سرینگر // محکمہ سیاحت جموں وکشمیر نے سیاحوں کو کشمیر راغب کرنے کیلئے رواں سال بڑے پیمانے پر ملک کی مختلف ریاستوں میں مہم شروع کی اور اس سلسلے میں کئی ایک سمینار بھی کئے ۔ ان کوششوں کی بدولت اگرچہ جموں وکشمیر میں سرما کے دوران سیاحوں کا بھاری رش دیکھا گیا اور گرمیوں میں سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے قبل از وقت ہی ہوٹل ، ہاوس بوٹ اور دیگر قیام گاہیں بک کی تھیں۔ٹرول ایسوسی ایشن نے کہا تھا کہ انکے پاس جون تک بکنگ کرائی جاچکی ہے اور امسال گرمیوں میں سیاحوں کا بھاری رش دیکھنے کا قوی امکان ہے۔ لیکن کورونا کی دوسری شہر کی شدت نے ایک بار پھر سیاحت کو شعبہ کو گہری چوٹ پہنچائی ہے۔ ملک میں کورونا کی دوسری لہر نے ایک بار پھر سیاحوں کو کشمیر آنے سے روک دیا ہے اور کئی ایک بکنگ منسوخ کر دی گئی ہیں ۔ جو سیاح وادی کے سیر کو آئے تھے، وہ بھی کورونا کی وجہ سے واپس گھروں کو لوٹ رہے ہیں ۔سرما کے جنوری اور فروری مہینوں میں60ہزار سیلانی وادی کی سپر پرآئے تھے ۔موسم سرما کے آغاز یعنی دسمبرسے ہی وادی میں سیاحوں کی غیر معمولی آمد شروع ہوئی ۔ دسمبر2020 میں89غیر ملکیوں سمیت13ہزار 237 سیاح وادی کی سیر و تفریح کیلئے آئے۔ جنوری2021 میں19ہزار102سیاح وادی پہنچے، جن میں60غیر ملکی بھی شامل تھے،جبکہ فروری2021 میں ان میں مزید اضافہ ہوا اور26ہزار218سیلانیوں نے وادی کی سیر کی،جن میں154 غیر ملکی سیاح بھی شامل تھے۔ مجموعی طورپر دسمبر ، جنوری اور فروری میں58ہزار647سیاح وادی کی سیر کیلئے آئے جو گزشتہ برس کے ان ہی 3مہینوںکے مقابلے میں4گنا زیادہ ہے۔دسمبر 2019،جنوری 2020اور فروری 2020میں سیاحوں کی مجموعی تعداد19ہزار999رہی جبکہ 2020کے پورے سال وادی آنے والے سیاحوں کی مجموعی تعداد41ہزار267رہی،جن میں3ہزار897غیر ملکی سیاح بھی تھے اس سال محکمہ سیاحت نے کئی ایک فلم انڈسٹری کی اہم شخصیات کو بھی مدوعو کیا جبکہ باغ گلہ لالہ اور بادام واری باغ میں میلے کا بھی انعقاد کیا گیا۔ سیاحتی فیسٹیولوں کا انعقاد کا مقصد وادی کت سیاحتی شعبے کو ایک بار پھر زندہ کرنا تھا لیکن کورونا کی دوسری لہر نے پھر سے اس شعبہ سے وابستہ لوگوں کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔کشمیر وادی میں اگرچہ سیاحوں کیلئے کوئی ایڈوائزی جاری نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی انہیں یہاں سے واپس جانے کیلئے کہا گیا ہے لیکن ملک میں کورونا کی صورتحال انہیں واپس گھروں میں جانے پر مجبور کررہی ہے۔جھیل ڈل جو پچھلے دو ماہ سے بھر اہواتھا، آج خالی خالی لگ رہا ہے ۔شکاراایسوسی ایشن کے صدر ولی محمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پچھلے دو ماہ کے دوران اچھا کام رہااور شکارے والے، جو پچھلے دو برسوں سے سیاحوں کا انتظار کر رہے تھے ،خوش تھے لیکن پھر کسی کی نظر لگ گئی ۔انہوں نے کہا کہ اب جو سیاح یہاں آئے تھے، واپس جا رہے ہیں ،اکا دوکا شکارے والے ہی اب دن میں کام کرتے ہیں۔ہاوس بوٹ ایسوسی ایشن کے صدر عبدالرشید نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سرما کے دوران جب یہاں ریکارڈ توڑ سیاحوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا، تو ان میں ایک نئی اُمید جاگ گئی تھی ،لیکن اب وہی کچھ ایک نزدیکی ریاستوں کے سیاح یہاں آرہے ہیں جنہوں نے جہاز کے ٹکٹ کرائے تھے اور باقی 50فیصد بکنگ منسوخ ہو گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سال قریب 70 فیصداڈوانس بکنگ تھی لیکن وہ بھی منسوخ ہو رہی ہے ۔ایک ٹرول ایجنٹ تنویر احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 5اگست 2019کے بعد پہلی بار اس نے سیاحوں کے 8گروپوں کی بکنگ کی تھی لیکن اپریل میں صرف ایک ہی گروپ یہاں آیا ،مئی اور جون کیلئے جو بکنگ کی گئیں تھیں وہ منسوخ کرنی پڑی ہیں ۔ پہلگام ، گلمرگ اور دیگر سیاحتی مقامات پر موجود ہوٹلوں کے کمرے خالی ہونا شروع ہو چکے ہیں ۔محکمہ سیاحت کے کمشنر سکریٹری سرمد حفیظ نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس سال کافی محنت کی تھی کہ سیاحوں کو کشمیر کی طرف راغب کیا جا سکے اور اس سلسلے میں پورے ملک میں پروگراموں کا انعقاد بھی کیا گیا تھااور اس کا اثر بھی کافی ہوا ۔سرمد حفیظ نے کہا کہ دہلی اور ملک کی دوسری ریاستوں میں کورونا کی وجہ سے پابندیاں لگی ہیں اور وہاں سے لو گ یہاں نہیں آسکتے ہیں تاہم انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ کورونا کی یہ لہر بھی نہیں رہے گی اور جیسے ہی اس کی صورتحال میں بہتری آتی ہے تو یقین ہے کہ پھر سے لوگ یہاں آنا شروع ہو جائیں گے ۔