جہلم کے کناروں سے نکالے گئے شہریوں کا باز آبادکاری کے حق میں احتجاج

سرینگر/ سرینگر کے ضلع کمشنر دفتر سے فتح کدل علاقے میں دریائے جہلم کے کناروں سے نکالے گئے بیسیوں گھرانوں نے سنیچر کو پریس کالونی میں آکر اپنی باز آبادکاری کے حق میں زور دار احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین میں خواتین بھی شامل تھیں اور انہوںنے نعرے بلند کرتے ہوئے'' انصاف'' کا مطالبہ کیا۔

متاثرہ گھرانوں نے یک زبان ہوکر کہا کہ اُنہیں تین ماہ کے اندر مکانوں کی تعمیر کیلئے زمین الاٹ کرکے باز آبادکاری کے وعدے پر جہلم کے کناروں سے نکالا گیاتھا۔سال 2012 میں اُن کے مکانوں کی مسماری عمل میں لائی گئی جب سے اُن کی فائلیں سرکاری دفاتر میں سڑ رہی ہیں۔ نہ اُنہیں زمین الاٹ کی گئی اور نہ اُن کی باز آبادکاری عمل میں آئی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت اُن کے مسائل کی طرف دھیان نہیں دے رہی ہے حالانکہ اُنہوں نے اپنی طرف سے سبھی لوازمات پوری کر رکھی ہیں۔

 مظاہرین کا کہنا تھا کہ120گھرانے کرایہ کے مکانوں میں زندگیاں گذار رہے ہیں جہاں اُن کی حالت بہت ہی خراب ہورہی ہے اور وہ نہ مکانوں کا کرایہ اداکرپارہے ہیں اور نہ اس پوزیشن میں ہیں کہ اپنے لئے کہیں مکان ہی خرید لیں۔

انہوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی وہ اُن کا معاملہ حل کرنے سے متعلق اقدامات کرے۔