سرینگر// جموں کشمیر بینک نے رواں مالی سال کے مسلسل تیسرے سہ ماہی میں اپنے منافع کو جاری رکھا ۔ اس سلسلے میں بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرس کی میٹنگ کارپوریٹ ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوئی۔ بینک کی کارکرگی کا جایزہ لیتے ہوئے بنک نے دسمبر2020 میں خالی سود آمدنی میں 32.84فیصد کے ساتھ 65.94کروڑ روپے درج کئے جو کہ گزشتہ اسی مدت کے دوران 49.64 کروڑ روپے تھے۔ بینک کی مجمو عی سود آمدن میں 15%اضافہ درج کیا گیا ہے جوکہ 1005.13کروڑ روپے ہے جبکہ یہ آداد و شمار گزشتہ برس 874.65کروڑ روپے تھے۔ بینک نے رواں مالی سال کے نو ماہ میں 116.37کرور روپے مجموعی منافع کمایا ہے ۔ اس طرح سے بینک کا آپریٹنگ منافع 68 فیصد اضافے کے ساتھ 563.47 کروڑ روپے دکھایا گیا جبکہ منافع دسمبر 2019 میں 335.56کروڑ روپے تھا۔ دیگر ذرائع سے بینک کو دوگنا سے زیادہ آمدنی 271.65کروڑ باالمقابل 128.66کروڑ حاصل ہوئی ۔رواں مالی برس کے تیسرے سہ ماہی کے دوران بینک کے نیٹ انٹرسٹ مارجن (NIM)میں اضافہ ہو ا ہے جوکہ گزشتہ مالی سال کی مجموعی آمدنی 3.68فیصد سے بڑھ کر 3.88فیصد درج کیا گیا ۔ مسلسل تین کوارٹروں کے منافع کے بارے میں مزید جانکاری فراہم کرتے ہوئے میٹنگ میں بتایا گیا کہ بینک کی اس مجمو عی ترقی کے پیچھے ہماری محنت، لگن اور تمام مشکلات کے باوجود بھی کام کرنے کی لگن موجود ہے ۔ بنک کے چیرمین اور مینیجنگ ڈائرکٹر راجیش کمار چبھر نے میٹنگ میں بتایا کہ ہم نے ایک مضبوط اور بہتر بنیاد ڈال کر نہ صرف ریاست کی معیشت میں اہم رول ادا کیا بلکہ ملک کے عوام کو بھی مالی طور مضبوط بنانے میں معاون کردار ادا کیا ۔انہوںنے کہا کہ ایک مضبوط سوچ اور عمل کی وجہ سے بینک نے کووڈ 19کی بیماری کے بیچ بچائو میں اپنے اثاثوں کی مناسب دیکھ بھال کی۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ سہ ماہی کے دوران غیر منافع بخش قرضوں کی ترسیل میںگزشتہ برس کے 73.30فیصد کے باالمقابل 83.67فیصد بینکنگ انڈسٹری میں سب سے عمدہ ہے ۔ اس دوران بینک کا NPAشرح 4.36فیصد سے گھٹ کر2.50فیصد درج کیا گیا اور مجموعی این پی اے 8.71فیصدرہا جو کہ 31دسمبر 2019کو 11.10فیصد تھا۔ بینک کے معیار اثاثہ کے بارے میں سی ایم ڈی نے زور دے کر کہا آج ہمارے لون بک میں اثاثوں کا معیار بہت بہتر ہے انہوںنے کہا کہ قرضہ جات کی فراہمی میں ہماری بیلنس شیٹ ایک سال پہلے کی نسبت زیادہ مضبوط ہے۔ البتہ ہمیں کسی بھی چوک سے آگاہ رہ کر آگے بڑھنا ہے۔میٹنگ میں بتایا گیا ہے کہ بینک کے ایڈوانس زمرے میں 3فیصدی بڑھوتری ہوئی ہے جوکہ 64488.06کروڑ روپے سے 66545.332کروڑ روپے درج کیے گئے ہے جبکہ بینک کی ڈیپازٹ شرحوں میں بھی 11%اضافہ درج کیا گیا جو کہ 93170. 08 کروڑ روپے سے 103804.23کروڑ روپے تک پہنچے ۔ اس طرح سے یوٹی جموں کشمیر میں بینک میں ڈیپازٹ اور ایڈوانس میں دوگنے ہندسوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ اس دوران پورا ملک اقتصادی بحران سے دوچار تھا۔ اس کے باوجود بھی ہم نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ایڈوانس کے ساتھ ساتھ ڈیپازٹ میں دوگنے ہندسوں میںاضافہ دکھایا ۔قرضوں کے ترسیل میںبینک نے پوری توجہ اور لگن کے ساتھ کام کرتے ہوئے سرکاری معاونت والی سکیموں میں بھی قرضہ جات فراہم کئے اور بینک نے آتم نربھر بھارت کے تحت تقریباً 1800کروڑ روپے قرضہ جات واگزار کئے اور ہمیں امید ہے کہ اس سے آنے والے مالی سہ ماہی میں مزید بہتری آئے گی ۔ اس موقعے پر انہوںنے کہا کہ بینک کی کارکرگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے بینک خدمات کی فراہمی کو مزید آسان اور صاف و شفاف بنانا ضروری ہے ۔ موصوف نے اس موقعے پر آنے والے چلینجوں پر بھی روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اسی طرح آگے بھی اپنے کام کو صاف و شفاف طریقے اور تن دہی سے جاری رکھنا ہوگا اورجوابدہی کو مد نظر رکھتے ہوئے موجودہ دور کے بینکنگ تقاضوںکو پورا کرنا ہوگا۔