جنگجوئوں کی ہلاکتیں حل نہیں

   کورپشن اور اقربا پروری کیلئے بیوروکریٹ و سیاسی لیڈر ذمہ دار

 
جموں//گورنر ستیہ پال ملک نے کہا ہے کہ جنگجوئوں کی ہلاکت بھی انہیں رنجیدہ کر دیتی ہے کیوں کہ ملی ٹینٹوں کو ہلاک کرنا مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔ حالیہ تصادموں کے دوران ہوئی ہلاکتوں کے بارے میں پوچھے جانے پر گورنر نے کہا کہ ’پولیس اپنا کردار بخوبی نبھا رہی ہے ، لیکن یقین جانیں کہ کشمیر میں ہونے والی ہر ہلاکت سے مجھے دکھ پہنچتا ہے، میں چاہتا ہوں کہ نوجوان تشدد کا راستہ ترک کر کے اپنے کنبہ کے ساتھ جاملیں‘۔گورنر نے مزید بتایا کہ ان کی انتظامیہ عسکریت پسندوں کی باز آبادکاری کے لئے نیا پلان مرتب کر رہی ہے۔
ملک نے کہا کہ جنگجوئوں کو ہلاک کرنے سے ’اصل مسئلہ‘ حل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا ’میرا ماننا ہے کہ ملی ٹینسی بندوقوں نہیں بلکہ ذہنوں میں ہے ، ہم ان کے اذہان کو متاثر کر کے ملی ٹینسی کو مٹانے کے متمنی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے فورسز کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ صبح3بجے جب ہم سوتے ہیں تو وہ برفباری میں آپریشن چلاتے ہیں۔پہلے دن سے ہی میں فورسز کیلئے کام کر رہا ہوں اور آگے بھی کرتا رہوں گا‘۔اس سے قبل 9وین ست پال ساہنی میموریل لیکچر کو خطاب کرتے ہوئے گورنر نے کورپشن، اقربا پروری کیلئے بیوروکریٹوں اور سیاسی لیڈروں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ’جتنی عقل مجھے کشمیر آکے آئی ہے شاید اتنی پچھلے 50برسوں تک نہیں آئی۔ میں یہاں کی بیورو کریسی سے سیکھ رہاہوں کہ ایک فائل کو ایک ٹیبل سے دوسرے ٹیبل تک لے جانے کے لئے 4مہینے کیسے لگتے ہیں۔ یہاں کے نیتائوں سے سیکھ رہا ہوں کہ وہی کام جو انہوں نے اپنی سرکار میں کئے کوئی اور کرے تو خراب کیسے ہوتے ہیں ‘۔ انہوں نے کہا ’میں نے کئی بارسوخ افراد کو دیکھا جو راج بھون کو نجی مفادات کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں لیکن میں نے انہیں ایسا نہیں کرنے دیا،اس کے برعکس میں نے کروڑوں روپے کے کنٹریکٹ منسوخ کر دیئے جس کے لئے عوام نے میری ستائش کی ہے ۔ ستیہ پال ملک نے کہا کہ اگر وہ اگلے چار پانچ برس تک جموں کشمیر میں رہے تو وہ ریاست میں اپنے تجربات کے بارے میں ایک کتاب لکھیں گے۔