جنگجوؤں کے 7اعانت کار گرفتار| شاہراہ پر فدائین حملے کا منصوبہ ناکام: پولیس

سرینگر// پولیس نے کہا ہے کہ انہوں نے سرینگر جموں شاہراہ پر لیتہ پورہ فدائین حملے جیسا ایک اور منصوبہ بھر وقت ناکام بنایا اور ایک بہت بڑے حادثے کو ٹال دیا۔اس سلسلے میں جنگجوئوں کیلئے کام کررہے7 بالائی زمین کارکنوں کو گرفتار کر کے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد ، ڈیٹونیٹرز ، دستی بم برآمد ہوئے اور ایک ماروتی کار بھی قبضے میں لے لی،جو فدائین کارروائی کیلئے ممکنہ طور پر استعمال کی جانے والے تھی۔

اونتی پورہ اور پانپور

 انسپکٹر جنرل پولیس کشمیر وجے کمار نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اونتی پورہ پولیس کو اطلاع ملی کہ جیش محمدکے جنگجوپانپورکھریو کے علاقے میں تیار ہونے والی آئی ای ڈی کے ذریعہ حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس اطلاع پر پولیس نے 50 آر آر اور سی آر پی ایف کے ساتھ پانپور علاقے میں تلاشی لی۔تلاشی کے دوران ایک شخص کو حراست میں لیا گیا جس کی شناخت ساحل نذیر ولد نذیر احمد میر ساکن درنگہ بل پانپور کے نام سے ہوئی۔انہوں نے کہا کہ دوران تفتیش ، ساحل نذیر نے انکشاف کیا کہ وہ مختلف مواصلاتی چینلز کے ذریعہ  پاکستانی کشمیر میں مقیم ایک جنگجو کمانڈر خالد بن ولید سے رابطے میں تھا۔ کمانڈر خالد بن ولید نے دہشت گردی کی ایک حیرت انگیز کارروائی کرنے کا ارادہ کیاتھا اور پھر یہ دعوی ایک نئی تنظیم مجاہدین گزوت الہند کی جانب سے کیا جانے والا تھا۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ کمانڈر خالد بن ولید نے اسے پانپور کے علاقے میںفدائین حملہ کرنے کی ترغیب دی جس کے لئے اس نے خود کو رضاکارانہ طور پر اس علاقے میں حملہ کرنے کے لئے تیار کیا۔مزید پوچھ گچھ کے دوران ، یہ بات سامنے آئی کہ کمانڈر خالد بن ولید نے کوئی پرانی گاڑی خریدنے کیلئے ساحل نذیر کو 70,000روپے فراہم کئے، تاکہ اسے خود کش حملہ میں استعمال کیا جاسکے۔کیس کی تفتیش میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ساحل نذیر نے اپنے دوسرے بالائی رکن ساتھیوں قیصر احمد بٹ ولد فاروق احمدبٹ ساکن درنگبل پانپور کو سیکنڈ ہینڈ گاڑی خریدنے کا کام سونپا تھا۔ اسی کے مطابق ماروتی 800 نامی گاڑی زیر رجسٹریشن نمبرJK01E-0690 کوسرینگر سے خریدا گیا۔ مذکورہ گاڑی کو قیصر کے رشتے دار کے گھر ووین کھریو میں ایک محفوظ جگہ پر چھپایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس گروہ میں شامل یاسر علی وانی ولد علی محمد وانی ساکن پانپور ، قیصر احمد بٹ ولد فاروق احمدبٹ ساکن درنگہ بل اور محمد مومیس عرف فیاض بروج ملک ولد فیاض احمد ساکن درنگہ بل کو بھی گرفتار کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ 25 جنوری 2021 کو ساحل نذیر ،قیصر احمد بٹ کے ہمراہ سکوٹی پر سوار ہو کر سی آر پی ایف کیمپ (گرڈ اسٹیشن پانپور) پہنچے اور سی آر پی ایف کیمپ پر دستی بم پھینکا۔ تاہم دستی بم پھٹا نہیں کیونکہ دستی بم کا پن مناسب طریقے سے نہیں ہٹایا گیا تھا۔ مذکورہ دستی بم بعد میں مذکورہ کیمپ کے احاطے سے برآمدکیا گیا۔تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ساحل نذیر کو مستقبل قریب میں دیگر دھماکہ خیز مواد ملنا تھا۔انکی تحویل سے 08 الیکٹرانک ڈیٹونیٹرز اور ایک چینی ہینڈ گرنیڈ برآمد ہوا۔ اس کے علاوہ ماروتی 800 کار بھی قبضے میں لے لی گئی ہے۔اس سلسلے میں تھانہ پانپور میں قانون کے متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ ایف آئی آر نمبر 27/2021 درج ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔اسی طرح ، اونتی پورہ پولیس نے سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کر لشکر کے ایک گروہ کو گرفتار کیا۔ یہ اطلاع ملنے پر کہ جنگجو پانپور علاقے میں دھماکہ خیز مادہ  استعمال کر کے ایک بہت بڑے حملے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں، پولیس الرٹ ہوئی۔اس اطلاع پر عمل کرتے ہوئے ، اونتی پورہ پولیس نے 50 آر آر اور سی آر پی ایف کے ساتھ مل کر پانپور علاقے میں آپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران لشکر طیبہ کے ایک او جی ڈبلیو / ساتھی ،  مصعب عزیز گوجری ولد عبد العزیز گوجری ساکن نمبلہ بل پانپور کو گرفتار کرلیا ۔پوچھ گچھ کے دوران ، مصائب نے اعتراف کیا کہ وہ پانپور کے کمانڈر عمر کھنڈے سے مستقل رابطے میں ہے اور اس نے قریب 25 کلوگرام دھماکہ خیز مواد (ایلومینیم پاؤڈر) کا ایک کنٹینر حوالے کیا ہے۔ اسی کے مطابق ، تقریبا 25 کلوگرام دھماکہ خیز مادہ پر مشتمل مذکورہ کنٹینر برآمد کیا گیا۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ دھماکہ خیز مواد IED تیار کرنے کے لئے اپنے پاس رکھا ہوا ہے اور آئی ای ڈی کے دیگر حصوں کو مستقبل قریب میں اس تک پہنچنا تھا۔مزید تفتیش کے دوران ، اسی گروہ کے مزید2 ساتھیوں  منیب مشتاق شیخ عرف ضرار ولد مشتاق احمد ساکن درنگبل پانپور اور شاہد احمد صوفی ولد غلام محمد صوفی ساکن نمبلہ بل پانپور کو دھماکہ خیز مواد سمیت گرفتار کیا گیا ۔پولیس ریکارڈ کے مطابق ، گرفتاراعانت کار غیر قانونی تنظیم کے ملی ٹینٹوں کو پناہ دینے ، رسد مہیا کرنے اور دہشت گردوں کے اسلحہ / گولہ بارود کی نقل و حمل میں ملوث ہیں۔متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ ایف آئی آر نمبر 28/2021 پولیس اسٹیشن پانپورر میں درج ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔

