عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// جموں و کشمیر ہائوسنگ بورڈ کو مختص تقریباً 25کروڑ روپئے عدم استعمال کے باعث لیپس ہو گئے، جس سے محکمہ میں مالی نظم و نسق اور فنڈس کے استعمال پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کئی دیگر سرکاری محکموں میں بھی فنڈس استعمال نہ ہونے کے باعث ٹریجریوں کو واپس جا رہے ہیں۔ ایک جانب حکومت ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز جاری کر رہی ہے، تو دوسری جانب یہی رقومات بروقت خرچ نہ ہونے کے باعث ضائع ہو رہے ہیں۔ سینٹرل کنٹریکٹرز کوآرڈی نیشن کمیٹی (جے کے سی سی سی) نے جموں و کشمیر کے ٹھیکیداروں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے چھ نکاتی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔
کمیٹی کے جنرل سیکریٹری فاروق احمد ڈار نے منظور شدہ شرح سے کم پر ٹینڈر دینے کے رجحان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تعمیراتی کاموں کے معیار پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض انجینئروں اور ٹھیکیداروں کے درمیان ملی بھگت اس مسئلے کو بڑھا رہی ہے، جس سے نہ صرف ناقص کام ہو رہا ہے بلکہ سرکاری خزانے کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 13 برسوں سے تقریباً 785کروڑ روپے کی ادائیگیاں زیر التوا ہیں، جن کیلئے متعدد بار حکومت اور انتظامیہ سے رجوع کیا گیا لیکن اب تک کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا۔کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ چالان ٹریجریوں کے بجائے ڈویژنل سطح پر قبول کیے جائیں تاکہ تاخیر اور دفتری پیچیدگیوں کو کم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ ٹینڈروں میں عائد پابندیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے غیر مقامی کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، حالانکہ مقامی ٹھیکیدار بھی جدید مشینری اور تکنیکی مہارت رکھتے ہیں۔