جہلم توی ریکوری پروجیکٹ پر صرف5فیصد رقومات خرچ | سیلاب سے بچائو کیلئے 1500کروڑ کا پروجیکٹ بھی ناکام:نیشنل کانفرنس

سرینگر// نیشنل کانفرنس نے سابق پی ڈی پی بھاجپا مخلوط حکومت کی ناقص کارکردگی پر زبردست افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ریاست کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ’’جہلم توی فلڈ ریکوری پروجیکٹ‘‘ بھی نہیں بچ سکا۔ پارٹی کے ترجمان عمران نبی ڈار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ 2014کے تباہ کن سیلاب کے بعد ورلڈ بینک کی طرف سے جہلم اور توی دریائوں کی ڈریجنگ، پشتوں کی تعمیر و تجدید اور دیگر ضروری کاموں کیلئے 1500کروڑ روپے کی فراہمی کو منظوری ملی لیکن سابق پی ڈی پی سربراہی والی حکومت نے 3سال میں صرف71کروڑ روپے ہی خرچ کر پائی ہے۔این سی ترجمان نے کہا کہ 2014کے سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے21 اکتوبر 2014میں ورلڈبنک اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک سے رجوع کیا تھا جس کے بعد ورلڈ بینک نے جہلم اور توی دریائوں کیلئے1500کروڑ روپے کو منظوردی دی۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی حکومت کی نااہلی اور ناکامی کی اس سے بڑی مثال کیا ہوسکتی ہے کہ انتہائی اہمیت کے حامل اس پروجیکٹ پر 3سال میں 5فیصدی رقوم بھی خرچ نہیں کئے گئے ہیں۔ این سی ترجمان نے کہاکہ یہ رقومات واگزار ہونے کے وقت ہی خرچ کرنے کیلئے جون 2020کی ڈیڈ لائن رکھی گئی تھی اور یہ جانتے ہوئے بھی محبوبہ مفتی کی سابق حکومت نے اس پروجیکٹ کی طرف کوئی توجہ مرکوز نہیں کی اور آج نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ رقومات خرچ کرنے کیلئے اب صرف 13ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اس پروجیکٹ کا مقصد ریاست کو سیلاب سے بچانا تھا لیکن سابق حکومت کی طرف سے یہ پروجیکٹ نظرانداز کرنے سے آج بھی یہاں سیلاب کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