جے کے بینک ،بینکنگ ایسوسی ایٹس کی کُل1500 بھرتیاں | وادی کے صرف 200امیدواروں کا انتخاب امتیاز، ناانصافی اور دغا

سرینگر//پیپلزڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم محمد یاسین نے جموں کشمیر بینک میں1500بینکنگ ایسوسی ایٹس کی اسامیاں پُر کرنے کیلئے کشمیر خطے سے صرف 200 اُمیدوراروں کو منتخب کرنے پرتشویش کااظہار کرتے ہوئے مانگ کی کہ ان اسامیوں کوجموں اور کشمیر خطے کے درمیان نصف نصف کی بنیاد پر پر کیاجانا چاہیے تاکہ خواہشمند امیدواروںکے ساتھ کسی امتیاز کے بغیرانصاف کیا جائے ۔ایک بیان میں حکیم یاسین نے حال ہی میں جموں کشمیر بینک میں بینکنگ ایسوسی ایٹس کی1500اسامیوں کو پر کرنے کیلئے نتائج کی نوٹیفیکیشن جس میں کشمیر صوبے سے صرف 200 امیدواروں کے نام ہیں  ،پر مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اِسے ناانصافی  قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کشمیر کے امیداروں کے ساتھ امتیاز ہے۔انہوں نے کہا کہ ان اسامیوں کو جموں اورکشمیرکے درمیان برابر برابر تقسیم کیا جاناچاہیے ۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر بینک کے حکام کی طرف سے مشتہر کئے گئے نتائج کی نوٹیفیکیشن کودیکھ کر کشمیر کے امیدواربددل ہوگئے ہیں اور وہ محسوس کررہے ہیں کہ ان کے ساتھ دغا اور ناانصافی کی گئی ہے۔حکیم یاسین نے جموں کشمیر بینک حکام پر زور دیا کہ وہ کشمیر صوبے کے امیدواروں کے ساتھ انصاف کریں کیوں کہ جموں کشمیر بینک کی رزلٹ نوٹیفیکیشن سے ان کا مستقبل دائو پر لگ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر خطے کے لوگوں کے بنیادی حقوق کو روندنے کیلئے کچھ ’’مذموم منصوبے ‘‘عملائے جارہے ہیں ۔انہوں نے مزیدکہا کہ کشمیرخطے میں پہلے ہی نجی سیکٹرمیںروزگار کے مواقع کم ہیں  اسلئے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے ۔حکیم یاسین نے مزید کہا کہ جاری تنازعہ سے کشمیر خطے کے لوگوں نے تعلیمی،سماجی،اقتصادی ،نفسیاتی اورذہنی طور کافی کچھ جھیلا ہے اور انہیں راحت فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اوریوٹی سرکار کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر کے نوجوانوں کے امنگوں اور آرزوں پر کھرااُتریں۔انہوں نے کشمیر خطے کے تمام امیدواروں جنہیں بینکنگ ایسوسی ایٹس کی اس فہرست میں نہیں رکھا گیا ہے کو فوری طور نوکری دینے کی مانگ کی ہے تاکہ ان کی مشکلات کا ازالہ ہو۔