جنرل والٹرز نے نیٹو کے نئے سپریم کمانڈر کی ذمہ داریاں سنبھال لیں

برسلز //  نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹالڑن برگ نے نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن یا نیٹو کے سپریم کمانڈر کی کمان جنرل ٹوڈ والٹرز کے ذمہ سونپ دی۔ تفصیلات کے مطابق امریکی فوج کے جنرل ٹَوڈ والٹرز نے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے نئے سپریم کمانڈر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں، انہوں نے جنرل کرٹِس اسکاپارَوٹی کی جگہ یہ منصب سنبھالا ہے، جو ریٹائر ہو گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے کے مطابق کمان کی تبدیلی کی تقریب بیلجیم کے شہر مَونس میں ہوئی، اس تقریب میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی انتہائی اہم فوج کی کمان بلاشبہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ نیٹو کی کثیر القومی فوج میں اڑسٹھ ہزار فوجی شامل ہیں۔ نیٹو کے سپریم الائیڈ کمانڈر کی یہ تبدیلی ایسے وقت پر ہوئی ہے جب امریکا اور روس کے درمیان جوہری تخفیفِ اسلحہ کا معاہدہ آئندہ مہینوں میں ختم ہونے والا ہے۔ خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ جنرل ٹوڈ والٹرز کا تعلق امریکی ایئرفورس ہے اور یہ مغربی اتحادی افواج کے 19 ویں سپریم کمانڈر منتخب ہوئے ہیں۔ خیال رہے کہ مغربی اتحادی افواج کا قیام سنہ 1949 میں ہوا تھا اس وقت نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن یا نیٹو کے بارہ ارکان تھے بعدازاں ان کی تعداد 26 ہوگئی تھی اور اب اس کے رکن ممالک کی تعداد 29 ہو چکی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ 2004 ء میں سابق سوویت یونین کا حصہ رہنے والے ممالک ایسٹونیا، لیٹویا اور لیتھوینیا کو بھی نیٹو کی رکنیت دے دی گئی جبکہ ان کے ساتھ ہی سلووینیا، سلوواکیا، بلغاریہ اور رومانیہ بھی نیٹو کے رکن بن چکے ہیں۔