جموں//بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے جموں و کشمیر کے صدر رویندررینہ نے کہا کہ جوسیاسی جماعتیں جموں و کشمیر کے انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہتی، انہیں الیکشن میں شرکت نہیں کرنی چاہئے۔جموں وکشمیر میں سیاسی سرگرمیوں کی بحالی کے تعلق سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں رینہ نے کہا’’جولوگ جموں و کشمیر میں الیکشن نہیں لڑنا چاہتے انہیں انتخابات نہیں لڑنا چاہئے ‘‘۔انہوںنے مزید کہا کہ ہمیں جموں و کشمیر میں گذشتہ 70 سال سے کانگریس ، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے ذریعہ کی جانے والی آئینی غلطیوں کو دور کرنا ہے اور لیفٹیننٹ گورنر جی سی مرمو کی سربراہی میں انتظامیہ ٹھیک طرح سے کام کر رہی ہے اور لوگوں کو کوئی مسئلہ نہیں۔رینہ کے ساتھ بی جے پی کے قومی نائب صدر اویناش رائے کھنہ اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔پانچ اگست کو منانے کیلئے بی جے پی کے جموں و کشمیر یو ٹی کے صدر کٹھوعہ کے مکھرجی چوک گئے جہاں انہوں نے شاما پرشاد مکھرجی کی یاد میں 110 فٹ لمبا قومی پرچم لہرایا۔گزشتہ سال کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے رینہ نے کہا’’مودی سرکار نے علیحدگی پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے،اس دن ہم ان کشمیری رہنمائوں کو یاد کرتے ہیں جو کہا کرتے تھے کہ اگر آرٹیکل 370 کو منسوخ کردیا گیا تو کوئی بھی قومی پرچم نہیں اٹھائے گا، جب دہلی نے ہم سے پوچھا تو ہم نے انہیں فوراً اسے منسوخ کرنے کو کہا، ایک بار جب اسے منسوخ کردیا گیا تو آپ قومی پرچم کو ہر طرف دیکھ سکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست کے فیصلے نے 70 سال کی پریشانیوں کا خاتمہ کیا،جب وزیر اعظم نریندر مودی کشمیر آئے اور 80000 کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان کیا تو اس وقت کے وزیر اعلیٰ (مرحوم مفتی محمد سعید) نے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے ان سے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے کہا ،وزیر اعظم مودی نے مسئلہ کشمیر کو اسی طرح حل کیا۔رینہ نے کہا’’تمام قوم پرستوں نے اس فیصلے کو پورے ملک میں منایا ، سوائے ا ن کشمیری رہنمائوں کے ، جن کے دلوں میں پاکستان تھا ،یہاں تک کہ وہ اپنی سیکورٹی سمیت ہندوستان سے سب کچھ چاہتے ہیں‘‘۔رینہ کا مزید کہناتھا’’اتر پردیش کے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے ہم وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے شکر گزار ہیں‘‘۔اس دوران مقامی صحافیوں نے رینہ کو ٹول پلازوں پر سوال کیاتوانہوں نے کہا’’آرٹیکل 370 کی طرح ٹول پلازے بھی جائیں گے‘‘۔وہ اس جواب کے ساتھ ہی وہاں سے چلے گئے۔دریں اثنا جموں صوبہ پرامن رہا اور بی جے پی قائدین نے تمام اضلاع میں اپنے مکانوں پر قومی پرچم لہرائے۔ کشتواڑ میں حزب اختلاف کے دو رہنمائوں کونظر بند کرنے کی اطلاعات ہیں تاہم ایس ایس پی کشتواڑ ہرمیت سنگھ نے کسی بھی سیاسی رہنما کو حراست میں لینے سے انکار کیا ہے۔