کے خلاف تھے ۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بڑے بڑے جابروں اورآمروںسیا بھی مرعوب نہٰںہوتے تھے۔ انہوںنے نہ تو ظالم حکمرانوںکے پاس اپنے ضمیرکوگروی رکھا اورنہ مادی مفاد کے حصول کے لئے اسے تھپکیاں دے کرسلایا۔ وہ صدرایوب کے دورمیں ان کی مخالفت کرتے تھے۔ کئی بارجیلمیںڈال دئے گئے مگر ہربارجیل سے چھوٹتے ہی اسٹیج پرآکراپنے آتشیںنغموں سے حکومت کے خلاف آگ بکھیرتے تھے۔ صدرایوب کے بعد ایک اورڈکٹتیریحییٰ خان کا دورآیا۔ ان کے زمانۂ اقتدارمیںمری میںمشاعرہ ہوا جس کی صدارت فیض احمد فیض کررہے تھے۔ دیوارپریحییٰ خان کی تصویرلگی تھی۔ جالبؔ کودس سال بعد مشاعرے میں بلایاگیاتھا۔ انھوںنے بھرے ہال میںیحییٰ خان کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ؎
تم سے پہلے وہ اک شخص یہاں تخت نشیںتھا
اس کوبھی اپنے خداہونے پہ اتناہی یقین تھا
یحییٰ خان کے دورمیں مشرقی پاکستان میںفوج اتاردی گئی تو جالب نے اس کی مخالفت کی ؎
محبت گولیوںسے بورہے ہو
وطن کاچہرہ خوںسے دھورہے ہو
گماںتم کوکہ رستہ کٹ رہاہے
یقین مجھ کو کہ منزل کھورہے ہو
ذوالفقار علی بھٹو کے دوراقتدارمیںفیض احمدفیض کلچرل منسٹرتھے۔ ۱۹۷۴ء میںایک بارمشاعرہ ہوا۔ فیضؔ مہمان خصوصی تھے۔ انہوںنے مشاعرے کی شرط رکھی کہ کوئی نظم نہیںپڑے گا۔ خوف تھا کہ نظم میںحکومت پرتنقید نہ ہو۔ جالبؔ نے اسی وقت غزل لکھی ؎
جوصدائیں سن رہاہوں مجھے بس انہی کاغم ہے
تمہیںشعر کی پڑی ہے مجھے آدمی کاغم ہے
رُخ مفلساں پہ جالبؔ ہے ازل سے جس کے سائے
اسی بے بسی کاغم تھااسی بے بسی کاغم ہے
ذوالفقارعلی بھٹونے انھیں اپنی پارٹی پیوپلز پارٹی میںشمولیت کی دعوت دی جسے جالبؔنے یہ کہہ کہ ٹھکرادیا کہ کہیں سمندر بھی دریامیںجاگرتاہے۔ بھٹوکے دورحکومت میںجالبؔ کو اس دن گرفتار کیاگیا جوان کے بیٹے کی وفات کاتیسرادن(تیجا) تھا۔ بھٹوہی کے دورمیںجالب پرغداری کامقدمہ چلایاگیا۔ جولائی ۱۹۷۷ء میںجنرل ضیاء الحق نے بھٹوکواقتدار سے بے دخل کرکے ملک میںمارشل لا لگایا۔ انہوںنے غداری کامقدمہ ختم کرکے جالبؔ کوجیل سے رہائی دلائی۔ جالبؔ کاپاسپورٹ بیس سال سے ضبط تھا۔ ضیاء الحق نے اسے بھی بحال کردیا۔ مگر ان تمام عنایات فروانہ سے روشن ضمیر جالب رام نہ ہوئے انہوںنے ضیاء الحق اورمارشل لا کی تنقیدومخالفت میںایک نظم لکھی جوبہت مشہورہوئی۔ا س نظم پروہ چھ ماہ تک جیل میںرہے ؎
ظلمت کو ضیا،صرصرکوصا،بندے کوخداکیالکھنا
پتھرکو گہر،دیوار کودر،کرگس کوہماکیا لکھنا
