جموں و کشمیر کو نظر انداز کرنے کا الزام

 جموں//شوسینا کارکنان نے جموں میں بی جے پی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر ملک اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا ہے ۔ شیو سینا سے وابستہ کارکنان نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے خلاف جموں میں احتجاج کرتے ہوئے مرکزی سرکار پر جموں و کشمیر کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا۔شو سینا جموں کشمیر یونٹ کے صدر منیش سہانی نے میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ 370اور 35اے کی منسوخی کے وقت بی جے پی نے دعویٰ کیا تھا کہ جموں کشمیر میں تعمیر ترقی ہوگی تاہم زمینی سطح پر ایسا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’جموں کشمیر میں صنعتیں قائم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا تاہم خود حکومت نے تسلیم کیا کہ دو برسوں کے دوران صرف دو غیر مقامی باشندوں نے یہاں غیر منقولہ جائیداد خریدی ہے، جس سے مرکزی حکومت کے دعووں کی قلعی کھل جاتی ہے۔‘‘شیو سینا کے کارکنان نے مرکزی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’دفعہ 370کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں حالات بہتر ہونے کے بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں، نوجوان بے روزگار ہیں اور سیکورٹی صورتحال میں بہترنی نہ آنے کے سبب بڑی صنعتیں یہاں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں دکھا رہی ہیں۔‘‘ صدر نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جموں و کشمیر سے متعلق کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنائیں۔