۔ 2دہائیوں میں83ہزار کنال جنگلاتی اراضی کی کمی ریکارڈ، آگ سے 952ہیکٹر تباہ
بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر میں ماحولیاتی صورتحال مسلسل بگڑتی جا رہی ہے اور گزشتہ2دہائیوں کے دوران جنگلاتی رقبے میں واضح اور تشویشناک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مختلف سرکاری اور تحقیقی رپورٹوںکے مطابق اس کمی کی بنیادی وجوہات میں غیر قانونی تجاوزات، ترقیاتی منصوبوں کیلئے بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی جنگلاتی آگ شامل ہیں۔فارسٹ سروے آف انڈیا اور دیگر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2001 سے 2023 کے دوران جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر تقریباً 4,190 ہیکٹر یعنی 82,830 کنال جنگلاتی رقبہ متاثر ہوا ہے۔ اسی مدت میں مجموعی جنگلاتی علاقوں میں 40.61 مربع کلومیٹر کی کمی بھی ریکارڈ کی گئی ، جو خطے کے ماحولیاتی نظام کے لیے ایک سنگین اشارہ ہے۔رپورٹ کے مطابق خطے میں جنگلاتی زمین پر غیر قانونی تجاوزات بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جہاں تقریباً 3.86 لاکھ کنال جنگلاتی زمین مختلف علاقوں میں غیر قانونی قبضے میں ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف جنگلاتی وسائل کو کمزور کر رہی ہے بلکہ قدرتی آبی ذرائع، زمین کے استحکام اور حیاتیاتی تنوع پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔اسی طرح ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی وسیع پیمانے پر جنگلات کی کٹائی کی گئی ۔ سڑکوں کی تعمیر، ریلوے لائنوں، دریا کنارے منصوبوں، ہائیڈرو پاور پروجیکٹ اور شہری توسیع منصوبوں کیلئے ہزاروں درخت کاٹے گئے ہیں۔سیاحتی مراکز جیسے گلمرگ، پہلگام اور سونہ مرگ میں ہوٹلوں اور انفراسٹرکچر کی توسیع نے بھی جنگلاتی رقبے کو متاثر کیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق گلمرگ میں تقریباً 727 ہیکٹر جنگلاتی رقبہ مجموعی طور پر 198 ترقیاتی منصوبوں سے متاثر ہوا۔
جموں ڈویژن میں 21,000 سے زائد درختوں کی کٹائی کی اجازت دی گئی، جن میں سے 8,150 درخت پہلے ہی کاٹے جا چکے ہیں۔جموں،کٹرہ ایکسپریس وے کیلئے 36 ہیکٹر جنگلاتی زمین استعمال ہوئی، جبکہ رائیکا،باہو میں زیر تعمیر ہائی کورٹ کمپلیکس منصوبے کے باعث تقریباً 40 ہیکٹر میں 38,000 درختوں کی کٹائی کی نشاندہی کی گئی ہے۔سرینگر رنگ روڈ منصوبے نے بھی بڑے پیمانے پر درختوں کو متاثر کیا ، جہاں تقریباً 1.10 لاکھ نجی درخت کاٹے گئے، جن میں چنار، اخروٹ اور شہتوت جیسے درخت شامل ہیں۔ مختلف دیگر بڑے منصوبوں میں مجموعی طور پر 2.14 لاکھ سے زائد درختوں کی کٹائی کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو خطے کے قدرتی ماحول پر بھاری دباؤ ہوگا۔جنگلاتی آگ کی صورتحال بھی تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔ صرف نومبر 2023 سے جون 2024 کے درمیان 4,156 آگ کے واقعات رپورٹ ہوئے، یعنی اوسطاً روزانہ 17 واقعات، مختلف ادوار میں مجموعی طور پر ہزاروں ہیکٹر جنگلات آگ کی نذر ہوئے، جن میں 2001 سے 2023 کے دوران تقریباً 952 ہیکٹر صرف آگ سے تباہ ہوئے۔سال 2023-24کے دوران مجموعی طور پر 281 جنگلاتی آگ کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن کے نتیجے میں تقریباً 371.49 ہیکٹر جنگلاتی رقبہ متاثر ہوا۔ 2024-25میں صورتحال مزید خراب ہو گئی، جب آگ کے واقعات کی تعداد بڑھ کر 1,135 تک پہنچ گئی اور ان کے نتیجے میں تقریباً 3,154.90 ہیکٹر جنگلاتی رقبہ متاثر ہو۔اسی طرح 2025-26کے ابتدائی یا عبوری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 419 مزید جنگلاتی آگ کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن سے تقریباً 668.85 ہیکٹر رقبہ متاثر ہوا ہے جبکہ 3,230 ہیکٹر دیگر عوامل سے متاثر ہوئے۔موسمیاتی ماہرین کے مطابق جنگلات کی یہ مسلسل کمی براہ راست موسمیاتی تبدیلی سے جڑی ہوئی ہے۔ ماحولیاتی ماہر ڈاکٹر فرحین جاوید ملک کا کہنا ہے’’خطے میں برفباری کے طریقہ کارمیں تبدیلی، غیر معمولی گرم سردیاں، بارشوں کے غیر متوقع رجحانات اور خشک سالی کے وقفوں میں اضافہ واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو ماحولیاتی عدم توازن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔‘‘انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر فوری طور پر جنگلات کے تحفظ، غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے اور غیر منصوبہ بند ترقیاتی سرگرمیوں پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے برسوں میں جموں و کشمیر شدید ماحولیاتی بحران، پانی کی قلت اور قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