اگست 2019 کی آئینی تبدیلیوں اور سابق ریاست جموں و کشمیر کی تنظیم نو نے پولیس اور سیکورٹی فورسز کے کردار کو کافی پھیلا دیا ۔ انسداد عسکریت کارروائیوں کو تیز کرنے کے علاوہ لاک ڈاؤن پابندیوں پر سختی سے عمل درآمدیقینی بنانے اور مظاہروں کی روک تھام کے نئے چیلینجز بھی درپیش تھے۔سچائی یہ ہے کہ جموں و کشمیر پولیس اورسیکورٹی فورسزنے قابل ستائش کام کیا ہے۔ امن وامان کی صورتحال انتہائی نازک ہونے کے باوجود بے قابو ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انسدادعسکریت کارروائیوں میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی گئیں جن میں امسال حزب المجاہدین ،جیش محمد اور لشکر طیبہ کے اعلیٰ کمانڈروں سمیت ایک سو سے زیادہ عسکریت پسندوں کو مارنا شامل ہے۔
شہری سطح پر عوام تک پہنچنے کی کسی بھی کوشش کی عدم موجودگی میںمسلح وردی پوش فورسز کے بھاری جمائو نے دفعہ 370 کی منسوخی کی وجہ سے پیدا ہوئی بد اعتمادی کو مزید تیز کردیا ۔لاک ڈائون پر عمل کرنے سے روکنے اور تلاشی و محاصرہ آپریشنوںکے دوران عوام کے ساتھ متواتر آمنا سامنا ہونے سے حکومت کے خلاف دشمنی یا ناراضگی میں اضافہ ہوا ہے۔پولیس تھانوں میں نوجوان کی بار بار طلبی،، گرفتاریوں ، رہائیوں اوراس کے بعد سرنو گرفتاریوں سے احساسِ بیگانگی میں مزید اضافہ کردیاہے۔ سیکورٹی فورسز کے غیرجانبدارانہ استعمال سے مقامی پولیس کا سیول یا عوامی چہرہ مسخ ہونے کا خطرہ ہے اور وہ یہ فائدہ کے بجائے نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔
نوجوانوں میں شدید غصہ ،انعطاف پذیری اور دبی کچلی مزاحمت موجود ہے۔طویل لاک ڈائون ،قدغنوں،گرفتاریوں اور مین سٹریم لیڈران سمیت نظربندیوںسے عدم اطمینان بڑھ گیا ہے۔ عوام تک پہنچنے کے لئے اصلاحی سیاسی اور انتظامی اقدامات کے بجائے حکومت ڈومیسائل قانون لا کر اور ایک حد بندی کمیشن تشکیل دے کر آئینی تبدیلیوں کو باضابطہ بنانے میں مصروف عمل ہے۔ آئینی تبدیلیوں کی جوازیت کو چیلنج کرنے والی درخواستوںکے ساتھ ہی حبس بیجا درخواستوں کوالتوا میں رکھنے پر ایگزیکٹو کو جوابدہ ٹھہرانے میں ہچکچاہٹ اور میڈیا اور انٹرنیٹ پر پابندیوں کے معاملے کوجائز قانونی چارہ جوئی سے انکار سمجھا جارہاہے۔ امید کے کھوجانے سے بنیاد پرست اور ملک دشمن عناصرکی جانب سے سبقت لینے کے خطرہ میں اضافہ ہوتا ہے۔
پاکستان جموں و کشمیر میں عدم اطمینان کا فائدہ اٹھانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ہے۔بتایاجاتا ہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوںکے تربیتی کیمپ اور لانچ پیڈ بھرے ہوئے ہیں۔ جموں کے مینڈھر اور نوشہرہ سیکٹر میں 31 مئی کو 13 دراندازوںکی ہلاکت پاکستانی ارادوں کے واضح اشارے ہیں۔ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے سرپنچ اجے پنڈیتا کے حالیہ قتل سے سیکورٹی کی صورتحال میں بہتری کے دعوئوں پر شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں۔ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں لہٰذا سیکورٹی فورسز کے ہاتھ امن و امان برقرار رکھنے ، دراندازی رونے اور اندرون جموںوکشمیر میں انسداد عسکریت آپریشن انجام دینے میںبندھے ہوئے ہوں گے۔