ضیاء الحق نے ریفرنڈم کرایا توجالبؔ نے ـ’’ریفرنڈم‘‘کے عنوان سے نظم لکھی جس میںریفرنڈم کامذاق اڑایا۔ عوام نے اس ریفرنڈم میںزیادہ دلچسپی نہیںلی۔ مذہبی لوگوںنے ساتھ دیا۔ بعض جگہ ان لوگوں کے نام سے ووٹ ڈالے گئے جو مرحوم ہوچکے تھے ؎
شہرمیںہوکا عالم تھا جن تھا ریفرنڈم کا
کچھ باریش سے چہر ے تھے اورایمان کاماتم تھا
مرحومین شریک ہوئے سچائی کا چہلم تھا
حبیب جالبؔ نے بے نظیر پر ’’نہتی لڑکی‘‘کے عنوان سے نظم لکھی مگر جب وہ برسراقتدارآئیں اورحالات میںکوئی تبدیلی نہ آئی تو جالبؔ نے کہا ؎
وہی حالات میںفقیروں کے دن پھرے ہیںفقط وزیروںکے
اپناحلقہ ہے حلقۂ زنجیر اورحلقے ہیںسب امیروں کے
ہربلاول ہے دیس کامقروض پاؤں ننگے ہیںبے نظیروں کے
جالبؔ نے نوازشریف کی بھی سخت مخالفت کی اورکہا ؎
نہ جاںدے دونہ دل دے دو
بس اپنی ایک مل دے دو
صدرایوب کے مقابلے میںجب اپوزیشن نے مادرملت فاطمہ جناح کوصدارتی الیکشن کے لئے کھڑاکیاتوحبیب جالبؔ نے ان کے جلسوں میںشرکت کرکے اپنی شاعری کے ذریعے انتخابی مہم چلائی۔ان دنوںجالبؔ کی شاعری عوام کی توجہ کامرکزتھی۔
۳۰جنوری ۲۰۲۱ء پاکستان کی ایک مشہورشخصیت نیلوبیگم کاانتقال ہوگیا۔ ۱۹۶۵ء میںامیرمحمد خان المعروف بہ نواب آف کالاباغ مغربی پاکستان/موجودہ پاکستان کے گورنرتھے۔ شاہِ ایراںپاکستان کے دورے پرآئے تونواب کی کوٹھی پرو ہ مہمان کی حیثیت سے قیام پذیر تھے۔ نواب آف کالاباغ نے مہمانوں کی تفریح طبع کے لئے ملک کی مشہوراداکارہ نیلو کوکوٹھی پرطلب کیا۔ باغیرت نیلونے آنے سے معذرت کی جس نواب آف کالاباغ کی ہیبت سے ارباب اقتدارتک لرزہ براندام رہتے تھے،آگ بگولہ ہوگئے۔ انھوںنے پولیس کے غنڈے بھیجے تاکہ جبراً لایاجائے۔ نیلوکے ساتھ جوزیادتی ہوئی اس نے اسے صدمے سے دوچارکیا۔ اس نے نیند کی گولیاںزیادہ مقدارمیں کھاکرخودکشی کی کوشش کی مگرہسپتال میںبروقت علاج ہونے سے اس کی زندگی بچ گئی۔ اس واقعہ پر فن کاروںنے ہڑتال کی۔ حبیب جالبؔ نے ’’نیلو‘‘کے عنوان سے ایک نظم لکھی جو بہت مشہورہوئی جس کے کچھ اشعار ہیں ؎
توکہ ناواقف آداب شاہشائی تھی
رقص زنجیر پہن کر بھی کیاجاتاہے
تجھ کو انکارکی جرأت جوہوئی توکیوںکر
سایہ شا ہ میںاسی طرح جیاجاتاہے
اہل ثروت کی یہ تجویز ہے سرکش لڑکی
تجھ کو دربارمیںکوڑوںسے بچایاجائے
ناچتے ناچتے ہوجائے جو پائل خاموش
پھرنہ تازیست تجھے ہوش میںلایاجائے
گذشتہ ماہ نیلوبیگم کے انتقال پریہ نظم پھرسے مرکزتوجہ بنی۔اس واقعہ کے بعدنیلوفر نے جوایک بھیائی لڑکی تھی،اسلام قبول کیا۔پورے ملک میں اس باغیرت خاتون کواحترام کی نگاہوںسے دیکھاجاتاتھا۔
