سرینگر// نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے جموںوکشمیر میں آر ایس ایس کے ایجنڈا کو عملانے اور آئے روز لئے جارہے عوام کُش فیصلوں پر حکومت اور انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا محسوس ہورہاہے کہ بھگوا جماعتوں کی مرضی کے بنا یہاں ایک فیصلہ بھی نہیں لیا جارہا ہے۔ انہوں نے ریاستی اور مرکزی حکومتوں کو ہوشیار کیا کہ یہ طریقہ کار کسی بھی صورت میں سود مند نہیں اور ایک نہ ایک دن اس کے منفی اثرات ضرور سامنے آئیں گے ، جن کو قابو کر پانا انتہائی مشکل ہوگا۔ ایک بیان کے مطابق ان باتوں کا اظہار انہوں نے شیر کشمیر بھون جموںمیں پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ 5اگست 2019 سے لیکر آج تک جموں وکشمیر کو مسلسل اندھیروں میں دھکیلا جارہا ہے اور آئے روز عوام کش فیصلے لئے جارہے ہیں۔ گذشتہ ڈیڑھ سال سے تینوں خطوں میں غیر یقینیت چھائی ہوئی ہے اور ہر طبقے کے لوگ نئی دلی کے فیصلوں پر نالاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ370کا خاتمہ کرنے کیلئے پروپیگنڈا کیا گیا کہ جموں وکشمیر ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو جائے گا لیکن سب کچھ جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوا۔ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن سلب کئے جانے سے یہا ں کی تعمیر و ترقی مکمل طور پر ماند پڑھ گئی اور سب سے بڑھ کر تینوں خطو ں کے عوام کا اعتماد اور بھروسہ تار تار کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ 5اگست کے فیصلوں نے اگر کچھ کیا تووہ صرف اور صرف ہندوستان اور جموں وکشمیر کے عوام میں دوریاں ہیں ، مرکزی حکومت نے 5اگست 2019کو جو خلیج پیدا کی وہ ہر گزرتے دن کیساتھ وسیع سے وسیع تر ہوتی جارہی ہے اور نئی دلی میں بیٹھے تھنک ٹینک کو اس صورتحال کو وقت رہتے ہوئے بانپ لینا چاہئے اور فوراً سے پیش جموں وکشمیر کے عوام کا اعتماد اور بھروسہ بحال کرنے کیلئے خصوصی پوزیشن ختم کرنے کے فیصلوں کو منسوخ کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ تینوں خطوںمیں ایسے افسران مسلط کئے گئے جو یہاں کے حالات مکمل طور پر نابلد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسلم اکثریتی ریاست میں 90فیصد غیر مسلم افسران کی تعیناتی حکومت کی تنگ نظری اور فرقہ پرستی کی عکاسی کرتی ہے۔