سرینگر//عوام اس وقت نہایت کسمپرسی ،بے کسی اور لاچاری سے دوچار ہیں اوراقتصادی اور معیشی بدحالی نے تمام خطوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور ان حالات میں سدھار کا دوردور تک کوئی نام ونشان نہیں ۔ان باتوں کااظہار نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے پارٹی صدردفتر پرکارکنوں اور عہدیداروں کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا۔ایک بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ کاروباری ،تجارتی،سیاحتی اور دستکاریوں سمیت تمام شعبے مکمل طورٹھپ ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اعدادوشمار کے مطابق 5 اگست2019 کے بعد سے اب تک 5لاکھ افراد کا روزگار متاثر ہواہے اور ایسے کنبے گزشتہ دوبرسوں سے کس طرح دوقت کی روٹی کاانتظام کرپاتے ہیں یہ اللہ ہی جانتا ہے ۔علی محمد ساگر نے کہا کہ دوہرے لاک ڈائون نے جموں کشمیرمیں ایسے کنبوں کو بھی نان شبینہ کا محتاج بنادیا ،جوپہلے خوشحال زندگی بسرکررہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ عوام کے تئیں حکومت کی بے رخی نے حالات کو مزیدبدتر بناڈالاہے کیوں کہ انتظامیہ کی طرف سے عوام کو کوئی راحت نہیںپہنچ رہی ہے ۔بڑے ایوانوں میں جو تعمیر وترقی اورخوشحالی کے دعوے کئے جارہے ہیں وہ زمینی سطح پرسراب ثابت ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت اورانتظامیہ اخبارات،ٹیلی ویژن اورسوشل میڈیا تک ہی محدود ہے اور ان ہی پلیٹ فارموں پر کاغذی گھوڑے دوڑائے جارہے ہیں ۔