اس واقعے کے بعد ایک اور اداکارہ ممتازکو مہمانوں کے سامنے رقص کرنے کے لئے لاڑکانہ طلب کیاگیا جس پرکراچی میںآغاگل نے کہا تھا کہ جالب نے نیلوفر پرنظم لکھی تھی مگر ممتازپرکچھ نہیںلکھا۔ جالبؔ نے مشاعرے ہی میں یہ نظم تیارکی جس کاعنوان ممتازتھا ؎
قصرشاہی سے یہ حکم صادرہوا، لاڈکانے چلو
ورنہ تھانے چلو
پنے ہونٹوں کی خوشبو لٹانے چلو،گیت گانے چلو
ورنہ تھانے چلو
منتظرہیں تمہارے شکاری وہاںکیف کاہے سماں
اپنے جلوؤں سے محفل سجانے چلو، مسکرانے چلو
ورنہ تھانے چلو
شاہنامہ اسلام کے مصنف اورپاکستان کے قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کی ملاقات راستے میں حبیب جالبؔ سے ہوگئی۔ جالبؔ نے ان سے خیروعافیت دریافت کی۔ حفیظؔ نے ان سے کہا کہ میںایوب خان کا مشیرہوگیاہوں۔وہ ہرمعاملہ میںمجھ سے مشورہ طلب کرتے ہیں،میںنے ان سے یہ یہ کہاہے۔جالبؔ نے اسی پرایک نظم کہی، میںنے اس سے یہ کہا ، نظم کا عنوان ’’شیر‘‘تھا۔اس وقت مشرقی اورمغربی پاکستان کی آبادی دس کروڑ تھی۔ یہ نظم پاکستان میںخوب چلی مگرسرکار کے مشیراس سے ناراض ہوئے۔ نظم میں شیر کہتاہے کہ میں نے صدرکو یہ یہ کہاہے ؎
میںنے اُس سے یہ کہا
یہ جودس کروڑہیں
جہل کانچوڑہیں
ان کی فکر سوگئی
ہرامید کی کرن
ظلمتوں میںکھو گئی
یہ خبردرست ہے
ان کی موت ہوگئی
بے شعور لوگ ہیں
زندگی کاروگ ہیں
سب یہ شرپسند ہیں
ان کی کھینچ لے زباں
ان کاگھونٹ دے گلا
میںنے اس سے یہ کہا
جالبؔ نے حکمرانوں ، جاگیرداروں اورسرمایہ داروں کے علاوہ ہر اس طبقے کی خبر لی ہے جو یاتوظالموں اور غاصبوں کاہمنوارہاہے یا ظلم ، جبرواستداد اوراستحصال کے خلاف آوازنہیں اٹھاتا۔ انھوںنے ’’علماء سوء‘‘ اور’’مولانا‘‘کے عنوانوںسے بھی نظمیں کہی ہیںجن میں ان کی سرکار پرستی پرتعریض کی ہے۔
جالبؔ بیرون ملک کے حالات سے بھی آگاہ تھے۔ انھوںنے امریکہ، اسرائیل اورامریکی صدر ریگن کی مخالفت میںنظمیں لکھیں۔ فلسطین اور لبنان پرخون کے آنسوں روئے۔ بیروت میںپناہ گزیں کیمپوں میںفلسطینیوں کے قتل عام پرصدائے احتجاج بلند کی اورعربوں کی اسرائیل نوازی پر شعر کہے۔ یہی نہیںجالبؔ نے عرب کے بادشاہوں اورشیوخ وامراء کے مظلوم فلسطینیوں کی حالت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اورجب دیکھاکہ یہ لوگ بہرے گونگے اوراندھے ہیں،واپس نہیںآئیںگے۔ اس پر ستم یہ کہ پورے عالم اسلام کے لئے رسوائی کاسبب بننے والے یہ شاہ شیوخ اپنی تمام عیاشیوں اوررنگینیوں کے باوجود اپنے آپ کو ’’پاسبان حرم ‘‘کہلوانے پرمصر ہیں،توانہوںنے کہا ؎
