’جہاں کہیں بھی ہو واپس آجائو‘

 سرینگر// خانیار علاقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان فہد مشتاق وازہ کی بندوق ہاتھوں میں تھامے سماجی میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویرکے ایک دن بعد اس کی والدہ نے اپنے بچے کو واپس گھر آنے کی اپیل کی۔ تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی کے فرزند جنید اشرف کے جنگجوئوں کے صفوں میں شامل ہونے کے بعد سرینگر سے تعلق رکھنے والا یہ ایک اور نوجوان ہے۔بدھ کو فہد مشتاق کے اہل خانہ نے اچانک نمودار ہو کر میڈیا کے سامنے اپنے بچے کی گھر واپسی کی اپیل کی۔فہد کی والدہ میمونہ نے ہاتھ جوڑ کر جذباتی انداز میں نامہ نگاروں کو بتا یا کہ اسکا بیٹا کھبی بھی اس سے جھوٹ نہیں بولتا تھا،اور آج زندگی میں پہلی بار اس نے جھوٹ بولا۔ انہوں نے کہا’’میںبلڈ پریشر کی مریضہ ہوں،اور دن میں کئی بار میرا بیٹا(فہد) ہی مجھے بلڈ پریشر کی جانچ کیلئے لئے جاتا تھا،اسکی نانی کی حالت بھی غیر ہوگئی ہے ،اور والد سکتے میں ہے‘‘۔میمونہ نے کہا کہ ہمیں اس بات کی کوئی بھی امید نہیں تھی کہ فہد اس طرح کا قدم اٹھائے گا۔انہوں نے کہا’’ کیا تم نے مجھ سے اجازت حاصل کی، مجھ پر اور اپنے ابو پر ترس کھاؤ اور واپس آجاؤ‘۔میمونہ کے مطابق اس کے بیٹے کا موبائل فون بند آرہا ہے۔انہوں نے مزید کہا’’2014میں آئے تباہ کن سیلاب کے دوران ہمارا مکان بچ گیا تھا،مگر اب کا سیلاب میرا سب کچھ بہا کر لیجائے گا،میرے بچے کہا ہو،واپس آئو‘‘۔میمونہ نے عسکری قیادت اور نوجوانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس کے بچے کو واپس بھیج دیں۔انہوں نے کہا’’ وہ(جنگجو) میرے بھائی اور اولاد ہیں،اللہ انکو بھی سلامت رکھے،میں ان سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ میرے بچے کو واپس گھر بھیج دیں۔پیشہ سے آشپازہ فہد اپنے والد اور چاچا کے ساتھ کام کرتا تھا،جبکہ انکے چاچاکے مطابق دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد فہد نے پڑھائی ادھوری چھوڑ دی تھی،اور وہ خاندانی پیشہ(آشپازہ) میں لگ گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ23مارچ جمعہ کو گھر سے جماعت(تبلیغی جماعت) میں شامل ہونے کیلئے نکلا،تاہم اتوار شام کو بھی جب وہ گھر نہیں پہنچا،تو اہل خانہ کو تشویش ہوئی۔انہوں نے کہا کہ اس دوران فہد کی تلاش شروع کی گئی،اور کئی تبلیغی جماعتوں کے ذمہ داروں سے بھی رابطہ قائم کیا گیا،تاہم انہوں نے فہد کے بارے میں بتایا کہ وہ انکے ہمراہ نہیں تھا۔ فہد کے چاچا نے کہا کہ بعد میں انہوں نے پیر کو خانیار پولیس تھانے میں گمشدگی کے حوالے سے رپورٹ درج کرائی،اور منگل کو وہ اس وقت سکتے میں رہ گئے جب انہوں نے سماجی میڈیا کی مختلف رابطہ گاہوں پر اس کی بندوق تھامے تصویر دیکھی۔عقل میر خانیار سے تعلق رکھنے والے18برس کے فہد مشتاق کے مزید2بھائی بھی ہیں،جو آٹو چلا کر اپنا روزگار کماتے ہیں۔