عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی کے چھٹے یوم تاسیس کے موقع پر، پارٹی سربراہ، سید الطاف بخاری نے ساتھیوں، لیڈروں اور کارکنوں کو مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ اعتماد سازی کے اقدامات بشمول لوگوں کے ساتھ بامعنی بات چیت کرے تاکہ جموں کشمیر اور ملک کے درمیان موجود عدم اعتماد کی خلیج کا پاٹنے میں مدد مل سکے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اپنی پارٹی نے ایران پر حملے کے تناظر میں طے شدہ پروگرام ملتوی کردیئے ہیں۔ بخاری نے کہا ہماری جماعت کا قیام 8 مارچ 2020 کو ایک ایسے وقت میں عمل میں آیا، جب جموں کشمیر کے لوگ 5 اگست 2019 کے واقعات کی وجہ سے ایک مشکل ترین دور سے گزر رہے تھے۔ جموں و کشمیر نہ صرف اپنی خصوصی آئینی حیثیت اور ریاست کا درجہ کھو چکا تھا بلکہ اسے دو یونین ٹریٹریز میں منقسم بھی کیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے یہاں کی علاقائی سیاسی جماعتوں اور ان کے لیڈروں نے خاموش رہنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔انہوں نے مزید کہا ہم خیال افراد کا ایک گروپ، جس میں زیادہ تر سابق اراکین اسمبلی اور وزرا شامل تھے، اکٹھے ہوئے اور آزمائش کے دور میں اپنے عوام کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح سے اپنی پارٹی کا قیام عمل میں آیا۔ ہم نے لوگوں کو اپنی زمینوں اور سرکاری ملازمتوں پر خصوصی حقوق کو برقرار رکھا، ہزاروں قیدیوں کی رہائی یقینی بنانے میں بھی کامیاب ہوئے۔ اس موقعے پر عوام کے سامنے اپنے وعدے کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں، اپنی پارٹی جموں کشمیر میں پائیدار امن و استحکام، دائمی خوشحالی اور یکساں ترقی کیلئے اپنی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔انہوں نے مزید کہا، چونکہ آج خواتین کا عالمی دن بھی ہے، میں جموں و کشمیر میں خواتین کو سماجی، معاشی اور تعلیمی لحاظ سے با اختیار بنانے کیلئے اپنی پارٹی کی جدوجہد کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔ خواتین کو با اختیار بنائے بغیر اور سماج میں انہیں ایک فعال کردار ادا کرنے کے مواقعے فراہم کے بغیر ہمارا معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا ہے۔