شیوخ و شاہ کوسمجھ نہ پاسبان حرم
یہ بندگان زروسیم ہیںخداکی قسم
شیوخ وشاہ توہیںخود شریک ظلم وستم
شیوخ وشاہ سے رکھو نہ کچھ امید کرم
امیرکیسے نہ واشنگٹن کے ساتھ رہیں
انہی کے دم سے ساری امارتیں ہمدم
یہ مانگتے ہیںدعائیں برائے اسرائیل
کہ اسرائیل سے ہیںبادشاہتیں قائم
غرض انھیں توفقط اپنے تخت وتاج سے ہے
انھیں شہید فلسطینیوں کاکیوںہوغم
حبیب جالبؔ کی اپنی فن گوئی، بے خوفی اور خودداری کی بھاری قیمت چکانی پڑی۔ انھیںغربت اور افلاس میں زندگی گزارنی پڑی۔ وہ اپنی اہلیہ اور تین بیٹوں اورپانچ بیٹیوں کے ساتھ ایک چھوٹے سے گھر میںرہتے تھے گھرمیںاکثر فاقہ کشی کی نوبت آتی تھی۔ بیماری میںعلاج ومعالجے کے لئے بھی پیسے نہیںہوتے تھے۔ وہ اپنے بچوںکواچھے اسکولوںمیں تعلیم بھی نہ دلاسکے مگر انہیں ملک کے کروڑوں دبے کچلے اورنادرعوام احترام کی نگاہوں سے دیکھتے تھے ، وہ انہیں اپناترجمان سمجھتے تھے۔ چنانچہ عوام میںجالب ؔ کوجومقام ملاہے اس میں ان کے گھروالوں کابھی حصہ ہے جس کے لئے وہ دادوتحسین کے مستحق ہیں ورنہ نٹشے کے بقول بہت سے مفکراپنے بچے کی پیدائش ہی کے وقت مرجاتے ہیں۔
حبیب جالبؔ کی شاعری آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل جاتی تھی۔میانوالی جیل میں ان سے کہا گیا کہ کاغذ اورقلم یہاں میسرنہیںہوتے ۔ انہوںنے جواب دیا کہ میں اپنے اشعار داروغہ کوسناؤںگا ،وہ جاکر چوراہے پر سنائے گا وہاںسے وہ لاہور پہنچ جائیںگے۔ ان کامجموعہ کلام ’’سرِ مقتل‘‘ ایوب خان کے دورمیں چھپتے ہی ضبط ہوا ،ایک اورمجموعہ ’’ذکربہتے خون کا‘‘بھی ضبط کیاگیا۔ ضیاء الحق کے دورمیں ان کا ایک اورمجموعہ کلام ’’گنبدے در‘‘بھی ضبط کیاگیا مگران کے گن گرج اور لہجے میںکبھی فرق نہ آیا۔ ان کی لؤ تیز سے تیز تر ہوتی گئی۔ ’’سرمقتل‘‘ کی ضبطی پرانھوںنے کہاتھا ؎
میرے ہاتھ میںقلم ہے میرے ذہن میںاجالا
مجھے کیا دباسکے گا کوئی ظلمتوں کا بالا
مجھے فکر امن عالم تجھے اپنی ذات کاغم
میںطلوع ہورہاہوں،توغروب ہونے والا
جالبؔ ۱۹مرتبہ جیل گئے۔ دوبارعمرقید کی سزاسنائی گئی۔انھوںنے زندگی کے تیس سال جیل میں گزارے۔ انہیںقربانیوںکی بدولت جالبؔ آج بھی دبے کچلے عوام کاہیروبناہواہے۔لاہور کے گلی کوچے آج بھی زبان حال سے کہہ رہے ہوںگے ؎
وہ جو اس راہ سے چاک گریباںگزراتھا
اس آوارہ دیوانے کوجالبؔ جالبؔ کہتے ہے
رابطہ۔ حدی پورہ رفیع آباد،بارہمولہ کشمیر