بلال فرقانی
سرینگر//سرکاری اراضی اور املاک سے متعلق موجودہ پٹے (لیز) کے نظام میں وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کی تجویز پیش کرتے ہوئے محکمہ مکانات و شہری ترقی نے جموں و کشمیر یونیفارم لیز پالیسی،2026 کا مسودہ عوامی رائے کیلئے جاری کر دیا ہے۔ مجوزہ پالیسی کے تحت موجودہ اور مستقبل کے الاٹیوں پر مالی بوجھ میں نمایاں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔محکمہ کی جانب سے جاری ڈرافٹ پالیسی میں پٹے کی پیشگی رقم، سالانہ لیز کرایہ، تجدیدی فیس، تعمیراتی مدت اور دیگر مالی و انتظامی شرائط میں بنیادی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق اس کا مقصد سرکاری اثاثوں سے بہتر مالی منافع حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ لیز نظام میں شفافیت اور قواعد کی سختی کو یقینی بنانا ہے۔یہ مجوزہ پالیسی جموں و کشمیر ڈیولپمنٹ ایکٹ 1970، جموں و کشمیر ہائوسنگ بورڈ ایکٹ 1976، جموں و کشمیر میونسپل کارپوریشن ایکٹ 2000 اور جموں و کشمیر میونسپل ایکٹ 2000 کی متعلقہ دفعات کے تحت تیار کی گئی ہے، جن کے ذریعے حکومت اور متعلقہ اداروں کو سرکاری اراضی و جائیداد کے انتظام، الاٹمنٹ، لیز اور دیگر معاملات کیلئے پالیسیاں مرتب کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
مسودہ پالیسی کے مطابق موجودہ 40 سالہ ابتدائی لیز کی مدت کو کم کرکے 33 سال کرنے کی تجویز ہے، تاہم اس میں مزید دو مرتبہ 33، 33 سال کی توسیع کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس طرح مخصوص شرائط اور نظرثانی شدہ فیس کی ادائیگی کے بعد مجموعی لیز مدت زیادہ سے زیادہ 99 سال تک ہو سکے گی۔پالیسی میں سب سے اہم تبدیلی پٹے کی پیشگی رقم(لیز پریمیم) کے تعین کے طریقہ کار میں کی گئی ہے۔ موجودہ نظام کے تحت پیشگی رقم کا تعین سرکاری سرکل ریٹ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جبکہ نئے مسودے میں اسے سرکل ریٹ کے ڈیڑھ گنا یا زمین کے حصول، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور دیگر اخراجات کی بنیاد پر مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔اسی طرح سالانہ لیز کرایہ بھی نمایاں طور پر بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔ مجوزہ پالیسی کے مطابق رہائشی، سرکاری، عوامی اور نیم سرکاری املاک کیلئے سالانہ لیز کی ابتدائی رقم کا 0.10 فیصد جبکہ تجارتی املاک کیلئے 0.50 فیصد مقرر کیا جائے گا۔ پالیسی میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ پٹے کی تجدید کے وقت سالانہ کرایہ گزشتہ مدت کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ 200 فیصد تک بڑھایا جا سکے گا۔تعمیراتی کاموں کے حوالے سے بھی قواعد سخت کیے گئے ہیں۔ موجودہ نظام میں تعمیر مکمل کرنے کیلئے نسبتاً نرم شرائط تھیں، تاہم نئے مسودے کے مطابق تاخیر کی صورت میں الاٹی کو اضافی سرچارج ادا کرنا ہوگا۔ توسیع ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ 12 ماہ کیلئے دی جا سکے گی، جبکہ مجموعی توسیعی مدت5 سال سے زیادہ نہیں ہوگی۔پٹے کی تجدید کیلئے بھی نئے مالیاتی ضوابط تجویز کیے گئے ہیں۔ پہلی 33 سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد رہائشی، سرکاری اور نیم سرکاری املاک پر سالانہ لیز کرایہ،ابتدائی رقم کا 0.25 فیصد جبکہ تجارتی املاک پر ایک فیصد ہوگا۔ دوسری 33 سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد رہائشی املاک کیلئے یہ شرح 0.50 فیصد اور تجارتی املاک کے لیے 1.5 فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے۔مجوزہ پالیسی میں زمین کی منتقلی، رہن، اراضی کے استعمال میں تبدیلی اور تعمیراتی قوانین کی پابندی سے متعلق بھی سخت شرائط شامل کی گئی ہیں۔ پیشگی منظوری کے بغیر تعمیر یا منظور شدہ مقصد کے علاوہ کسی اور استعمال کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی، حتی کہ پٹہ منسوخ کرنے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔مسودہ پالیسی میں رہائشی پٹہ داروں کیلئے مکمل حق ملکیت کا اختیار بھی تجویز کیا گیا ہے، جس کے تحت مقررہ تبدیلی فیس ادا کرکے پٹے دارزمین کومکمل حق ملکیت میں تبدیل کیا جا سکے گا۔ اس کیلئے سرکل ریٹ کا 3 فیصد ادا کرنا ہوگا اور یہ سہولت صرف ان الاٹیوں کو ملے گی جنہوں نے تمام بنیادی سہولیات اور منظور شدہ نقشے کے مطابق رہائشی تعمیر مکمل کر لی ہو۔البتہ تجارتی املاک کے معاملے میںمکمل حق ملکیت کی اجازت نہیں ہوگی اور ایسی تمام جائیدادیں صرف پٹے کی بنیاد پر ہی الاٹ کی جائیں گی۔حکومت نے مجوزہ لیز پالیسی پر عوام، متعلقہ اداروں اور دیگرمتعلقین سے تجاویز اور اعتراضات طلب کیے ہیں، جن کا جائزہ لینے کے بعد پالیسی کو حتمی شکل دی جائے گی۔