البدر چیف کمانڈر

 انسپکٹر جنرل پولیس نے کہا ہے کہ البدر سربراہ غنی خواجہ کی ہلاکت سے شمالی کشمیر میں عسکریت پسندی کو ایک بڑا جھٹکا لگا ہے کیونکہ مذکورہ عسکری کمانڈر نوجوانوں کی بھرتی ،عسکریت اور سرحد پار سے آئے جنگجوئوں گروپوں کو لینے میںمیں اہم کردار ادا کرتا تھا۔آئی جی پی نے بتایا کہ خواجہ کے دو جنگجو ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔انہوں نے کہا وہ سینئر  جنگجو تھا اور سال 2000 میں وہ پاکستان گیا۔ وہاں سے 2002 میں واپس آیا اور پانچ سال تک سرگرم رہا تھا، اسے 2007 میں گرفتار کیا گیا اور اس پر پی ایس اے کے تحت مقدمہ درج تھا، 2008 میں اسے رہا کیا گیا۔ دسمبر 2015 تک ، وہ بالائے زمین کارکن کی حیثیت سے کام کر رہا تھا،اور جنوری 2018 میں ، وہ حزب کے ساتھ متحرک ہوگیا۔ 2020 میں ، وہ البدر میں اس کے چیف کے بطور شامل ہوا۔ وجے کمار نے بتایا کہ سرینگر کے علاقے چھانہ پورہ میں پولیس کو لشکر طیبہ (ٹی آر ایف) کے سربراہ عباس کی موجودگی کے بارے میں اطلاع ملی ہے جس کے بعد ایک انتباہ جاری کی گئی۔انہوں نے کہا ’’ہمیں سری نگر کے علاقے  چھانہ پورہ میں لشکر (ٹی آر ایف) کے سربراہ عباس کی موجودگی کے بارے میں اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ تلاشیاں تیز کردی گئی ہیں اور انٹیلی جنس کے تمام ذرائع متحرک حالت میں ہیں۔
 

شوپیان میں 2دیہات کا محاصرہ

شوپیان/شاہد ٹاک/جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں محاصروں کا سلسلہ جاری ہے ۔سیکورٹی فورسز نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران شوپیان ضلع کے 12سے زائد دیہات کا محاصرہ کیا گیا۔بدھ کو 62آر آر اور 14بٹالین سی آر پی ایف کے علاوہ پولیس نے واٹھو نامی گائوں کو محاسرے میں لیا اور صبح 9بجے سے تلاشی کارروائی شروع کی جو دن کے 12بجے تک جاری رہی لیکن کوئی نا خوشگوار واقع رونما نہیں ہوا۔ادھر چک صادق خان امام صاحب نامی گائوں کا 34آر آر اور 178بٹالین سی آر پی ایف کے علاوہ پولیس نے محاصرہ کیا اوت تلاشی کارروائی کی۔ گھر گھر تلاشی کے دوران کوئی نا قابل اعتراض چیز بر آمد نہ ہوسکی۔کئی گھنٹوں بعد محاصرہ ختم کیا گیا۔
 
 

پائین شہر میں 39نوجوان گرفتار

۔15پر سیفٹی ایکٹ کا اطلاق ہوگا

سرینگر/بلال فرقانی/پولیس نے کہاہے کہ پائین شہر میں پر تشدد کارروائیوں میں ملوث 39نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے15پر سیفٹی ایکٹ کا اطلاق کیا جائیگا۔ انسپکٹر جنرل پولیس وجے کمار نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پتھراؤ کو کسی بھی قیمت پربرداشت نہیں کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ سرینگر  کے نوہٹہ علاقے میں امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنے میں ملوث 39 نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے 15  پر پی ایس اے عائد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ میں یہ واضح کردوں کہ ہم کسی بھی قیمت پر پتھراؤ نہیں کرنے دیں گے۔ لاوے پورہ سرینگر جھڑپ ، جس میں مبینہ طور پر3جنگجوں جاں بحق ہوئے تھے، سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں آئی جی  نے کہا ’’پولیس کے پاس ثبوت موجود ہیں ، تکنیکی اور انسانی وسائل بھی ہیں اور انہیں جلد ہی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