مسلم نوجوان ملت اسلامیہ کا ایک فرد اور چودہ صدی قبل اٹھنے والی اس انقلابی تحریک کا کارکن ہے جس نے برائی اور اچھائی کو واضح کیا ۔جس نے اونچ نیچ، چھو اچھوٹ کا امتیازی طلسم توڑا ۔انسانی عداوتوں کو ختم کرکے نفرت کو ختم کیا، محبت والفت کے پھول لگائے ،نسل اور وطن کا فرق مٹاڈالا، رنگ وزبان کے بت ختم کرکے انسان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لایا، رہزنوں کو ہادی آفاق اور جاہلوں کو معلم اخلاق بنایا۔اُن قوموں کے دل اتنے نرم کئے۔اتنا شیر وشکر بنایا جن کے ہاں معمولی بات پر جنگ شروع ہوتی تھی اور سالہا سال تک یہ جنگ جاری رہتی تھی۔ایسے لوگوں کے دل نرم کئے، جو اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے تھےاور اسی کے نتیجے میں ایک عظیم الشان اسلامی ملت وجود میں آئی۔جو کالے گورے امیر و غریب، طاقتورو کمزور، عرب وعجم کے بے شمار افراد پر مشتمل ایک ہی عقیدہ کی علمبردار تھی اور اسی طرح یہ ظلمت کا دور ختم ہوا اور عدل کا پرچم لہرایا اورپھر انسانیت کے صدیوں سے مرجھائے ہوے گلشن میں یہ قافلۂ نوبہار ٹھہرا ۔
اسلام کے سینکڑوں واقعات ایسے ہیں کہ جنہوں نے اپنےاسلامی کردار و اعمال، اچھے اور نیک اخلاق و عادات،بزرگوں کے ادب واحترام، ضعیفوں کی امداد وا کرام سے یارانِ بزم کے لیے’’ریشم ‘‘کی طرح نرم اور باطل کے لیے ’’فولاد‘‘ بن کر ایک مثالی معاشرہ قائم کیا۔
مگرافسوس! آج کا مسلم نوجوان لا پرواہی کا شکار ہو گیا ہے، وہ اپنا مقصد ِحیات، اپنی سوچ ،اپنا نظریہ سب کچھ بدل چکاہے ۔ آج کل کا نوجوان بڑوں کی عزت ،ماں باپ کی فرمان برداریاور چھوٹوں سے شفقت ، سب کچھ بھول گیا ہے ۔محبت و اخوت سے وہ کوسوں دور دکھائی دے رہا ہے۔حالانکہ یہ نوجوان اُس قوم کا بیٹا ہے جو ہمیں اپنے ہم عمروں کے ساتھ محبت والفت اور جذبہ حق و ایثار کا درس دیتی ہے۔
تاریخ اسلام میں مسلمانوں کے جذبہ ایثار اور دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دینے کی ایسی مثالیں پائی جاتی ہے، جن کی نظیر کسی بھی قوم و مذہب کی تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔
ایک واقعہ پیش ِ خدمت ہے۔ حضرت ابو جہم بن حذیفہ عدوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگِ یرموک میں،میںاپنے ساتھ کچھ پانی ساتھ لے کر اپنے چچازاد بھائی کو تلاش کرنے کے لیے شہداکی لاشوں میں گیا کہ اگر زندہ ہوگا تو پانی پلائوں گا۔ جب اُس کے پاس پہنچا توزندگی کی کچھ رمق باقی تھی۔ میں نے کہا: ’’کیا آپ کو پانی پلائوں‘‘تو اشارہ سے جواب دیا: ہاں! مگر فوراً ہی قریب سے دوسرے شدید زخمی فرد کی آواز آئی تو میرے بھائی نے کہا: یہ پانی اُن کو دے دو۔جب اُن کے پاس پہنچا تو وہ دم توڑچکے تھے۔یہاں سے اپنے بھائی کے پاس پہنچا تو وہ بھی شہید ہو چکے تھے۔ لہو لہان جسم اور تشنہ لب ہونے کے باوجود بھی اُن میں ایک دوسرے کی فکر، محبت ،الفت، اُخوت اور ہمدردی ہمیں صرف اسلام ہی سکھاتا ہے اور کوئی مذہب نہیں اور کوئی نظریہ نہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ نئی نسل کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کی تعلیمات واخلاقیات سے آراستہ ہوکر معاشرے میں خود اس کا عملی نمونہ پیش کریں ۔
ہم نازشِ ملک وملت ہیں ہم سے ہے درخشاں صبح وطن
ہم تابشِ دیں،ہم نورِ یقیں،ہم حسنِ عمل،ہم خلقِ حسن
(مضمون نگار وادی کشمیر کے کم سن کالم نویس ہیں اور دو کتابوں کے مصنف بھی ہیں)