ماضی قریب کے واقعات سے پیدا ہوئے سیاسی خلاء میں ریاستی انتظامیہ سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ روزانہ کی شکایات کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ ترقیاتی سرگرمیوں سمیت اعتماد سازی کے اقدامات کا آغاز کرے۔ سچ ہے کہ کووڈ۔19 کی وجہ سے انتظامیہ کی توجہ کا مرکز تبدیل ہوا ہے۔ اس پرانہیں قصور وار نہیں ٹھہرایاجاسکتا ہے لیکن جموں کے محفوظ ماحول سے دور سے سیکورٹی کی وقوع پذیز ہو رہی صورتحال کو دور سے نہیں سنبھالا جاسکتا ہے۔ یونین ٹریٹری میں کورونا معاملات اور اموات کا تین چوتھائی حصہ کشمیر سے ہے۔ ایک سیاسی خلا کے تحت جکڑے ہوئے ’تھیٹر آف ایکٹیویٹی‘ کو مسلح فورسز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاگیاہے۔ سری نگر میں گرمائی دارالحکومت کو علامتی طور دوبارہ کھولنے کے بعد بیشتر سرکاری حکام جموں سے کام کررہے ہیں۔ سیکرٹریٹ 6 جولائی کوسرینگر میںکھلنے کے باوجودملازمین کی تعیناتی’جو جہاں ہے ،وہیںرہے گا‘کی بنیاد پر جاری رہے گی۔ کچھ بااثر حلقوں نے موسم گرما کے دوران سری نگر سے ’’ دربار ‘‘ کے چلنے کو محدود کرنے کے لئے وبائی مرض کو بطور کور استعمال کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
جاریہ سیاسی خلاء میں ایک سیاسی متبادل کے طور مساجد قدرتی طور پر اس خلا کو پْر کریں گی۔ سرینگر کے نواکدال علاقے میں انسداد عسکریت کارروائی میں حالیہ دنوں جن 19 خاندانوں کے گھروں کو نقصان پہنچاتھا،اُن کے نقصانات کی بھرپائی کیلئے سرکار سے معائوضہ طلب کرنے کی بجائے ایک محلہ کمیٹی کی جانب سے ایک ہفتے میں 3 کروڑ روپے کے عطیات جمع کرنے سے یہ اعتماد کا فقدان عیاں ہوجاتا ہے۔انتظامیہ کے تئیں عوامی سطح پر عدم اعتماد کی اور بھی بہت سی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔
اگست 2019 کے بعد سے پوری یونین ٹریٹری میں تجارت اور صنعت کو بے حد نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ کووڈ نے سیاحت اور مذہب سے منسلک معیشت کو بھی ختم کردیا ہے۔ انٹرنیٹ پر جزوی پابندیوں نے تجارت اور صحت کے بنیادی ڈھانچے اور تعلیمی اداروں کے کام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ بڑے پیمانے پر پرامن جموں صوبے میں اس طرح کی پابندیاں سمجھ سے باہر ہیں۔ اب وقت ہے کہ شہریوں پر مرکوز طرز حکمرانی اور تنظیم نو کے وقت کئے گئے ہمہ جہت ترقی کے وعدے کو پورا کرنے کی طرف کام کیاجائے۔ انتظامیہ کو وادی میں نظرانداز کرنے اور محرومی کے بڑھتے ہوئے تاثر کو تیزی سے ختم کرنے کی ضرورت ہوگی۔ لیفٹیننٹ گورنر اور ان کی ٹیم کو زمینی صورتحال کی بنیاد پر روزانہ کی فیصلہ سازی کا مکمل اختیار دیا جانا چاہئے۔ الجھنوں کے اشاروں سے بچنے کے لئے اُنہیں مرکز سے واحد نقطہ رابطہ بھی رکھنا چاہئے۔
جنوبی کشمیر میں عسکری صفوں میں مقامی بھرتیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ وادی میں مارے جانے والے عسکریت پسندوںکی اکثریت مقامی نوجوانوں کی ہے ، جن میں سے کچھ پچھلے کچھ ہفتوں یا مہینوں میں عسکری صفوں میں شامل ہوئے تھے۔ خصوصی حیثیت کے خاتمہ پر وہ ’شدید صدمہ ‘میں ہیں۔ اس طرح کی بدگمانیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلح وردی پوش فورسز کو پابندیوں ، گرفتاریوں اور نظربندیوں کے ذریعے اس طرح کے حالات اکیلے سنبھالنے کیلئے چھوڑدینا خطرناک نتائج سے خالی نہیں ہے۔
فضاء میںخوفناک اور پُر خطر بیزاری ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ سیاسی اور انتظامی رابطوں کے ذریعے صورتحال کوواپس بحال کیا جائے۔ایک سیاسی خلا میں اور متحرک سول بیک اپ کی عدم موجودگی میںفورسزکو ایک مشکل چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ عسکری تشدد کو صرف قابل انتظام یا قابل کنٹرول سطح پر لاسکتے ہیں اور صورتحال کو سیاسی سرگرمیوں کیلئے موزوں بناسکتے ہیں۔ اگر یہ اقدامات نہ اٹھائے جائیں تو امن خیال ِ خام ہی رہے گا اور امن کبھی لوٹے گا نہیں۔
( مضمون نگار جموں وکشمیر کے سابق پولیس سربراہ اور قومی سلامتی کے مشاورتی بورڈکے ممبر رہ چکے ہیں،مضمون بشکریہ ’ڈی ٹربیون، چنڈی گڑھ)